بلاعنوان

بلاعنوان

کافی پرانی بات ہے، میں بہت چھوٹی تھی، لیکن اتنا ہے کہ یادداشت میں چیز محفوظ ہے۔
میرے دادا کی سب سے بڑی بہن جو تھیں، اُن کے گھر سے خبر آئی، مطلب اُن کے ایریا سے کسی نے کال کرکے میرے دادا کو بتایا کہ اُن کی بہن حمیدہ باجی کا نا انتقال ہوگیا ہے۔
، پورے محلے میں خبر پھیل گئی۔ کیونکہ ایک ہی گھر، محلے کے اندر، تمام جتنے بھی میرے دادا کے بہن بھائی، سب اُسی ایریا میں رہتے تھے۔ مطلب ایسا لگتا تھا ہر گلی کے اندر چار چار گھر تو ہمارے اپنے ہیں۔ کیونکہ سب جو بچے بھی بڑے ہوگئے تھے، سب کے الگ الگ گھر تھے۔
جب دادا کو خبر پتہ چلی، تو دادا اپنے بڑے بھائی کے گھر گئے، سب لوگ اکٹھے ہوئے، اور بس بک کرکے اُن کے گھر پہنچے۔
جب وہاں پہنچے تو دیکھاجو ہمارے دادا کی بہن ہماری دادی پودوں کو پانی دے رہی ہیں۔
ہم سب کو دیکھ کر  اچانک چونک گئیں کہ کیا ہوا، تو سب لوگ کیسے اکٹھے ہوگئے۔ پھر جب اُن کو بتایا تو وہ اتنا زیادہ ہنسی ، اور غم کی جگہ ماحول ایکدم خوشی کا ہوگیا
کہ سن کر سب آئے تو اُن کا انتقال ہوگیا، وہ بالکل صحیح سلامت کھڑی تھیں۔
، پھوپھو تو اتنا خوش ہوئیں کہ ویسے تو تم لوگ ملنے آتے نہیں ہو، اس خبر سے تم لوگ سارے کے سارے ملنے پہنچ گئے۔
فٹا فٹ دیگوں کا اہتمام کیا گیا، اورسب نے  کھانا وغیرہ کھایا، رات تک سب وہیں رہے۔
اُس واقع کے بعد بھی تقریباً دس سال تک وہ حیات رہی ہیں، پھر اُن کا انتقال ہوا۔
ابھی بھی جب بھی مجھے واقعہ یاد آتا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ شاید وہ ایک موقع تھا،جو اللہ تعالیٰ نےرکھا تھا سب کو ملوانے کا ورنہ تو کیا بندہ کال کرکے معلوم نہیں کرسکتا تھا،کہ انتقال ہوا ہے یا کسی نے مذاق کیا ہے۔
کسی کا پرینک خاندان بھر کی ملن پارٹی کا زریعہ بن گیا😊۔

Leave a Reply

NZ's Corner