بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!


قریش کے نامی گرامی سردار ولید بن مغیرہ کا ایک بیٹا غیر معمولی اوصاف کا حامل تھا۔ لمبے قد، مضبوط جسم، عقابی نگاہ، جنگی و سیاسی چالوں کا ماہر، تلوار کا دھنی، لڑائی کے داؤ پیچ کا گرو، نڈر، بے خوف، فنِ حرب کا جادو گر، شعلہ بیان خطیب، شریف النفس اور ذہین و فطین اس انسان کو دنیا خالد بن ولید ؓ کے نام سے جانتی ہے۔

آپ کا بچپن، بچپن سے لڑکپن، لڑکپن سے نوجوانی، نوجوانی سے جوانی تک کی زندگی کا اکثر حصہ لڑنے بھڑنے، جنگی مہارت حاصل کرنے اور سیکھنے سکھانے میں گزرا۔ جاہلیت میں اسلام کا مخالف ہوکر بہت سی لڑائیاں لڑی ہیں مگر سوائے احد کے اور کسی میں بھی کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ خود فرمایا کرتے تھے:

“اسلام قبول کرنے سے پہلے میں تقریباً ہر معرکے میں نبی کریم ﷺ کے سامنے نئے عزم اور ولولے کے ساتھ آتا، لیکن ہر مرتبہ کچھ اس طرح میرے دل پر آپ ﷺ کا رُعب و دبدبہ طاری ہوتا کہ میرے حوصلے پست ہو جاتے اور مجھے یوں محسوس ہوتا کہ جیسے کوئی غیبی طاقت آپ ﷺ کی حفاظت فرما رہی ہے۔ پس مجھے یقین ہو گیا کہ یہ لوگ پوری دنیا پر غالب آ جائیں گے۔”
(طبقات ابنِ سعد)

اسی طرح ماہ و سال گزرتے رہے۔ یہاں تک کہ عمر چالیس برس سے تجاوز کرگئی۔ ایک دن ان کے بھائی ولید بن ولید جو مسلمان ہوچکے تھے، نے ایک خط اپنے بھائی خالد کو لکھا۔ بھائی نے خط میں کہا:

“اے میرے پیارے بھائی جان! رسول اللہﷺ نے مجھ سے دریافت کیا کہ خالد کہاں ہے؟ میں نے عرض کیا یارسول اللہﷺ، ان شاء اللہ وہ بہت جلد آپ کے قدموں میں ہوگا۔”

خود کہتے ہیں کہ: “اس خط کے بعد، ایک دن میں نے خواب دیکھا کہ میں تنگ و تاریک، بھیانک جگہ سے ایک سرسبز و شاداب اور کُھلے میدان کی طرف جا رہا ہوں۔ میری آنکھ کُھلی تو میری دنیا بدل چُکی تھی۔”

کہتے ہیں: میں نے عثمان بن طلحہؓ سے مدینہ جانے کا کہا تو وہ خوشی خوشی میرے ساتھ جانے پر رضا مند ہوگئے اور ہم اللہ کی راہ میں نکل کھڑے ہوئے۔ ابھی ہم کچھ ہی دُور گئے تھے کہ ہمیں عمرو بن عاصؓ بھی مل گئے، وہ بھی اسی مقصد کے لیے مدینہ جا رہے تھے۔ چنانچہ ہم نے اپنے آپ کو بارگاہِ رسالت ﷺ میں پیش کر دیا۔ سرکارِ دو عالم ﷺ نے فرطِ محبّت سے صحابہ کرامؓ سے فرمایا “مکّہ نے اپنے جگر گوشے تمہاری جانب پھینک دیے ہیں۔” میرے اسلام قبول کرنے پر آپ ﷺ نے فرمایا: “خالدؓ! تمہاری عقل و دانش اور فہم و فراست کی بنا پر مجھے قوی اُمید تھی کہ تم ایک نہ ایک دن ضرور مسلمان ہو جاؤ گے۔”

آپ کا تعلق قریش کے معزز قبیلے بنو مخزوم سے تھا، جو اپنی جنگی مہارت کے لیے مشہور تھا۔ آپ نے 8ھ میں صلحِ حدیبیہ کے بعد اور فتحِ مکہ سے قبل مدینہ جا کر اسلام قبول کیا۔

