ایک بہت دانا بزرگ گاؤں کی مسجد میں وعظ کرنے آئے۔
منبر پر چڑھے، مسکرائے اور سب سے پہلا سوال کیا:
“بتاؤ! کیا تُم جانتے ھو کہ آج میں کس موضوع پر بیان کرنے والا ھوں؟”
سب نے ایک آواز میں کہا:
“نہیں… ھمیں نہیں معلوم!”
بزرگ فوراً بولے:
“جب تمہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ میں کیا کہنے والا ھوں، تو تم میری بات کیا سمجھو گے؟”
یہ کہہ کر منبر سے اترے…
اور سیدھے گھر چلے گئے!
اگلے جمعے بزرگ پھر آئے۔
اس بار گاؤں والوں نے پہلے ھی منصوبہ بنا لیا۔
“آج سب نے ‘ہاں’ کہنا ھے!”
بزرگ نے پھر وھی سوال کیا:
“کیا تم جانتے ھو کہ میں کیا بیان کروں گا؟”
سب نے زور سے کہا:
“جی ہاں! ھم جانتے ھیں!”
بزرگ مسکرائے اور بولے:
“ماشاءاللہ! جب سب جانتے ھی ھیں تو پھر میرے بیان کی ضرورت ھی کیا ھے؟”
اور دوبارہ گھر روانہ ھو گئے۔
—
اب تو گاؤں والوں کی انا جاگ گئی۔ 😠
انہوں نے کہا:
“اس بار اسے ہر حال میں پکڑیں گے!” 😤
منصوبہ بنا…💡
آدھے لوگ “ہاں” کہیں گے…
اور آدھے “نہیں”۔ 🤓
تیسرے جمعے بزرگ آئے۔
پھر وھی سوال…
“کیا تم جانتے ھو کہ آج میں کیا کہوں گا؟” 😄
آدھوں نے کہا:
“جی ہاں!”
باقیوں نے کہا:
“جی نہیں!”
بزرگ نے مسکرا کر پگڑی ٹھیک کی…😊
اور ایسا جواب دیا کہ پورا گاؤں ایک دوسرے کا منہ دیکھتا رہ گیا 👀👇
🤣 “بہت خوب… جو لوگ جانتے ھیں، وہ ان لوگوں کو بتا دیں جو نہیں جانتے، میرا کام ختم!” 😁😆🤣
