کہتے ہیں ایک زمانے میں ایک چرواہا لڑکا تھا۔ وہ ہر روز اپنی بکریاں لے کر گاؤں سے دور جنگل میں چرایا کرتا تھا۔ لوگ اسے سمجھاتے کہ کہیں بھیڑیا نہ آ جائے، لیکن وہ کسی کی سنتا نہ تھا۔ اس نے ایک دن سوچا، کیوں نہ گاؤں والوں کے ساتھ تھوڑا مذاق کیا جائے۔ چنانچہ اس نے اونچی آواز میں چلانا شروع کر دیا، “بھائیو! بھیڑیا آ گیا، بھیڑیا آ گیا، میری مدد کرو!”
یہ سن کر سارے گاؤں والے ہتھیار لے کر جنگل کی طرف دوڑ پڑے۔ جب وہ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ نہ تو کوئی بھیڑیا ہے اور نہ ہی کوئی خطرہ۔ چرواہا ان کو دیکھ کر خوب ہنسا۔ لوگ بہت غصے ہوئے اور اسے سمجھا کر واپس چلے گئے۔
چند روز بعد اس نے پھر وہی شرارت کی۔ لوگ پھر دوڑے آئے، اور پھر وہاں کچھ نہ تھا۔ اس بار لوگوں نے پکّا فیصلہ کر لیا کہ یہ لڑکا جھوٹا ہے، اس کی باتوں پر یقین نہیں کرنا چاہیے۔
تیسرے دن جب لڑکا واقعی بکریاں چرا رہا تھا، ایک بھیڑیا آیا اور اس کی بکریوں پر حملہ کر دیا۔ لڑکے نے چیخنا شروع کر دیا، “بھائیو! سچ مچ بھیڑیا آ گیا، جلدی آؤ!” لیکن اس بار کسی نے اس کی طرف متوجہ نہیں کیا۔ سب نے سمجھا کہ پھر مذاق کر رہا ہے۔ بھیڑیا نے اس کی ساری بکریاں کھا لیں اور لڑکا بے بس دیکھتا رہا۔
وہ روتا ہوا گاؤں واپس آیا اور لوگوں نے اسے دیکھ کر کہا، “دیکھا! جھوٹ بولنے کا یہ انجام ہوتا ہے۔ جب کوئی ایک بار جھوٹ بولتا ہے تو لوگ اس کا اعتبار کرنا چھوڑ دیتے ہیں، چاہے وہ بعد میں سچ ہی کیوں نہ بولے۔”
اخلاقی سبق: جھوٹا انسان کبھی عزت نہیں پاتا۔ اس کی بات پر کوئی بھروسہ نہیں کرتا، چاہے وہ سچ ہی کیوں نہ بول رہا ہو۔ سچائی ہمیشہ بہترین پالیسی ہوتی ہے۔
حوالہ:
یہ کہانی ”جھوٹ کا انجام“ کے عنوان سے مشہور ہے اور مختلف ویب سائٹس پر اخلاقی کہانی کے طور پر شائع ہوتی رہی ہے۔
