ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک جنگل میں بندروں کی حکومت آگئی۔ ان بندروں کا سردار بہت خوش اخلاق اور اچھا تقریر باز تھا۔ اس نے جانوروں سے وعدہ کیا کہ وہ جنگل کو “پیرس” بنا دے گا اور ہر طرف پھلوں کے باغ ہوں گے۔
لیکن بندر سردار کا ایک مسئلہ تھا؛ وہ محنت کرنے کے بجائے شارٹ کٹ پر یقین رکھتا تھا۔ اس نے پھل اگانے کے بجائے دوسرے طاقتور جنگل کے گدھوں سے دوستی کر لی۔
گدھوں نے بندر کو پیشکش کی: “تمہیں محنت کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ ہم تمہیں بنے بنائے پھل دیں گے، بس تم بدلے میں اس جنگل کی لکڑی اور زمین ہمارے نام لکھ دو اور ہم سے ‘قرضہ’ لے لو۔”
بندر نے یہ سوچے بغیر کہ واپسی کیسے ہوگی، بہت سارا قرضہ لے لیا۔ اس نے کچھ پیسہ تو جنگل کی سجاوٹ (دکھاوے کے منصوبوں) پر خرچ کیا اور باقی سارا پیسہ اپنی بندر بانٹ میں اپنے ساتھیوں کو دے دیا، جنہوں نے وہ سارا سرمایہ سمندر پار دوسرے جزیروں میں چھپا دیا۔
کچھ سال گزرے، قرضہ بڑھ گیا اور سود اتنا زیادہ ہو گیا کہ جنگل کے پاس اب گدھوں کو دینے کے لیے کچھ نہ بچا۔ اب گدھوں نے اپنی شرائط منوانا شروع کیں:
1. “جنگل کے دریا کا پانی اب صرف ہم استعمال کریں گے۔”
2. “ہر جانور کو اب اپنے کھانے کا آدھا حصہ ٹیکس میں دینا ہوگا۔”
جانور بھوک سے بلبلانے لگے، تو بندر سردار نے ایک اور چال چلی۔ اس نے طوطوں کی ایک فوج بھرتی کی (جو سوشل میڈیا اور میڈیا کے نمائندے تھے)۔ طوطوں کا کام یہ تھا کہ وہ سارا دن یہ رٹ لگائیں:
“ہمارا سردار تو بہت ایماندار ہے، یہ سب پچھلے ہاتھیوں کی غلطی ہے جنہوں نے بہت زیادہ کھانا کھایا تھا۔ اگر آج مہنگائی ہے تو یہ ‘عالمی حالات’ کی وجہ سے ہے!”
جب بھی کوئی جانور حقیقت پوچھتا، طوطے اسے “غدار” قرار دے دیتے۔ آخر کار، جنگل کی حالت یہ ہو گئی کہ بندر اور اس کے ساتھی تو موٹے ہو کر دوسرے جزیروں پر شفٹ ہو گئے، لیکن بیچارے عام جانور اب بھی گدھوں کا قرضہ اتارنے کے لیے دن رات غلامی کر رہے ہیں۔
اگر آپ کو ہماری پوسٹ/کہانیاں پسند آتی ہیں تو لائک اور شئیر ضرور کریں
