بلاعنوان۔۔۔!

بلاعنوان۔۔۔!

*کسی گاؤں میں تین بھائی رہتے تھے۔*

ان کے گھر میں ایک درخت تھا جس پر پھل آتے تھے۔ وہ ان پھلوں کو بیچ کر دو وقت کی روٹی کماتے تھے۔

ایک دن ایک بزرگ شخص ان کے ہاں مہمان بن کر آیا۔ کھانا کم تھا اس لیے بڑا بھائی مہمان کے ساتھ کھانے بیٹھ گیا، جبکہ دونوں چھوٹے بھائی یہ کہہ کر شریک نہیں ہوئے کہ انہیں بھوک نہیں۔

مہمان کی عزت افزائی بھی ہو گئی اور کھانے کی کمی کا راز بھی چھپ گیا۔ آدھی رات کو مہمان اٹھا، جب تینوں بھائی سو رہے تھے، اور ایک آری سے وہ درخت کاٹ کر اپنی اگلی منزل کی طرف روانہ ہو گیا۔

صبح جب محلے والے جاگے، تو تینوں بھائی اس مہمان کو کوس رہے تھے، جس نے ان کے گھر کا واحد ذریعہ روزگار کاٹ ڈالا تھا۔

چند سال بعد وہی مہمان دوبارہ اس گاؤں میں آیا۔ اس نے دیکھا کہ وہی بوسیدہ گھر اب ایک عالیشان بنگلہ بن چکا تھا اور تینوں بھائیوں کے دن بدل چکے تھے۔

دراصل معاملہ کچھ یوں تھا کہ
وہ درخت جو ماضی میں ان کی زندگی کا واحد سہارا تھا، انہوں نے اسے اپنی تقدیر کا حصہ بنا لیا تھا۔
درخت کے پھل کی اُمید ختم ہونے کے بعد، گھر چلانے کے لیے، انہوں نے دوسرا ذریعہ معاش تلاش کرنا شروع کر دیا تھا، اور اللہ نے انہیں برکت دے کر کامیاب کر دیا تھا۔

یہ کہانی ان بہنوں اور بھائیوں کے لیے ہے، جن کا روزگار چلا گیا، یا پھر وہ خود کو ایک نوکری کرنے پر مجبور کر رہے ہیں، اس ڈر سے کہ اگر چھوڑ دی تو کیا ہوگا۔
دراصل
یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جب دنیا کے اسباب میں سے کوئی دروازہ بند ہو جاتا ہے، تو ہماری زندگی میں ایک زلزلہ آجاتا ہے۔ ہم سمجھنے لگتے ہیں کہ اب سب کچھ ختم ہو گیا۔ حالانکہ یہ کسی نئی شروعات کا پیغام ہوتا ہے۔

انسان کی فطرت ہوتی ہے کہ وہ جس بھی مقام پر ہوتا ہے، وہ اسے چھوڑنے سے ڈرتا ہے اور اسی میں گزارا کرتا رہتا ہے۔ وہ حسرت سے دنیا کو دیکھتا ہے، مگر اپنا کمفرٹ زون چھوڑنے کی ہمت نہیں کر پاتا۔ کبھی کبھی قدرت ہمیں اس کمفرٹ زون سے نکال دیتی ہے اور ہمارا امتحان یہی بن جاتا ہے کہ ہم اس کمفرٹ زون سے باہر نکلیں۔
زندگی میں نیا قدم لینا ہے تو ضرور لیں، خدا پر بھروسہ رکھیں اور قدم آگے بڑھائیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner