مراثی نے نئی گرم چادر لی
اور کندھے پہ رکھ کر گاؤں کی چوپال میں جا بیٹھا
نمبردار نے چادر دیکھی تو اپنے بیٹے کی بارات میں استعمال کے لئے مانگ لی
بارات گاؤں سے نکلی تو چادر دلہے کے کندھے پر تھی🤠
بارات کو دیکھ کر ایک شخص نے پوچھا
بارات کس کی ہے؟
مراثی جھٹ سے بولا👻
بارات نمبرداراں دی اے تے!
چادر میری اے🤣
چودھری کے لوگوں نے مراثی کی دھلائی کر دی کہ یہ بتانے کی کیا ضرورت تھی؟
بارات تھوڑی اور آگے گئی
تو سامنے آتے ایک شخص نے پوچھا👽
بارات کس کی ہے؟
مراثی جلدی سے بولا😏
بارات نمبرداراں دی اے تے!
چادر وی اوہناں دی اپنی اے😂
ایک دفعہ پھر پھینٹی پڑی
کہ تو نے تو اس طرح بول کر لوگوں کو چادر کے بارے جان بوجھ کر شک ڈال دیا ہے🤔
اب جو تیسری مرتبہ راستے میں پھر کسی نے پوچھا! کہ اتنی شاندار بارات کس کی ہے؟
تو مراثی نے پوری صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے جواب دیا🤡
کہ بارات تے نمبرداراں دی ہے!!
پر چادر دا مینوں بالکل وی نئیں پتہ😋
مراثی کو پھر مار پڑی!!
کہ اس معاملے میں آئندہ منہ کھولنے کی ضرورت نہیں🙄
بارات پھر چل پڑی
کچھ دور جا کر ایک بزرگ کھڑے تھے👳♂️
انہوں نے پوچھا!
بارات کس کی ہے؟
مراثی سسکتے ہوئے بولا😢
جان چھڈو بزرگو!
نا مینوں بارات دا پتہ اے👏
نہ ای چـــــــادر دا
😂😂
