ہسپانیہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ اس کے پاس ایک چھوٹا سا کھیت تھا، لیکن اس کی زمین بہت کمزور تھی اور فصل اچھی نہیں ہوتی تھی۔ ایک سال جب قحط پڑا تو اس کے پاس کھانے کو کچھ نہ بچا۔
وہ بہت پریشان تھا کہ اب وہ اپنے بچوں کو کیا کھلائے گا۔ ایک دن وہ اپنے کھیت میں گھوم رہا تھا کہ اسے زمین پر گندم کے چار دانے پڑے نظر آئے۔ اس نے انہیں اٹھایا اور سوچا کہ ابھی تو یہ بہت کم ہیں، لیکن شاید ان سے کچھ فصل اگ آئے۔
اس نے ان چار دانوں کو اپنے کھیت کے ایک کونے میں بو دیا۔ اس نے روزانہ انہیں پانی دیا اور ان کی دیکھ بھال کی۔ کچھ ہی دنوں میں وہ دانے اگنے لگے اور چند مہینوں میں اسے گندم کی اچھی خاصی فصل مل گئی۔ اس نے اس فصل کو بچایا اور پھر اگلے سال اسے اپنے پورے کھیت میں بو دیا۔
چند سالوں میں وہ کسان امیر ہو گیا۔ اس نے اپنے گاؤں کے دوسرے غریب کسانوں کو بھی گندم کے دانے دیے اور انہیں کھیتی باڑی کے جدید طریقے سکھائے۔ پورے گاؤں کی حالت بدل گئی اور لوگ خوشحال ہو گئے۔
جب کسی نے اس سے پوچھا کہ تم نے یہ سب کیسے کر دکھایا تو اس نے کہا، “میرے پاس صرف چار دانے تھے۔ میں نے انہیں ضائع کرنے کی بجائے زمین میں بو دیا۔ اسی طرح تمہیں بھی چاہیے کہ جو کچھ بھی ہے، اسے استعمال کرو اور اسے بڑھاؤ۔”
اخلاقی سبق:
قناعت اور صبر سے انسان اپنی زندگی بدل سکتا ہے۔ جو کچھ بھی ہے، اسے ضائع کرنے کی بجائے اسے استعمال کرنا چاہیے اور اسے بڑھانا چاہیے۔ ایک چھوٹی سی شروعات بھی بڑی کامیابی کا باعث بن سکتی ہے۔
حوالہ:
یہ کہانی ہسپانوی لوک ادب کی مشہور کہانی ہے، جسے اردو میں بھی شائع کیا گیا ہے۔
