بلاعنوان

بلاعنوان

ایک پرانے زمانے کا ذکر ہے کہ ایک بلند و بالا اور دشوار گزار پہاڑ پر ایک نہایت خوفناک اور ظالم دیو رہا کرتا تھا۔ اس کا معمول تھا کہ وہ روزانہ آس پاس کی بستیوں پر دھاوا بولتا، وہاں سے انسانوں کو پکڑ کر لاتا اور اپنی خوراک بنا لیتا۔ گرد و نواح کے لوگ دیو کے ان لرزہ خیز مظالم سے عاجز آ چکے تھے اور ہر قیمت پر اس عذاب سے چھٹکارا چاہتے تھے۔ مگر دیو کی ہیبت ان کے دلوں پر اس قدر مسلط تھی کہ وہ کبھی آزادی کے اس خواب کو عملی جامہ پہنانے کی جرات نہ کر سکے۔

جب پانی سر سے گزر گیا اور دیو کا ظلم و ستم حد سے بڑھا، تو رفتہ رفتہ لوگوں کے دلوں میں دبی چنگاری شعلہ بننے لگی اور نفرت پروان چڑھنے لگی۔ آخرکار، یہی نفرت علمِ بغاوت بلند کرنے کا پیش خیمہ بنی۔ بستیوں کے کچھ غیور، سر پھرے نوجوان دیو کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور اس عفریت کے خاتمے پر کمر بستہ ہو گئے۔ ان کی کوششیں رنگ لائیں اور کچھ ہی عرصے میں چیدہ چیدہ مقامات پر دیو کے خلاف خفیہ مشاورتیں شروع ہو گئیں۔ ان اجلاسوں کو انتہائی راز میں رکھا جاتا تاکہ دیو کو بھنک نہ پڑے کہ لوگ اس سے متنفر ہو کر اس کے خاتمے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

تاہم، عوام کی اکثریت خوف و ہراس کا شکار تھی اور کسی بھی قسم کی مزاحمت کے سخت خلاف تھی۔ ان کا موقف تھا کہ اگر دیو کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی تو وہ سیخ پا ہو کر پوری بستیوں کو ملیا میٹ کر دے گا۔ اس کے برعکس، پرجوش نوجوان اس بات پر بضد تھے کہ اگر دیو کو روکا نہ گیا تو وہ ویسے بھی آہستہ آہستہ سب کو نگل جائے گا، لہٰذا مقابلہ ناگزیر ہے۔ مگر مصلحت پسند بزرگوں کے سامنے ان کی ایک نہ چلی۔ انہوں نے صاف کہہ دیا کہ “اگر تم نے کوئی جذباتی قدم اٹھایا تو ہم تمہیں برادری سے نکال باہر کریں گے، مبادا تمہاری کم عقلی کی وجہ سے پوری بستی دیو کے عتاب کا شکار ہو جائے۔”
یہ داخلی کشمکش ابھی جاری ہی تھی کہ بدقسمتی سے دیو کو ان خفیہ سرگرمیوں اور صف آراء ہونے کی خبر پہنچ گئی۔ وہ غضب ناک ہو گیا اور انتقام کی آگ میں اس نے کئی بستیاں روند ڈالیں۔ دیو کا یہ بھیانک ردعمل دیکھ کر لوگوں کے اوسان خطا ہو گئے۔ خوفزدہ ہجوم نے بجائے دیو کا مقابلہ کرنے کے، ساری تباہی کا ملبہ ان حریت پسند نوجوانوں پر ڈال دیا اور اپنے ہی محسنوں کے خلاف متحد ہو گئے۔ پھر کیا تھا، اپنوں ہی نے اپنوں کا شکار کیا۔ کچھ کو خود شہید کر دیا، کچھ کو پکڑ کر دیو کی بھینٹ چڑھا دیا اور باقیوں کو جلاوطن کر دیا۔ یہ شرمناک عمل کر کے وہ بزدل مطمئن ہو گئے کہ شاید اب وہ محفوظ ہیں، حالانکہ یہ ان کی سب سے بڑی اور تاریخی بھول تھی۔

تاریخ کا یہ افسانہ درحقیقت ہمارے آج کا آئینہ ہے۔ ہمارے سروں پر بھی ایک عالمی استعمار کا ‘دیو’ مسلط ہے، جو ہماری قوم کے وسائل، خودمختاری اور وقار کو نوچ رہا ہے۔ اور المیہ یہ ہے کہ ہم اس کی دہشت سے سہمے، دُبکے بیٹھے ہیں۔
ہم میں سے اکثر، خوف اور نام نہاد مصلحت کا شکار ہو کر، ان مٹھی بھر سرفروشوں کو تنہا چھوڑ رہے ہیں جو اس جدید عفریت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کی جرات رکھتے ہیں۔ کیا ہم سمجھتے ہیں کہ مزاحمت کرنے والوں کو دشمن کے حوالے کر کے، یا خاموشی اختیار کر کے ہم محفوظ ہو جائیں گے؟ یہ محض خام خیالی ہے! یاد رکھو، ظالم کی بھوک اور ہوس کبھی نہیں مٹتی۔ اگر آج ہم نے خوف کی چادر نہ اتاری اور اپنے حقیقی محافظوں کا ساتھ نہ دیا، تو کل باری ہماری ہوگی، اور تب کوئی ہماری چیخیں سننے والا بھی نہیں بچے گا۔ نجات بزدلی اور غلامی میں نہیں، بلکہ یکجان ہو کر ظالم کا ہاتھ روکنے میں ہے۔
یہ فیصلہ تو قومیں کرتی ہیں: ذلت کی ‘محفوظ’ موت، یا عزت کی بھرپور مزاحمت!

Leave a Reply

NZ's Corner