بلاعنوان

بلاعنوان

ایک دن ایک کامیاب کاروباری شخص ایک چھوٹے سے ساحلی گاؤں میں لکڑی کے تختوں سے بنے ہوئے ڈیک پر کھڑا تھا, جب اس کی نظر ایک ماہی گیر پر پڑی جو اپنی ایک چھوٹی سی سادی سی کشتی سے ایک بڑی ٹونا مچھلی کھینچ کر باہر نکال رہا تھا۔ اس سے متاثر ہو کر، کاروباری شخص نے اسے مبارکباد دی اور پوچھا کہ اتنی بڑی مچھلی پکڑنے میں اسے کتنا وقت لگا۔
ماہی گیر نے جواب دیا، “بس دو گھنٹے، یا شاید اس سے بھی کم۔”
کاروباری شخص حیرت سے دیکھنے لگا۔ “تو پھر تم زیادہ دیر تک سمندر میں کیوں نہیں رہے اور چند اور مچھلیاں کیوں نہیں پکڑیں؟”
ماہی گیر نے کندھے اچکائے۔ “ایک مچھلی میرے خاندان کا پیٹ بھرنے اور کل کے لیے ہماری ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔”
کاروباری شخص نے پوچھا، “لیکن تم اپنے دن کا باقی حصہ کیا کرتے ہو؟”
ماہی گیر مسکرایا۔ “میں صبح تھوڑا آرام سے اٹھتا ہوں، چند گھنٹے مچھلی پکڑتا ہوں، اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزارتا ہوں، اپنی بیوی کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھاتا ہوں، اور دوپہر کو کچھ دیر آرام کرتا ہوں۔ اس کے بعد، میں گاؤں میں چہل قدمی کرتا ہوں، دوستوں سے ملتا ہوں، شام کو ایک گلاس شراب پیتا ہوں، اور کبھی کبھی ان کے ساتھ گٹار بجاتا ہوں۔ میری زندگی اچھی گزر رہی ہے۔”
کاروباری شخص نے سر ہلایا۔ “میں نے ہارورڈ سے تعلیم حاصل کی ہے۔ تم میری ایک بات سنو، تم یہ سب کچھ غلط طریقے سے کر رہے ہو۔ تمہیں سارا دن مچھلی پکڑنی چاہیے، زیادہ مچھلیاں پکڑ کر اضافی پیسے بچانے چاہئیں اور ایک بڑی کشتی خریدنی چاہیے۔”
ماہی گیر نے پوچھا، “اور پھر کیا ہوگا؟”
“پھر تم اس سے بھی زیادہ مچھلیاں پکڑ سکو گے۔ آخر کار، تم کئی کشتیاں خرید سکو گے، شاید پورا بیڑا بنا لو گے۔”
“اور پھر؟”
“پھر تم کسی بیچ والے کے ذریعے مچھلی بیچنا بند کر دو گے۔ تم براہ راست ریستورانوں اور ڈسٹری بیوٹرز کو فروخت کر سکتے ہو، اپنا منافع بڑھا سکتے ہو، اور آخر کار اپنی خود کی پروسیسنگ کمپنی کھول سکتے ہو۔”
ماہی گیر نے آہستہ سے سر ہلايا۔ “اور پھر؟”
“پھر تم اس چھوٹے سے گاؤں کو چھوڑ سکتے ہو، کسی بڑے شہر میں جا سکتے ہو، کارپوریٹ آفس کھول سکتے ہو، ملازم رکھ سکتے ہو، اور ایک سنجیدہ کمپنی کے سی ای او بن سکتے ہو۔”
ماہی گیر نے پوچھا، “یہ سب کرنے میں کتنا وقت لگے گا؟”
“شاید پندرہ یا بیس سال۔”
“اور پھر کیا ہوگا؟”
کاروباری شخص مسکرایا۔ “یہ سب سے بہترین حصہ ہے۔ تم اس کمپنی کو لاکھوں ڈالر میں بیچ سکتے ہو اور بہت امیر بن سکتے ہو۔”
ماہی گیر نے اسے دیکھا۔ “اور پھر؟”
“پھر تم ریٹائر ہو سکتے ہو۔ تم سمندر کے پاس کسی پرسکون چھوٹے سے قصبے میں منتقل ہو سکتے ہو، دیر تک سو سکتے ہو، چند گھنٹے مچھلی پکڑ سکتے ہو، اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزار سکتے ہو، دوپہر میں آرام کر سکتے ہو، قصبے میں چہل قدمی کر سکتے ہو، شام کو ایک گلاس شراب پی سکتے ہو، اور اپنے دوستوں کے ساتھ گٹار بجا سکتے ہو۔”
ماہی گیر مسکرایا۔
اس نے کہا، “تو پھر، آپ کے خیال میں اس وقت میں کیا کر رہا ہوں؟”

Leave a Reply

NZ's Corner