بلاعنوان۔۔۔!

بلاعنوان۔۔۔!

پرانے وقتوں کی بات ہے ایک شخص بیری کے درخت کی چھاؤں میں لیٹا ہوا آرام کررہا تھا، پکے ہوئے بیر اس کے ارد گرد گر رہے تھے، دوپہر کے بعد وہاں سے ایک مسافر  کا گزر ہوا، جس کے ساتھ اناج اور لکڑیوں سے لدے ہوئے اونٹ 🐫 تھے، اس مسافر نے تھوڑی دیر سستانے کے لیے اسی بیری کے درخت کا رخ کیا جہاں پہلے سے ایک شخص لیٹا ہوا تھا،، اونٹ والا مسافر جیسے ہی وہاں پہنچا تو پہلے سے لیٹا شخص کہنے لگا، اچھا ہوا تم یہاں آگئے، میں صبح سے یہاں بھوکا لیٹا ہوا کسی کا انتظار کررہا تھا، اب تم ایسا کرو چند پکے ہوئے بیر اٹھا کر انہیں صاف کرکے میرے منہ میں ڈال دو تاکہ میں اپنی بھوک مٹا سکوں..
اونٹ 🐫 والا شخص بڑا حیران ہوا اور کہنے لگا، او بھائی صاحب کچھ عقل کو ہاتھ مارو، تم ہٹے کٹے صحتمند ہو اور بیر تمھارے منہ کے قریب پڑے ہوئے ہیں، انہیں اٹھا کر کھانے کی بجائے کسی اور کا انتظار کررہے ہو جو تمھارے منہ میں ڈالے.

یہ بات سن کر پہلے سے لیٹا ہوا شخص کہنے لگا ” واہ! میرے والد نے سچ ہی کہا تھا..

اونٹ والا شخص یہ بات سن کر تھوڑا سا پریشان ہوا کہ پتا نہیں اس کے باپ نے کیا کہہ رکھا ہے.

اونٹ 🐫 والے نے پوچھا اچھا تمھارے باپ نے کیا کہا تھا؟؟

پہلے والا شخص کہنے لگا” میرے باپ نے کہا تھا ‘ جس شخص کے پاس اونٹ ہوں اس سے بچ کر رہنا،، یہ دنیا کے سست ترین اور کاہل لوگ ہوتے ہیں، یہ نکمے لوگ کسی کی مدد نہیں کرتے’ تو آج باپ کا کہا سچ ہوگیا…

Leave a Reply

NZ's Corner