بلاعنوان

بلاعنوان


ایک شخص نے ایک مرغا پالا ہوا تھا۔
مرغا ہر صبح بڑے فخر سے اذان دیتا، پروں کو پھڑپھڑاتا اور پورے صحن میں زندگی کی آواز بکھیر دیتا۔

ایک دن مالک کے دل میں خیال آیا کہ اب اس مرغے کو ذبح کر دینا چاہیے۔
مگر وہ کوئی ایسا بہانہ چاہتا تھا جس سے اپنا ظلم بھی جائز لگے۔

اس نے مرغے کو بلایا اور سخت لہجے میں کہا:

“کل سے اگر تم نے اذان دی تو تمہیں ذبح کر دوں گا!”

مرغے نے سر جھکا کر کہا:
“جی آقا، جیسے آپ کی مرضی۔”

اگلی صبح اذان کا وقت آیا۔
مرغے نے آواز تو نہ نکالی، مگر عادت سے مجبور ہو کر اپنے پروں کو زور زور سے پھڑپھڑانے لگا۔

مالک غصے سے بولا:
“میں نے منع کیا تھا! کل سے پر بھی نہیں ہلنے چاہئیں، ورنہ جان سے جاؤ گے!”

مرغا خاموش ہوگیا۔

اگلے دن صبح ہوئی۔
اس بار اس نے نہ اذان دی، نہ پر ہلائے۔
لیکن وقتِ سحر آتے ہی اس کی گردن بے اختیار آسمان کی طرف اٹھ گئی۔

مالک نے پھر ڈانٹا:
“کل سے گردن بھی نہیں اٹھنی چاہیے!”

اب مرغا بالکل سہم گیا۔

اگلی صبح وہ ایک کونے میں دبک کر بیٹھا رہا۔
نہ آواز، نہ پر، نہ گردن کی جنبش۔
وہ اپنی پہچان کھو چکا تھا۔
مرغا ہوتے ہوئے بھی مرغی کی طرح خاموش بیٹھا تھا۔

مالک نے سوچا:
“یہ تو ہر حکم مان لیتا ہے… اب ایسا حکم دیتا ہوں جو اس کے بس میں ہی نہ ہو۔”

وہ طنزیہ ہنسی کے ساتھ بولا:

“سن! کل صبح مجھے انڈا چاہیے… ورنہ ذبح کر دوں گا!”

یہ سنتے ہی مرغے کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
وہ بری طرح رونے لگا۔

مالک نے حیرت سے پوچھا:
“کیوں؟ موت کے ڈر سے رو رہے ہو؟”

مرغے نے نم آنکھوں سے جواب دیا:
میں اس پر رو رہا ہوں کہ کاش میں پہلے دن ہی اذان پر کٹ مرتا۔ 
کم از کم موت عزت کی ہوتی۔ انڈا نہ دینے پر ذلت کی موت تو نہ مرتا۔”

⚖️
جو شخص ظلم کے پہلے حکم پر خاموش ہوجاتا ہے،
اس کے سامنے پھر ظلم کی حدیں بڑھتی ہی چلی جاتی ہیں۔

پہلے آواز چھینی جاتی ہے،
پھر شناخت،
پھر غیرت…
اور آخر میں انسان سے وہ مانگا جاتا ہے
جو اس کے وجود کے خلاف ہو.

Leave a Reply

NZ's Corner