اسلام قبول کرنے کے بعد آپ حضرت زید بن حارثہ ؓ کی قیادت میں رومیوں کے خلاف جنگ کرنے کے لیے موتہ تشریف لے گئے۔ رومی لشکر کم و بیش ایک لاکھ سپاہیوں پر مشتمل تھا۔ بہت خون ریز جنگ ہوئی۔ اسلامی فوج کے سپہ سالار زید بن حارثہ ؓ شہـ ـید ہوگئے۔ اس کے بعد جعفر طیار ؓ نے جھنڈا تھاما، وہ بھی شہـ ـید ہوگئے۔ پھر عبداللہ بن رواحہ ؓ  نے جھنڈا اٹھایا، وہ بھی شہـ ـید ہوگئے۔ اسلامی لشکر بہت مشکلات میں گِھر چکا تھا۔ آخر لوگوں نے آپ کو اپنا سپہ سالار منتخب کیا۔ آپ نے ایک بھرپور تقریر کی اور پورے لشکر میں نئی روح پھونک دی۔ پھر ایسا زور دار حملہ کیا کہ رومیوں کی لاشوں کے ڈھیر لگا دیے۔ اس ہولناک جنگ میں آپ نے اس شدت سے لڑائی کی کہ آپ کے ہاتھ میں نو تلواریں ٹوٹ گئیں۔ فرماتے ہیں آخر میں میرے پاس ایک چھوٹی سی یمنی تلوار باقی رہ گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی قیادت میں اسلامی لشکر کو باحفاظت واپس مدینہ پہنچا دیا۔

نبی کریم ﷺ کو بذریعہ وحی اس واقعہ کا علم ہوچکا تھا۔ چنانچہ آپ نے اصحاب کے سامنے فرمایا:

“پہلے جھنڈا زید نے لیا، وہ شہـ ـید ہوگئے۔ پھر جھنڈا جعفر نے لیا، وہ بھی شہـ ـید ہوگئے۔ پھر جھنڈا عبداللہ بن رواحہ نے لیا، وہ بھی شہـ ـید کردیے گئے۔” یہ کہتے ہوئے آپ ﷺ آبدیدہ ہوگئے۔ “یہاں تک کہ جھنڈا ایسے شخص نے لیا جو اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے اور ایسی جنگ لڑی کہ اس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ نے فتح عطا فرمائی۔”
اسی جنگ کے بعد آپ کو نبی کریم ﷺ کی طرف سے “سیف اللہ” کا لقب عطا ہوا۔

حضرت خالد بن ولیدؓ نے سو سے زائد جنگوں میں حصہ لیا اور اپنی پوری زندگی میں کسی ایک بھی معرکے میں شکست نہیں کھائی۔

حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں آپ نے فتنہ ارتداد کے خاتمے، عراق کی فتح اور شام (رومی سلطنت) کے خلاف جنگِ یرموک میں کلیدی کردار ادا کیا۔ شام کے اندر انھوں نے دشمن پر اپنی جنگی مہارت کا ایسا سکہ بٹھایا کہ دنیا ان کو ناقابلِ شکست کہنے لگی۔ حضرت خالد بن ولید ؓ نے اپنی جنگی ٹوپی میں نبی کریم ﷺ کے چند بال محفوظ کر رکھے تھے۔ خود فرمایا کرتے تھے کہ یہ ٹوپی پہن کر جب بھی میں نے جنگ لڑی، مجھے شکست نہیں ہوئی۔

آپ ایک بہترین خطیب تھے۔ ذرا سی شعلہ بیانی سے پورے لشکر میں نئی روح پھونک دیا کرتے تھے۔ جب فارسیوں سے سامنا ہوا اور انھوں نے آپ کو مرعوب کرنے کی کوشش کی تو آپ نے پیغام بھیجا:

“میرے ساتھ ایسی قوم ہے، جسے موت اسی طرح مرغوب ہے جس طرح تمھیں شراب۔”

آپ اکثر جنگی لباس پہنے رکھتے تھے۔ بہت زیادہ زرہ پہننے کی وجہ سے آپ کے لباس پر زنگ کے نشانات بن جاتے تھے۔ کبھی کبھی دشمن کو خوف زدہ کرنے کے لیے آپ اپنے عمامے میں خون آلود تیر لگا لیا کرتے تھے۔

فرماتے تھے: “مجھے نئی نویلی دلہن کے ساتھ رات بسر کرنے سے کہیں زیادہ پسند ہے کہ میں ساری رات برفباری میں سفر کروں اور صبح صبح دشمن پر جا پڑوں۔”

لڑنا بھڑنا، دشمن سے جنگ کرنا آپ کی زندگی میں رچ بس گیا تھا۔ موت کا سامنا کرنا آپ کو ایک کھیل لگتا تھا۔ فرماتے ہیں:
“میں کبھی جنگ میں یہ سوچ کر فرار نہیں ہوا کہ اللہ تعالیٰ مجھے شہـ ـا د ت دیں گے یا پھر عزت کے ساتھ فتح۔”

آپ کو علم کا بہت شوق تھا مگر جنگی مصروفیات کی وجہ سے بہت کم وقت ملا۔ آپ کچھ عرصہ نبی کریم ﷺ کے کاتبِ وحی بھی رہے ہیں۔

