ایک گاؤں کے کنارے ایک پرانا کنواں تھا جس سے پورا گاؤں پانی لیتا تھا۔ کنویں کے پاس ایک مینڈک رہتا تھا جو ہر آنے جانے والے کو دیکھتا رہتا۔
ایک دن مینڈک نے دیکھا کہ کنویں کی دیوار میں دراڑ پڑ گئی ہے اور پانی آہستہ آہستہ رس رہا ہے۔ اسے خطرہ محسوس ہوا۔
وہ سب سے پہلے ہرن کے پاس گیا اور بولا،
“کنویں میں دراڑ پڑ گئی ہے، اگر مرمت نہ ہوئی تو پانی ختم ہو جائے گا۔”
ہرن نے لاپرواہی سے کہا،
“میں تو جنگل کے چشموں سے پانی پی لیتا ہوں، یہ میرا مسئلہ نہیں۔”
مایوس مینڈک پھر گائے کے پاس گیا۔
گائے نے کہا،
“میرے مالک کے پاس الگ کنواں ہے، مجھے کیا فکر؟”
آخر وہ مرغابی کے پاس گیا جو روز کنویں میں تیرتی تھی۔
مرغابی ہنس کر بولی،
“پانی تو ابھی بہت ہے، فکر کی کیا بات ہے؟”
کچھ دن بعد شدید بارش ہوئی۔ دراڑ اور پھیل گئی، کنواں بیٹھ گیا اور سارا پانی زمین میں جذب ہو گیا۔
اب نہ جنگل کے چشمے بچے، نہ کھیتوں میں نمی رہی، نہ کسی کے پاس پینے کو پانی تھا۔ ہرن پیاس سے نڈھال ہو گیا، گائے دودھ دینا بند ہو گئی اور مرغابی اڑ کر کہیں اور چلی گئی۔
مینڈک، جو شروع سے خطرہ دیکھ رہا تھا، کنواں چھوڑ کر پہلے ہی محفوظ جگہ جا چکا تھا۔
سبق:
جو خطرہ آج کسی ایک کا ہے، وہ کل سب کا بن سکتا ہے۔
مسئلے کو نظرانداز کرنا دانشمندی نہیں، بلکہ اجتماعی تباہی کی دعوت ہے۔
جب کوئی آواز دے، تو اسے کمزور نہ سمجھیں—کیونکہ کل وہ آواز ہماری بھی ہو سکتی ہے
