ایک بادشاہ اپنے غلام کے ساتھ کشتی میں سوار تھا۔ غلام نے نہ کبھی دریا دیکھا تھا، نہ ہی کشتی کا سفر کیا تھا۔ جیسے ہی کشتی پانی میں ہچکولے لینے لگی، غلام کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔ اُس کے ہاتھ پاؤں کانپنے لگے، اور وہ خوف سے چیخنے اور رونے لگا۔
کشتی میں بیٹھے لوگ پریشان ہو گئے، اور بادشاہ کو اس کی آواز ناگوار گزرنے لگی۔ ہر کوشش ناکام ہو گئی، غلام کسی صورت خاموش ہونے کو تیار نہ تھا۔
اسی دوران کشتی میں موجود ایک دانا شخص آگے بڑھا اور ادب سے بولا: “حضور! اگر اجازت ہو تو میں اسے خاموش کر سکتا ہوں۔”
بادشاہ نے فوراً اجازت دے دی۔
دانا نے اشارہ کیا… اور سپاہیوں نے غلام کو اچانک دریا میں دھکا دے دیا!
غلام پانی میں گرا… ایک، دو، تین غوطے کھائے… زندگی آنکھوں کے سامنے گھومنے لگی… وہ ہاتھ پاؤں مارتا رہا…
پھر سپاہیوں نے اس کے بال پکڑ کر اُسے واپس کشتی کے قریب کھینچ لیا۔
اب منظر بدل چکا تھا…
وہی غلام جو چیخ رہا تھا، اب خاموشی سے کشتی کے کونے میں بیٹھا تھا… سانسیں تیز تھیں مگر زبان بند… آنکھوں میں خوف کے ساتھ ساتھ شکر بھی تھا۔
بادشاہ حیران رہ گیا۔
اُس نے دانا سے پوچھا: “یہ کیسا طریقہ تھا؟ اس میں کیا راز ہے؟”
دانا مسکرایا اور بولا: “حضور! اس نے کبھی ڈوبنے کی تکلیف نہیں جھیلی تھی، اس لیے کشتی کے سکون کی قدر نہیں جانتا تھا…
اب جب اس نے موت کو قریب سے دیکھا ہے، تو اسے زندگی اور سکون دونوں کی حقیقت سمجھ آ گئی ہے۔”
سبق:
انسان کو نعمتوں کی قدر تب ہی آتی ہے، جب وہ مصیبت کا ذائقہ چکھ لے۔
