بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ چند تاجر تھے جو ایک طویل سفر پر نکلے ہوئے تھے۔ ان میں ایک عام سا تاجر بھی تھا، جو اپنے ساتھ ایک خوبصورت گھوڑا اور ایک بوڑھا گدھا بھی لیے جا رہا تھا۔ گھوڑا اس کی سواری کے لیے تھا، جبکہ گدھے پر اس نے کچھ سامان لاد رکھا تھا جو اسے راستے میں ایک دوسرے شہر میں پہنچانا تھا۔
چند دن کے سفر کے بعد وہ اپنی منزل پر پہنچا اور سامان اس کے اصل مالک کے حوالے کر دیا۔ اب گدھے کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی، مگر سفر ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔ راستے لمبے تھے، پانی کم ملتا تھا، کہیں گھاس دستیاب ہوتی تو کہیں کئی کئی میل تک کچھ نہ ملتا۔ ایک جانور کی دیکھ بھال ہی مشکل تھی، جبکہ دو جانوروں کی ذمہ داری اس کے لیے بوجھ بنتی جا رہی تھی۔
اس نے سوچا کہ کسی ہمسفر کو گدھا دے دے، مگر ہر تاجر کے پاس اپنی سواری تھی اور کوئی ایک اضافی جانور کی ذمہ داری لینے کو تیار نہ تھا۔
ایک دن سفر کے دوران اس تاجر کی نظر ایک غریب عورت پر پڑی جو تپتی دھوپ میں پیدل جا رہی تھی۔ اس کی گود میں ایک چھوٹی سی بچی تھی جو تھکن سے نڈھال تھی۔ بچی کے ننگے پاؤں گرم زمین کی تپش برداشت نہیں کر پا رہے تھے اور ماں اسے بار بار سینے سے لگا کر تسلی دے رہی تھی۔
تاجر نے کچھ لمحے انہیں دیکھتا رہا، پھر آگے بڑھا اور کہا:
“بہن! یہ گدھا اب میرے کسی کام کا نہیں۔ اسے اپنے ساتھ لے جاؤ۔ کم از کم تمہاری بیٹی کو یہ سخت راستے پیدل طے نہیں کرنے پڑیں گے۔”
عورت کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے بار بار دعائیں دیتے ہوئے کہا:
“اللہ تمہارے اس احسان کا بدلہ دے۔ شاید میں دنیا میں تمہیں کچھ نہ دے سکوں، مگر رب کبھی کسی نیکی کو ضائع نہیں کرتا۔”
تاجر مسکرا کر آگے بڑھ گیا۔ اس کے دل میں کوئی احساسِ احسان نہ تھا۔ اس نے تو صرف ایک بوجھ ہلکا کرنے کے لیے گدھا دے دیا تھا۔
وقت اپنے پر پھیلا کر آگے بڑھ گیا۔ سال گزرتے گئے، تاجر بوڑھا ہو گیا۔ اس کا ایک ہی بیٹا تھا جسے وہ اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز رکھتا تھا۔ مگر قسمت نے ایک سخت امتحان اس کے لیے سنبھال رکھا تھا۔
اس کے بیٹے نے ریاست کے کسی صوبے میں ہونے والی بغاوت میں حصہ لیا اور گرفتار ہو گیا۔ بادشاہ کا ایک اٹل اصول تھا:
“باغی کو کبھی معاف نہیں کیا جائے گا۔”
تاجر لرزتے قدموں کے ساتھ دربار میں پہنچا۔ اس نے رو رو کر اپنے اکلوتے بیٹے کی زندگی کی بھیک مانگی، مگر بادشاہ نے سرد لہجے میں کہا:
“مجھے تمہارے دکھ کا احساس ہے، لیکن ایک بادشاہ اگر اپنے اصول توڑ دے تو سلطنت ٹوٹ جاتی ہے۔”
مایوس اور شکستہ دل تاجر محل سے باہر نکلنے لگا۔ اسی وقت محل کی بالکونی میں کھڑی ملکہ کی نظر اس بوڑھے شخص پر پڑی۔ اس نے اس کے چہرے پر عجیب سی بے بسی دیکھی اور اپنی کنیز کو حکم دیا:
