ایک زمانے کی بات ہے۔ شہر کے کنارے ایک وسیع و عریض دریا بہتا تھا، جس کا پانی سورج کی کرنوں میں چاندی کی طرح چمکتا اور رات کی خاموشی میں رازدارانہ سرگوشیاں کرتا محسوس ہوتا تھا۔
ایک صبح سویرے لوگوں نے ایک عجیب منظر دیکھا۔
دریا کے کنارے ایک شخص خاموشی سے بیٹھا تھا۔ اس کے سامنے دہی کا ایک مٹکا رکھا تھا اور ہاتھ میں ایک چھوٹا سا چمچ۔ وہ بڑے انہماک سے چمچ بھرتا اور دہی دریا میں انڈیل دیتا، پھر دوسرا چمچ بھر لیتا۔
قریب جا کر دیکھا تو وہ ملا نصرالدین تھے۔
لوگ حیران ہوئے۔ کسی نے ہنس کر پوچھا:
“ملا صاحب! یہ کون سی نئی حکمت ایجاد کر رہے ہیں؟”
ملا نے سکون سے جواب دیا:
“دریا میں دہی ڈال رہا ہوں۔”
لوگوں کی حیرت اور بڑھ گئی۔
“لیکن کیوں؟”
ملا نے نہایت سنجیدگی سے کہا:
“اس لیے کہ دریا کا پانی بہت پتلا ہے، میں اسے گاڑھا کر رہا ہوں۔”
یہ سن کر مجمعے میں قہقہے گونج اٹھے۔
ایک شخص ہنستے ہنستے بولا:
“ملا صاحب! آپ کی ساری عمر بھی گزر جائے تو اس چمچ بھر دہی سے دریا کا رنگ تک نہیں بدلے گا، گاڑھا ہونا تو بہت دور کی بات ہے!”
دوسرا بولا:
“یہ تو ایسے ہی ہے جیسے کوئی سوئی سے پہاڑ کھودنے نکلے!”
لوگ مذاق اڑاتے رہے اور ملا خاموشی سے دہی ڈالتے رہے۔
پھر اچانک ملا نے ہاتھ روک لیا۔
وہ اٹھے، گرد و پیش پر نگاہ دوڑائی اور دھیرے سے بولے:
“عجیب لوگ ہو تم!”
مجمع خاموش ہو گیا۔
ملا نے کہا:
“تم کہتے ہو کہ میرے چند چمچ دہی سے دریا نہیں بدلے گا۔ بات درست ہے۔”
پھر ان کی آواز میں سنجیدگی آ گئی۔
“مگر تم میں سے کتنے لوگ ہیں جو روز عدالت میں جھوٹ بولتے ہیں؟ کتنے ہیں جو بازار میں ناپ تول میں کمی کرتے ہیں؟ کتنے ہیں جو اپنے پڑوسی کا حق مارتے ہیں؟ کتنے ہیں جو گھروں میں نفرت اور جھگڑے بوتے ہیں؟”
لوگ ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔
ملا نے بات جاری رکھی:
“تمہارے ایک ایک جھوٹ، ایک ایک دھوکے، ایک ایک ظلم سے اس شہر کی فضا آلودہ ہوتی ہے۔ تمہارے اعمال کا زہر لوگوں کے دلوں میں گھلتا ہے، اعتماد کو مار دیتا ہے اور معاشرے کے پانی کو گندا کر دیتا ہے۔”
اب مجمع پر سناٹا طاری تھا۔
ملا نے دہی کا چمچ ہاتھ میں اٹھایا اور مسکرا کر کہا:
“میں تو صرف دہی ڈال رہا ہوں، مگر تم روز زہر گھول رہے ہو۔ پھر بھی تمہیں اپنی عقل پر ناز ہے اور مجھے بے وقوف سمجھتے ہو!”
یہ الفاظ تیر کی طرح دلوں میں اتر گئے۔
جو لوگ چند لمحے پہلے قہقہے لگا رہے تھے، اب نظریں جھکائے کھڑے تھے۔ کسی کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔
دریا اپنی روانی سے بہتا رہا، مگر اس دن بہت سے لوگوں کے ضمیر کی سطح پر ایک خاموش طوفان برپا ہو چکا تھا۔
سبق
ہم اکثر دوسروں کی چھوٹی اور ظاہری غلطیوں پر ہنستے ہیں، مگر اپنی بڑی اور پوشیدہ خامیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ دانائی کا آغاز دوسروں پر ہنسنے سے نہیں، بلکہ اپنے گریبان میں جھانکنے سے ہوتا ہے۔
جو شخص اپنی خطاؤں کو نہیں دیکھتا، وہ دوسروں کی لغزشوں کا سب سے بڑا تماشائی بن جاتا ہے۔
#منقول
