بلاعنوان 😂

بلاعنوان 😂

چوہدری فتح خان کا گاؤں میں اپنا ہی دبدبہ تھا۔ زمینوں کے مالک تھے، لیکن جدید ٹیکنالوجی سے اتنے ہی دور تھے جتنا ایک معصوم طالب علم ریاضی سے۔ ایک دن ان کے بیرونِ ملک مقیم بیٹے نے انہیں محبت میں آخری ماڈل کا چمکتا ہوا آئی فون تحفے میں بھیج دیا۔
چوہدری صاحب نے گاؤں کے چائے کے ہوٹل پر بیٹھ کر فخریہ انداز میں فون میز پر رکھا اور اپنے سب سے وفادار ملازم “کرامتے” سے بولے:
“کرامتے! اس فون کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس میں ایک غائبانہ بی بی بیٹھتی ہے، جس کا نام ‘سیری’ (Siri) ہے۔ تم اس سے دنیا کا کوئی بھی سوال پوچھو، وہ فوراً بول کر جواب دیتی ہے!”
کرامتے نے حیرت سے آنکھیں پھاڑ کر فون کو دیکھا اور بولا:
“چوہدری جی! یہ تو پھر بڑی کمال کی مخلوق ہوئی، لیکن کیا یہ ہمارے گاؤں کے مسئلوں کا علاج بھی بتا سکتی ہے؟”
چوہدری صاحب نے مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے فون کا بٹن دبایا اور بڑے روب دار لہجے میں بولے:
“ہاں ہاں! کیوں نہیں؟ دیکھو میں ابھی ثبوت دیتا ہوں۔”
چوہدری صاحب نے منہ فون کے بالکل قریب کیا اور صاف انگریزی بولنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کہا:
“اوئے سیری! Tell me… گاؤں میں گندم کی فصل کی کیا صورتحال ہے؟”
فون سے انگریزی خاتون کی نرم اور پرسکون آواز آئی:
“I am sorry, I didn’t quite get that.” (معاف کیجیے گا، مجھے سمجھ نہیں آیا۔)
چوہدری صاحب نے خفت مٹانے کے لیے فون کو ذرا گھورا اور اس بار ذرا دیسی انداز میں بولے:
“ارے بی بی! سادہ بات کرو، انگریزی کا روپ نہ جھاڑو!”
کرامتے پاس کھڑا سوچ رہا تھا کہ چوہدری صاحب کی عزت داؤ پر لگی ہے۔ اس نے چپکے سے چوہدری صاحب کے کان میں پھسپھساتے ہوئے کہا:
“چوہدری جی! یہ انگریزوں کی مشین ہے۔ اس سے ذرا انگریزی کا بڑا لفظ بولیں، تبھی یہ قابو میں آئے گی!”
چوہدری صاحب نے صبح ہی صبح ریڈیو پر ایک دوائی کا اشتہار سنا تھا، جس میں ایک مشکل سا طبی لفظ ان کے ذہن میں اٹک گیا تھا۔ انہوں نے سوچا کہ اب انگریزی دکھانے کا یہی صحیح موقع ہے۔
انہوں نے گہرا سانس لیا، گلا صاف کیا اور فون کے مائیک پر جھک کر پورے اعتماد کے ساتھ زور سے بولے:
“اوئے سیری! وٹ از دی سپیلنگ آف… بواسیر؟”
پورے ہوٹل میں سناٹا چھا گیا۔ کرامتے نے اپنا سر پکڑ لیا، اور وہاں بیٹھے بوڑھے بابا فضل نے اپنی عینک اتار کر چوہدری صاحب کو یوں دیکھا جیسے انہوں نے چاند پر جانے کی تاریخ پوچھ لی ہو۔
آئی فون کی معصوم ‘سیری’ بی بی نے چند سیکنڈ کا وقفہ لیا، جیسے وہ اس عظیم الشان سوال پر غور کر رہی ہو، اور پھر بڑے احترام اور اونچی آواز میں بولا:
“Searching the web for… B-W-A-S-E-E-R. Here is what I found about Hemorrhoids!” (گوگل پر تلاش جاری ہے… یہاں بواسیر کے علاج کی معلومات موجود ہیں!)
یہ سننا تھا کہ ہوٹل پر بیٹھے تمام دیہاتیوں کے قہقہوں سے چھت ہل گئی۔
بابا فضل چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے بولے:
“چوہدری! اتنا مہنگا فون تو نے امریکہ سے صرف اپنی بیماری کا علاج پوچھنے کے لیے منگوایا ہے؟ ہم تو سمجھتے تھے تجھے بس گھٹنوں کا درد ہے!”
چوہدری صاحب کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ انہوں نے جلدی سے فون کی سکرین بند کی اور ہکلا کر بولے:
“اوئے نہیں! میں تو اس کی انگریزی ٹیسٹ کر رہا تھا!”
کرامتے نے ڈرتے ڈرتے کہا:
“چوہدری جی! بی بی نے تو ٹیسٹ پاس کر لیا، لیکن اب پورے گاؤں کو آپ کا ٹیسٹ پتا چل گیا ہے!”
چوہدری صاحب نے اسی وقت فون واپس جیب میں ٹھونس لیا، ہوٹل کا بل ادا کیا اور کرامتے کو گھورتے ہوئے بولے:
“کرامتے! اگر آج کے بعد تو نے اس ‘سیری’ کا نام بھی لیا، یا گاؤں میں کسی کو اس سوال کا بتایا، تو میں تجھے اسی فون سے ‘گوگل سرچ’ کر کے نوکری سے نکال دوں گا!”
اس دن کے بعد چوہدری صاحب نے آئی فون پر صرف کال اٹھانے کا بٹن سیکھا، اور ‘سیری’ بی بی کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا۔

Leave a Reply

NZ's Corner