جب مسلمانوں کے ہاں یہ مشہور ہوگیا کہ جس لشکر کی قیادت خالد بن ولید ؓ کریں وہ کبھی شکست نہیں کھاتا تو سیدنا عمرفاروق ؓ نے آپ کو سپہ سالاری سے معزول کردیا تاکہ لوگوں کا عقیدہ خراب نہ ہو۔ کیوں کہ فتح و نصرت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے۔ آپ معزولی کے باوجود ہر لڑائی میں جان توڑ کر لڑے اور بہترین جنگی چالیں چلی۔

جب رومیوں کے خلاف ایک جنگ میں کامیابی کی خبر ملی تو خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا تھا:
“خدا کی قسم! اب عورتیں خالد بن ولید جیسا بیٹا جننے سے عاجز آ چکی ہیں۔”

اسی طرح ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کو بعض حضرات کی طرف سے خالد بن ولید ؓ کے بارے میں کچھ مشورہ دیا گیا تو آپ نے فرمایا:
“میں اس تلوار کو کبھی میان میں نہیں ڈالوں گا جسے اللہ نے کافـ ـروں کے خلاف میان سے نکالا ہے۔”

جب حضرت خالد بن ولید عراق کے شہر حیرہ (Al-Hirah) میں موجود تھے، تو وہاں کے عیسائیوں یا فارسیوں نے آپ سے کہا کہ ہمارے پاس ایک ایسا مہلک زہر ہے جو انسان کو فوراً ہلاک کر دیتا ہے۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے وہ زہر منگوایا، اسے اپنی ہتھیلی پر رکھا اور “بسم اللہ” پڑھ کر اسے پی لیا۔ اللہ کے حکم سے اس زہر نے آپ پر کوئی اثر نہیں کیا، جسے دیکھ کر دشمن دنگ رہ گئے اور اسے آپ کی سچائی اور اسلام کی حقانیت کی علامت قرار دیا۔

بعض محدثین اس واقعے کی سند پر بحث کرتے ہوئے اسے “ضعیف” یا “منقطع” قرار دیتے ہیں، جبکہ دیگر اسے صحابی کی ایک عظیم کرامت اور اللہ پر ان کے کامل توکل کی مثال مانتے ہیں۔

یہ واقعہ حضرت خالد بن ولیدؓ کا ایک مخصوص اور غیر معمولی معاملہ تھا۔ عام حالات میں کسی کے لیے بھی جان بوجھ کر زہر پینا یا خود کو خطرے میں ڈالنا اسلام میں سختی سے منع ہے۔

جب حضرت خالد بن ولیدؓ عراق کے علاقے میں تھے، تو آپ کے سامنے ایک شخص کو لایا گیا جس کے پاس ایک مشکیزہ یا برتن تھا جس میں شراب تھی۔ آپ کو اس وقت شہد کی بہت طلب ہو رہی تھی۔ آپ نے اسے دیکھ کر اللہ سے دعا کی: “اے اللہ! اسے شہد بنا دے۔”
وہ شراب اسی وقت اللہ کے حکم سے خالص شہد میں تبدیل ہو گئی۔ یہ آپ کی کرامت تھی۔

حضرت خالد بن ولید ؓ ایک معجزاتی انسان تھے۔ دنیا کے عظیم ترین سپہ سالاروں میں آپ کا بلند ترین مقام ہے۔ آپ نے جتنی بھی جنگیں لڑی ہیں کسی میں شکست نہیں کھائی۔ آج بھی دنیا آپ کی زندگی، جنگی چالوں اور کامیابیوں پر تحقیقات کر رہی ہے۔

آپ کی وفات 21 ھجری (642ء) میں ملکِ شام کے شہر حمص میں ہوئی۔ بوقتِ وفات آپ کو اس بات کا رنج تھا کہ جسم پر کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں زخم نہ ہو، پھر بھی شہـ ـا د ت کے بجائے بستر پر موت آرہی ہے۔

جب دنیا کے اس عظیم الشان سپہ سالار اور مایہ ناز صحابی رسول ﷺ نے انتقال کیا تو عالمِ اسلام میں کہرام مچ گیا۔ مرد و خواتین، غلام اور باندیاں بھی آپ کی موت پر رو پڑیں۔ مدینہ منورہ میں ایک باندی نے آپ کی وفات پر کہا:

“اے خالد! جب مردوں کے چہروں کا رنگ بدل جاتا، تو آپ اکیلے دس لاکھ سے زیادہ کار آمد ثابت ہوتے تھے۔”

سیدنا عمرفاروق ؓ نے جب باندی کی یہ بات سنی تو فرمایا:
“بالکل سچ کہا۔ بے شک وہ ایسے ہی تھے۔”
رضی اللہ تعالیٰ عنہ

کبھی اے نوجوانِ مسلم! تدبر بھی کیا تونے؟
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے ٹوٹا ہوا تارا

تجھے اُس قوم نے پالا ہے آغوشِ محبت میں
کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاجِ سرِ دارا

Leave a Reply

NZ's Corner