بلاعنوان۔۔۔!

بلاعنوان۔۔۔!

پرانے زمانے کی بات ہے، جب سفر صرف فاصلے طے کرنے کا نام نہیں تھا بلکہ انسانوں کے باطن کو بھی آشکار کر دیتا تھا۔ چند دوست ایک طویل اور تھکا دینے والے سفر پر نکلے ہوئے تھے۔ دن بھر کی گرد، دھوپ کی تپش اور مسلسل چلتے رہنے کی تھکن ان کے چہروں سے صاف جھلک رہی تھی، مگر دلوں میں منزل تک پہنچنے کی امید ابھی زندہ تھی۔ شام کے سائے گہرے ہونے لگے تو وہ ایک چھوٹی سی بستی کے قریب پہنچے، جہاں مٹی کے گھروں کے درمیان ایک گھر ایسا تھا جس کے دروازے پر ٹھہرنے والے کو عجیب سا سکون محسوس ہوتا تھا۔ اسی گھر کا مالک ایک نیک دل، سادہ مزاج اور بے مثال مہمان نواز شخص تھا۔

اس نے مسافروں کو دیکھا تو بغیر کسی سوال کے مسکرا کر بولا، “آئیے، مسافر کبھی اجنبی نہیں ہوتے”، اور انہیں اپنے گھر لے آیا۔ اس کے لہجے میں ایسی خلوص بھری گرمی تھی کہ تھکے ہوئے قدموں کو جیسے آرام مل گیا۔ گھر پہنچتے ہی اس نے اپنی بیگم کو آواز دی، “مہمان آئے ہیں، ایک بکری ذبح کر کے اچھا سا کھانا تیار کرو”، اور خود مہمانوں کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔ وہ ان سے سفر کے قصے سنتا رہا، کبھی ہنستا، کبھی حیران ہوتا، اور کبھی خاموشی سے سنتا جیسے ہر لفظ کو دل میں اتار رہا ہو۔

وقت گزرتا گیا، اور بھوک اب ایک خاموش اذیت بن چکی تھی۔ اچانک اندر سے آواز آئی، “کھانا تیار ہے”، اور یہ الفاظ ایسے لگے جیسے کسی نے تھکے ہوئے دلوں میں جان ڈال دی ہو۔ سب دسترخوان کی طرف بڑھے۔ خوشبو واقعی دلکش تھی—ایسی کہ بھوک اور بڑھ جائے۔ سب نے جلدی جلدی کھانا شروع کیا، مگر ابھی چند ہی لقمے حلق سے اترے تھے کہ اچانک ایک شخص کے ہاتھ رک گئے۔ اس کی نظریں گوشت کے ایک ٹکڑے پر جم گئیں، جیسے وہ کسی ان دیکھے راز کو پڑھنے کی کوشش کر رہا ہو۔ پھر اس نے آہستہ مگر واضح آواز میں کہا، “یہ گوشت، کسی حرام چیز کا لگتا ہے”

یہ جملہ کمرے میں یوں گرا جیسے خاموش پانی میں پتھر پھینک دیا جائے۔ سب کی نظریں اس پر جم گئیں۔ میزبان کے چہرے پر حیرت ابھری، “یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟” مگر وہ شخص خاموش رہا، بس اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سا یقین تھا، جیسے وہ کچھ دیکھ رہا ہو جو باقی سب سے اوجھل تھا۔

میزبان کے دل میں ایک انجانا خوف جاگ اٹھا۔ وہ فوراً اندر گیا اور اپنی بیگم سے سخت لہجے میں پوچھا، “سچ بتاؤ، یہ گوشت کس کا ہے؟” بیگم نے پہلے نظریں چرائیں، پھر انکار کیا، مگر سوال جب ضمیر کی دہلیز پر دستک دینے لگے تو سچ چھپ نہ سکا۔ وہ دھیمی آواز میں بولی، “آپ نے جو بکری کل ذبح کرنے کو کہا تھا، میں نے وہ اپنے بھائی کو دے دی تھی اور آج جب آپ نے مہمانوں کے لیے کہا تو مجھے ڈر تھا کہ آپ ناراض ہوں گے، اسی لیے جو ہمسائے کا کتا آیا ہوا تھا، میں نے وہی پکا دیا”

یہ الفاظ سن کر جیسے وقت رک گیا۔ میزبان کے چہرے سے خون اتر گیا۔ وہ چند لمحے وہیں کھڑا رہا، پھر آہستہ آہستہ واپس آیا۔ دسترخوان پر خاموشی چھائی ہوئی تھی، جیسے سب کسی فیصلے کے منتظر ہوں۔ اس نے اس شخص کی طرف دیکھا اور کہا، “سچ سچ بتاؤ، تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ یہ گوشت حرام ہے؟”

اس شخص نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا، اور ہلکی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر آئی، ایسی مسکراہٹ جس میں اعتراف بھی تھا اور ایک تلخ حقیقت بھی۔ اس نے آہستہ سے کہا، “کیونکہ میں خود ایک سرائے کا مالک ہوں اور میں لوگوں کو یہی کھلاتا ہوں” وہ ایک لمحے کے لیے رکا، پھر اس کی آواز مزید گہری ہو گئی، “انسان اپنے جیسے کو پہچان لیتا ہے، چاہے وہ ذائقہ ہی کیوں نہ ہو”

یہ الفاظ سن کر کمرہ اور بھی خاموش ہو گیا۔ دسترخوان پر رکھا کھانا ٹھنڈا ہو چکا تھا، مگر اس رات ایک اور چیز تھی جو گرم ہو کر سب کے دلوں میں اتر گئی، ایک سچ، جو کسی ذائقے، کسی لفظ، کسی بہانے کے پیچھے چھپ نہیں سکتا تھا۔

اخلاقی سبق:

انسان جو دوسروں کے لیے چنتا ہے، دراصل وہی اپنے لیے بو رہا ہوتا ہے۔ نیت کا زہر کبھی نہ کبھی ظاہر ہو ہی جاتا ہے، چاہے وہ کتنی ہی خوبصورت صورت میں کیوں نہ پیش کیا جائے۔ دنیا میں سب سے بڑی پہچان الفاظ یا دعووں سے نہیں، بلکہ اعمال کے ذائقے سے ہوتی ہے اور یہ ذائقہ وہی محسوس کر سکتا ہے، جس کے اپنے ہاتھ بھی اسی سچ سے رنگے ہوئے ہوں۔

Leave a Reply

NZ's Corner