بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

ایک مرتبہ جنگل میں بادشاہت کے خاتمے کا اعلان ہوا اور طے پایا کہ اب “جمہوریت” آئے گی، یعنی جانور خود اپنا لیڈر چنیں گے۔ پورے جنگل میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ اب ان کی تقدیر بدلے گی۔
امیدواروں میں ایک طرف ایک محنتی بیل تھا جو سارا دن ہل چلاتا تھا اور دوسری طرف ایک چرب زبان کتا تھا جو لومڑیوں اور بھیڑیوں کا منظورِ نظر تھا۔
الیکشن سے چند دن پہلے، کتے نے لومڑی کے مشورے پر ایک عجیب چال چلی۔ اس نے جنگل کے غریب ترین علاقوں (چوہوں، خرگوشوں اور بکریوں کے علاقوں) میں جا کر “مفت ہڈیاں” اور “ایک ایک دن کی گھاس” بانٹنا شروع کر دی جو اس نے بڑے بڑے شکاریوں سے ادھار لی تھی۔
بندروں نے (جو میڈیا کا کردار ادا کر رہے تھے) شور مچا دیا: “دیکھو! کتا کتنا سخی ہے، وہ تو اپنے پاس سے سب کو کھانا کھلا رہا ہے۔ بیل تو بہت بورنگ ہے، وہ تو صرف کام کی باتیں کرتا ہے!”
الیکشن کی رات ایک اور تماشہ ہوا۔ جب ووٹوں کی گنتی کا وقت آیا تو اچانک جنگل میں “اندھیرا” کر دیا گیا۔ جب روشنی واپس آئی تو پتہ چلا کہ بیل کے زیادہ تر ووٹ “تکنیکی خرابی” کی وجہ سے ضائع ہو گئے ہیں اور کتا بھاری اکثریت سے جیت گیا ہے۔
کتا لیڈر بن گیا، لیکن اگلے ہی دن اس کا رویہ بدل گیا۔ جن خرگوشوں کو اس نے گھاس دی تھی، اب اس نے ان کے کھیتوں پر بھاری ٹیکس لگا دیا تاکہ وہ شکاریوں کا قرضہ اتار سکے۔ جب جانوروں نے احتجاج کیا تو کتے نے اپنے وفادار بھیڑیوں کو آگے کر دیا جنہوں نے دھمکی دی کہ: “جو شور مچائے گا، وہ جنگل کا دشمن کہلائے گا!”
آخر میں ایک بوڑھے الو نے، جو درخت کی شاخ سے سب دیکھ رہا تھا، کہا:
“تم نے اپنا ووٹ ایک دن کی گھاس کے بدلے بیچ دیا، اب پانچ سال تک اپنی کھال کھنچوانے کے لیے تیار رہو!”

“جمہوریت وہ خوبصورت خواب ہے جسے دکھا کر غریب سے اس کا جوتا بھی چھین لیا جاتا ہے۔”

Leave a Reply

NZ's Corner