بلاعنوان۔۔۔!

بلاعنوان۔۔۔!

کہتے ہیں کہ مسیحیوں کے زوال کے زمانے میں دو پادری کسی خانقاہ میں بیٹھے شدت سے بحث کر رہے تھے۔ موضوع تھا — گھوڑے کے منہ میں دانتوں کی تعداد! ایک پادری کہتا، “بائبل کے مطابق گھوڑے کے دانت اتنے ہوتے ہیں۔”دوسرا بضد تھا، “نہیں نہیں، بائبل کی روشنی میں گنتی کچھ اور ہے!” دونوں کی بحث زوروں پر تھی کہ قریب سے ایک عام شخص گزرا۔ وہ کچھ دیر ان کی گفتگو سنتا رہا، پھر نرمی سے بولا، “حضور! اس معاملے میں بائبل کو درمیان میں لانے کی کیا ضرورت ہے؟ گھوڑے کا منہ کھول کر گنتی کرلیتے ہیں نا!”
یہ بات ہنسی میں لپٹی مگر گہری چبھن رکھتی ہے۔ یہ لطیفہ دراصل ان دانشوروں کے نام ہے جو آج بھی اس بات پر بحث کرتے رہتے ہیں کہ قائداعظم کیسا پاکستان چاہتےتھے — اسلامی یا سیکولر؟ حالانکہ سوال بائبل یا کتابوں سے نہیں، پاکستان کے بائیس کروڑ عوام سے ہونا چاہیے کہ وہ کیسا پاکستان چاہتے ہیں

ایک دن ایک خرکار اپنے گدھوں پر بوجھ لاد کر جا رہا تھا۔اچانک دور سے اس نے دیکھا کہ ڈاکو آرہے ہیں۔ وہ گھبرا کر چلایا، “بھاگو! ڈاکو آرہے ہیں!” گدھوں نے سادگی سے جواب دیا، “ہم کیوں بھاگیں؟ ہمیں تو بوجھ اٹھانا ہے، چاہے تیرا ہو یا ان ڈاکوؤں کا!”
یہ لطیفہ ان قوموں کے لیے ہے جو ظلم کے بوجھ تلے دب کر بھی سوچتی ہیں کہ غلام  میں کیا حرج ہے، آخر بوجھ تو وہی اٹھانا ہے!

ایک گاؤں میں سیلاب آیا۔پانی کا بہاؤ خطرے کے نشان سے دو فٹ اونچا ہو گیا۔ ایک حکومتی افسر موقع پر پہنچا اور بڑے اعتماد سے بولا، “گھبرانے کی ضرورت نہیں، ہم نے انتظام کرلیا ہے۔ اب خطرے کے نشان کو دو فٹ سے بڑھا کر چار فٹ کردیا ہے!
یہ منظر ان ماہرین کے نام ہے جو مہنگائی کے مسئلے کو ختم کرنے کے بجائے صرف تنخواہیں بڑھانے کی تجویز دیتے ہیں، حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ تنخواہ بڑھانے سے مہنگائی کم نہیں بلکہ بڑھ جاتی ہے۔

پولینڈ کی ایک اسکول میں ایک بچے نے اپنی ٹیچر سے کہا، “میڈم! ہماری بلی نے چار بچے دیے ہیں، وہ سب کے سب کمیونسٹ ہیں!” ٹیچر نے خوش ہوکر بچے کو شاباش دی۔
ایک ہفتے بعد اسکول انسپکٹر آئے۔ ٹیچر نے فخر سے کہا، “دوبارہ بتاؤ بیٹا، بلی والی بات!” بچے نے کہا، “میڈم! ہماری بلی نے چار بچے دیے ہیں، وہ سب جمہوریت پسند ہیں۔”
ٹیچر حیران رہ گئی، “پچھلے ہفتے تو تم کچھ اور کہہ رہے تھے!” بچہ مسکرا کر بولا، “جی میڈم، تب ان کی آنکھیں بند تھیں، اب کھل گئی ہیں!” یہ لطیفہ ان سیاستدانوں کے نام ہے جو پارٹی بدلتے ہی پرانی پارٹی میں کیڑے نکالنے لگتے ہیں جیسے ابھی ان کی آنکھیں کھلی ہوں۔

لندن میں ایک مشہور بیکری تھی۔ وہاں کے کباب اکثر بکنگھم پیلس بھیجے جاتے تھے۔دوستوں کے مشورے پر بیکری والے نے دکان پر بڑا بورڈ لگا دیا: “ہماری بیکری کے کباب ملکہ معظمہ بڑے شوق سے تناول فرماتی ہیں!” قریب کی دوسری بیکری کا مالک جل گیا۔اس نے اپنی دکان پر بورڈ لگوایا: “اے اللہ! ہماری ملکہ کی صحت کی حفاظت فرما!”
یہ لطیفہ ان اپوزیشن سیاستدانوں کے نام ہے جو حکومت کی تعریف کرنے کے بجائے صرف مخالفت کو سیاست سمجھتے ہیں۔

