بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

حضرت ابراہیم بن ادھمؒ جو وقت کے بادشاہ تھے مگر سب چھوڑ کر اللہ کی راہ میں نکل پڑے تھے کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: حضرت! میں گناہوں سے بچنا چاہتا ہوں مگر نفس قابو میں نہیں آتا، مجھے کوئی ایسی نصیحت کریں کہ میں گناہ چھوڑ دوں۔
آپؒ نے مسکرا کر فرمایا: بھائی! اگر تم نے گناہ کرنا ہی ہے تو یہ پانچ شرطیں پوری کر لو، پھر جو چاہو کرو:
جب گناہ کرو تو اللہ کا دیا ہوا رزق مت کھاؤ۔
جب گناہ کرنا ہو تو اللہ کی بنائی ہوئی زمین سے باہر نکل جاؤ۔
گناہ ایسی جگہ کرو جہاں اللہ تمہیں دیکھ نہ رہا ہو۔
جب موت کا فرشتہ حضرت عزرائیلؑ آئے تو اسے کہنا کہ مجھے تھوڑی مہلت دے دو۔
جب کل قیامت کو فرشتے تمہیں جہنم کی طرف لے جانے لگیں تو ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دینا۔
وہ شخص تڑپ اٹھا اور کہنے لگا: حضرت! یہ کیسے ممکن ہے؟ رزق بھی اس کا ہے، زمین بھی اس کی ہے اور اس کی نظر سے چھپنا بھی ممکن نہیں۔ اسی وقت اس نے سچی توبہ کی اور نیک بن گیا۔



سبق: اللہ کی نعمتوں کا احساس انسان کو نافرمانی سے روک سکتا ہے

Leave a Reply

NZ's Corner