“جاؤ، معلوم کرو اس بوڑھے کے دل پر کون سا غم پہاڑ بن کر ٹوٹا ہے۔”
جب کنیز نے ساری کہانی سنائی تو ملکہ کچھ دیر خاموش رہی۔ اس کی آنکھوں میں ماضی کے کئی منظر زندہ ہو گئے۔ چند دن بعد تمام باغیوں کو سزا دی جا چکی تھی، مگر حیرت انگیز طور پر اس تاجر کے بیٹے کو معافی مل گئی۔ صوبے کے گورنر نے خود اسے عزت کے ساتھ اس کے گھر پہنچایا۔
تاجر حیران رہ گیا۔
اس نے پوچھا:
“آخر یہ کیسے ممکن ہوا؟ بادشاہ تو کبھی اپنے فیصلے نہیں بدلتا تھا”
گورنر نے جواب دیا:
“بادشاہ نے اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ کسی باغی کے لیے اپنا اصول بدلا ہے، اور اس کے پیچھے ایک خاص وجہ ہے۔”
یہ سن کر تاجر قیمتی تحائف لے کر بادشاہ اور ملکہ کا شکریہ ادا کرنے محل پہنچا۔
دربار میں داخل ہوتے ہی اس نے جھک کر کہا:
“حضور! میں زندگی بھر آپ کے اس احسان کو نہیں بھول سکوں گا، مگر یہ جاننے کی خواہش ضرور ہے کہ مجھ جیسے معمولی انسان پر یہ مہربانی کیوں کی گئی؟”
بادشاہ نے مسکرا کر ملکہ کی طرف دیکھا۔
ملکہ آہستہ آہستہ آگے بڑھی اور کہا:
“کیا آپ کو برسوں پہلے ایک سنسان راستہ یاد ہے؟ ایک غریب عورت، اس کی تھکی ہوئی بچی اور آپ کا وہ گدھا؟”
تاجر حیرت سے ملکہ کو دیکھنے لگا۔
ملکہ کی آنکھوں میں وہی معصومیت تھی جو برسوں پہلے اس چھوٹی سی بچی کی آنکھوں میں تھی۔
اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
ملکہ نے کہا:
“میں وہی بچی ہوں۔ اس دن آپ نے ہمیں ایک گدھا نہیں دیا تھا، آپ نے ہماری تکلیف آسان کی تھی۔ میری ماں نے اس دن کہا تھا کہ نیکی کبھی ضائع نہیں ہوتی۔ آج اللہ تعالی نے مجھے موقع دیا کہ میں آپ کے احسان کا بدلہ چکا سکوں۔”
تاجر کی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھ گئیں۔
وہ لرزتی آواز میں بولا:
“اے میرے رب! میں نے تو وہ نیکی بھی اپنے فائدے کے لیے کی تھی۔ مجھے گدھے کے بوجھ سے چھٹکارا چاہیے تھا، پھر بھی تو نے مجھے اتنا بڑا صلہ عطا کر دیا۔ اگر ایک معمولی انسان ایک چھوٹی سی بھلائی کا اتنا بدلہ دے سکتا ہے، تو تیرے لیے خالص نیت سے کی گئی نیکیوں کا اجر کتنا عظیم ہوگا”۔
یہ کہہ کر وہ سجدۂ شکر میں گر پڑا۔
اخلاقی سبق:
نیکی کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ بعض اوقات ہم ایک معمولی سا بھلا کام کر کے اسے بھول جاتے ہیں، لیکن قدرت اسے برسوں تک محفوظ رکھتی ہے اور جب لوٹاتی ہے تو ایسے دروازے سے لوٹاتی ہے جس کا انسان نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔ اور جب ایک انسان ایک چھوٹی سی مہربانی کا اتنا بڑا بدلہ دے سکتا ہے، تو خالقِ کائنات کی رضا
کے لیے کی گئی نیکیوں کا اجر کس قدر عظیم ہوگا۔
