ایک بادشاہ تھا
جو صرف سائے دیکھ کر فیصلے کرتا تھا۔
اس کے محل میں
ہر رات پردہ لگتا،
چراغ جلتے،
اور کٹھ پتلیوں کے سائے
دیوار پر ناچتے۔
وزیر کہتا:
“حضور! حقیقت باہر ہے،
لوگوں میں، کھیتوں میں،
پسینے اور بھوک میں۔”
بادشاہ جواب دیتا:
“سایہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا،
اصل چیزیں تو
اپنی شکل بدل لیتی ہیں۔”
ایک دن
ایک اندھا سازندہ دربار میں آیا۔
اس نے کہا:
“مجھے بھی کھیل دکھانے دو۔”
بادشاہ ہنسا:
“تم دیکھ ہی نہیں سکتے،
سائے کیسے نچاؤ گے؟”
اندھے نے چراغ بجھا دیا۔
پورا ہال اندھیرے میں ڈوب گیا۔
پھر اس نے ساز چھیڑا۔
آوازیں بلند ہوئیں
کبھی رونے جیسی،
کبھی ہنسنے جیسی،
کبھی ٹوٹتی سانسوں جیسی۔
لوگ کانپنے لگے۔
بادشاہ بولا:
“یہ کیا جادو ہے؟
میں کچھ دیکھ نہیں پا رہا!”
اندھا بولا:
“آپ نے عمر بھر
صرف سائے دیکھے ہیں،
آج پہلی بار
حقیقت سن رہے ہیں۔”
اس نے چراغ دوبارہ جلایا۔
دیوار پر
کوئی سایہ نہیں تھا۔
صرف لوگ تھے—
خاموش، شرمندہ،
زندہ۔
اندھا سازندہ بولا:
“جو صرف آنکھ سے دیکھے
وہ دھوکا کھا سکتا ہے؛
جو سننا سیکھ لے
وہ اندھیرے میں بھی
راستہ پا لیتا ہے۔”
کہتے ہیں
اس دن کے بعد
بادشاہ نے پردے ہٹوا دیے،
اور ہر فیصلہ
کھلی روشنی میں ہونے لگا۔
وایانگ اب بھی ہوتا تھا،
مگر صرف کہانی کے لیے
حکومت کے لیے نہیں۔
سبق
سائے
ہمیشہ حقیقت کا متبادل نہیں ہوتے؛
کبھی کبھی
اصل سچ
وہ ہوتا ہے
جو نظر نہیں آتا
مگر ضمیر کو ہلا دیتا ہے۔
حوالہ جات
انڈونیشین Wayang روایات
جاوی صوفیانہ و فلسفیانہ ادب
آواز، سایہ اور شعور پر مبنی تمثیلی حکایات
