بلاعنوان

بلاعنوان

ایک زمانے میں سلطنتِ نوران پر بادشاہ سکندر شاہ حکومت کرتا تھا۔ وہ اپنی رعایا سے بے حد محبت کرتا تھا، اسی لیے پورے ملک میں امن اور خوشحالی تھی۔ مگر ایک رات سب کچھ بدل گیا۔

دارالحکومت کے امیر تاجروں کے گھروں میں پراسرار چوریاں شروع ہو گئیں۔

نہ کوئی آواز… نہ کوئی نشان… نہ کوئی گواہ…

لوگ خوفزدہ ہو گئے۔ ہر گلی میں صرف ایک ہی نام گونجتا تھا:

“سایہ چور!”

یہ چور دراصل ایک نہایت چالاک شخص تھا جس کا نام زریاب تھا۔ وہ ہر بار نیا بھیس بدلتا اور ایسے غائب ہو جاتا جیسے کبھی آیا ہی نہ ہو۔

جب شاہی خزانے کے قریب بھی مشکوک حرکت دیکھی گئی تو بادشاہ غصے سے تخت سے اٹھ کھڑا ہوا۔

“اگر یہ چور جلد نہ پکڑا گیا، تو عوام کا قانون پر سے یقین اٹھ جائے گا!”

بادشاہ کے دربار میں خاموشی چھا گئی۔ تب وزیرِ اعظم حمزہ میر آہستگی سے آگے بڑھا۔ اس کی آنکھوں میں عجیب اعتماد تھا۔

“عالی جاہ… تلوار سے نہیں، عقل سے شکار کیا جاتا ہے۔ مجھے صرف دو دن دیجیے۔”

اگلی صبح پورے شہر میں منادی کروائی گئی:

> “آج رات شاہی خزانے میں نایاب سرخ ہیرے منتقل کیے جائیں گے۔ وزیرِ اعظم خود نگرانی کریں گے، اسی لیے پہرہ کم رکھا گیا ہے۔”

یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔

جب زریاب نے سنا تو اس کے ہونٹوں پر خطرناک مسکراہٹ پھیل گئی۔

“آخر وزیر بھی انسان نکلا… ایسی غلطی تو میں کبھی نہ کرتا۔”

رات گہری ہوئی۔

آسمان پر کالے بادل چھا گئے۔

محل کی دیواروں کے سائے میں ایک سپاہی خاموشی سے چلتا ہوا خزانے تک پہنچا… مگر وہ سپاہی نہیں، زریاب تھا۔

اس نے مہارت سے تالہ کھولا۔

چرررر…

صندوق آہستہ سے کھلا۔

لیکن اندر ہیرے نہیں تھے…

صرف ایک جلتا ہوا چراغ… اور ایک خط۔

زریاب کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔

کانپتے ہاتھوں سے اس نے خط کھولا:

“زریاب… تم دیر سے آئے۔ ہم کافی دیر سے تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔”

اچانک پورا کمرہ روشنی سے بھر گیا۔

چاروں طرف سپاہی نکل آئے۔

اور سامنے… وزیرِ اعظم حمزہ میر کھڑا مسکرا رہا تھا۔

دروازے بند ہو چکے تھے۔

زریاب نے بھاگنے کی کوشش کی، مگر ہر راستہ بند تھا۔

پہلی بار اس کی آنکھوں میں خوف دکھائی دیا۔

“تمہیں… کیسے معلوم ہوا کہ میں آج ہی آؤں گا؟”

وزیر آہستہ آہستہ اس کے قریب آیا اور بولا:

“چالاک انسان اپنی عقل سے نہیں ہارتا… وہ اپنے غرور سے ہارتا ہے۔ میں جانتا تھا کہ تم اتنے بڑے لالچ کو کبھی نظر انداز نہیں کرو گے۔”

زریاب خاموش ہو گیا۔

اس نے سر جھکا دیا۔

اگلے دن پورا شہر شاہی دربار کے باہر جمع تھا۔ جب خطرناک “سایہ چور” کو زنجیروں میں لایا گیا تو لوگ حیران رہ گئے۔

بادشاہ نے خوش ہو کر وزیر کو سونے کی تلوار اور شاہی اعزاز سے نوازا۔

اور یوں… ایک چالاک چور اپنی ہوس اور غرور کی وجہ سے پکڑا گیا، جبکہ ایک ذہین وزیر نے بغیر خون بہائے پوری سلطنت کو خوف سے آزاد کرا دیا۔

Leave a Reply

NZ's Corner