بلاعنوان

بلاعنوان

ایک دفعہ شیطان سڑک کنارے اداس بیٹھا تھا، پاس سے ایک گدھا گزرا۔ گدھے نے پوچھا، “استاد! خیر تو ہے؟ آج اتنے پریشان کیوں ہو؟”

شیطان نے ٹھنڈی آہ بھری اور سامنے والے گھر کی طرف اشارہ کر کے بولا، “یار، اس گھر میں میاں بیوی رہتے ہیں۔ پچھلے دس سال سے میں ان میں جھگڑا کرانے کی کوشش کر رہا ہوں، پر ناکام رہا۔ بیوی اتنی سیانی ہے کہ میرا ہر وار خالی جاتا ہے۔”

گدھا ہنسا اور بولا، “بس اتنی سی بات؟ یہ کام تو میں بھی کر سکتا ہوں۔”
شیطان نے چیلنج قبول کر لیا۔ گدھا گیا اور اس گھر کے باہر زور زور سے “ہیں ہاوں… ہیں ہاوں” کرنا شروع کر دیا۔
شوہر باہر نکلا، گدھے کو دیکھا اور بیوی سے بولا: “بیگم! دیکھو تمہارا رشتہ دار ملنے آیا ہے۔”

بیوی کچن سے نکلی، ایک نظر گدھے کو دیکھا اور مسکرا کر شوہر سے بولی: “جی بالکل! سسرالی رشتہ ہے، میرا ‘بھائی’ ہے اور آپ کا ‘سالا’!”

شوہر کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا اور غصے سے لال پیلا ہو گیا۔ اس نے جوتا اٹھایا اور گدھے کو مارنے کے لیے بھاگا۔ گدھا بیچارہ جان بچا کر واپس شیطان کے پاس پہنچا اور ہانپتے ہوئے بولا: “استاد! یہاں تو دال نہیں گلنے والی۔”

شیطان نے قہقہہ لگایا اور بولا: “ابے بیوقوف! میں نے کہا تھا نا کہ میاں بیوی کے معاملے میں ٹانگ نہ اڑانا۔ یہاں میرا جادو نہیں چلتا تو تیری ‘ڈھینچوں ڈھینچوں’ کیا چلے گی؟ جہاں بیوی کی زبان چلتی ہو، وہاں شیطان بھی چھٹی پر چلا جاتا ہے!”

گدھے نے وہیں توبہ کی اور بولا: “آج سمجھ آیا کہ لوگ مجھے گدھا کیوں کہتے ہیں، کیونکہ میں میاں بیوی کی لڑائی میں ‘تیسرا’ بننے چلا تھا۔”

Leave a Reply

NZ's Corner