ایک وقت کی بات ہے، ایک بہت معروف اور طاقتور بادشاہ تھا جس کا نام شاہِ سکندر تھا۔ اس کی سلطنت بہت وسیع تھی، خزانے سونے چاندی سے بھرے ہوئے تھے اور لوگ اس کے خوف سے کانپتے تھے۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بادشاہ میں غرور اور تکبر آ گیا۔ وہ غریبوں پر ظلم کرتا، کمزوروں کی فریاد نہیں سنتا تھا اور خود کو سب سے بڑا سمجھنے لگا۔
ایک دن ایک بوڑھا فقیر محل کے دروازے پر آیا اور بادشاہ سے کہا:
“اے بادشاہ! ظلم کی حکومت زیادہ دیر قائم نہیں رہتی۔”
بادشاہ نے غصے میں آ کر فقیر کو قید کر دیا اور ہنس کر بولا:
“مجھے کوئی نہیں ہرا سکتا!”
کچھ ہی دنوں بعد بادشاہ کی سلطنت میں قحط پڑ گیا۔ لوگ بھوکے مرنے لگے، سپاہیوں نے بغاوت کر دی اور دشمن فوج نے حملہ کر دیا۔ جس بادشاہ کے ایک اشارے پر ہزاروں سپاہی دوڑتے تھے، آج وہ اکیلا رہ گیا۔
بادشاہ اپنے خزانے لے کر محل سے بھاگا، مگر راستے میں ڈاکوؤں نے سب کچھ لوٹ لیا۔ وہ جنگل میں بھٹکتا رہا، بھوکا پیاسا زمین پر گر پڑا۔ مرنے سے پہلے اسے فقیر کی بات یاد آئی:
“ظلم اور غرور انسان کو تباہ کر دیتے ہیں۔”
آخرکار وہی بادشاہ جو خود کو دنیا کا سب سے طاقتور انسان سمجھتا تھا، بے بسی کی حالت میں دنیا سے چلا گیا۔ اس کے بعد لوگ اس کے محل کے کھنڈرات دیکھ کر کہتے:
“طاقت اور دولت ہمیشہ نہیں رہتی، مگر اچھے اعمال ہمیشہ یاد رہتے ہیں۔”