کہتے ہیں جب ہندوستان میں کرنسی نوٹ پہلی بار تصویر کے ساتھ جاری ہوئے تو مذہبی حلقوں میں شور مچ گیا۔ ایک وفد ایک بڑے عالم کے پاس آیا اور پوچھا، “حضرت، نوٹ پر تصویر ہونا جائز ہے یا ناجائز؟” عالم نے مسکرا کر کہا، “میرے بھائیو! میرے فتوے کا کوئی فائدہ نہیں۔ میرا فتویٰ نہیں چلے گا، نوٹ چل جائے گا!”
یہ لطیفہ ان علما کے نام ہے جو وقت کے تقاضوں سے بے خبر رہ کر فتوے دیتے ہیں جنہیں زمانہ کب کا پیچھے چھوڑ چکا ہوتا ہے۔

ایک شہری خاتون گاؤں میں عورتوں کو حساب سکھا رہی تھی۔ اس نے ایک دیہاتی عورت سے پوچھا، “اگر تمہارے پاس پچاس روپے ہوں اور بیس روپے شوہر کو دے دو، تو تمہارے پاس کتنے بچیں گے؟” عورت بولی، “کچھ بھی نہیں!” خاتون نے ڈانٹ کر کہا، “تمہیں حساب نہیں آتا!” دیہاتی عورت نے اطمینان سے کہا، “آپ میرے شوہر شیرو کو نہیں جانتیں، وہ سب روپے مجھ سے چھین لے گا!
یہ لطیفہ ان پالیسی سازوں کے نام ہے جو زمینی حقائق جانے بغیر فیصلے کرتے ہیں۔

ایک مولوی صاحب جمعہ کا خطبہ دینے گاؤں پہنچے۔ پورا ہفتہ خطبہ تیار کیا، مگر جمعہ کے دن صرف ایک نمازی آیا۔ مولوی صاحب سوچ میں پڑ گئے، “اب میں کیا کروں؟” نمازی بولا، “مولوی صاحب، میں تو ایک دیہاتی ہوں۔ اگر میں بھینسوں کے لیے چارہ لے جاؤں اور وہاں صرف ایک بھینس ہو، تو میں اسے چارہ ضرور دوں گا۔” مولوی صاحب خوش ہو گئے اور پورا خطبہ دے ڈالا۔ پھر پوچھا، “کیا خیال ہے؟ کیسا خطبہ تھا؟” دیہاتی بولا، “مولوی صاحب، میں تو ایک دیہاتی ہوں۔ مگر اتنا جانتا ہوں کہ اگر ایک ہی بھینس ہو تو سارا چارہ اس کے آگے نہیں ڈالنا چاہیے!”
یہ لطیفہ نصاب بنانے والوں کے نام ہے جو طلبہ پر بے جا بوجھ ڈال دیتے ہیں۔

ایک خاتون قدیم نوادرات جمع کرنے کی شوقین تھی۔ اس نے دیکھا کہ ایک دکاندار بلی کو جس پیالے میں دودھ پلا رہا ہے، وہ چینی کا قیمتی پیالہ ہے — کم از کم تیس ہزار ڈالر کا۔ خاتون نے سوچا کہ یہ شخص اس کی قیمت سے نابلد ہے۔ چالاکی سے بولی، “جناب! کیا آپ یہ بلی فروخت کریں گے؟” دکاندار بولا، “یہ میری پالتو بلی ہے، مگر اگر آپ کو پسند ہے تو پچاس ڈالر میں لے جائیں۔” خاتون نے فوراً پیسے دیے اور جاتے جاتے کہا، “یہ پیالہ تو اب آپ کے کسی کام کا نہیں رہا، یہ بھی مجھے دے دیجیے تاکہ میں اسی میں بلی کو دودھ پلا سکوں۔” دکاندار مسکرا کر بولا، “میڈم! وہ پیالہ میں نہیں دے سکتا۔ اسی پیالے کو دکھا کر میں اب تک تین سو بلیاں فروخت کرچکا ہوں!”یہ لطیفہ ان باشعور عوام کے نام ہے جو بار بار ایک ہی چال میں پھنس جاتے ہیں اور پھر بھی سمجھتے ہیں کہ اس بار دھوکہ نہیں کھائیں گے۔

یہ سب لطائف دراصل ہمارے معاشرے کے آئینے ہیں۔ ہم ان میں دوسروں کی کمزوری پر ہنستے ہیں، مگر درحقیقت ان میں اپنی ہی تصویر دیکھنی چاہیے۔ کیونکہ مزاح کبھی کبھی وہ سچ بول جاتا ہے، جو سنجیدگی نہیں کہہ پاتی۔

Leave a Reply

NZ's Corner