چاچا! فالسہ کیا حساب دے رہے ہو ؟”
صاحب جی تازہ فالسہ صرف دو سو روپے کلو
کار والے کا منہ بن گیا۔دو سو روپے؟؟
اگر کسی کی مدد نہیں کر سکتے، تو
کم از کم اسے اپنی باتوں سےدکھ نہ پہنچائیں۔۔
جون کی تپتی ہوئی دوپہر تھی اور سورج آگ برسا رہا تھا۔
سڑک کے کنارے، پچپن سالہ چاچا برکت اپنی ریڑھی پر گہرے جامنی رنگ کے چمکتے ہوئے تازہ فالسے سجائے کھڑا تھا۔وہ مسلسل پنکھا جھلتے ہوئے گاہکوں کو متوجہ کرنے کے لیے آواز لگا رہا تھا: “ٹھنڈے میٹھے فالسے… گرمی کا توڑ فالسے!”
چاچا برکت اندر سے شدید پریشان تھا۔ اس کا کرائے کا چھوٹا سا مکان تھا، مالک مکان دو بار کرائے کا تقاضا کر چکا تھا اور اوپر سے اس بار بجلی کا بل پورا چھ ہزار روپے آیا تھا،
جس نے اس کے ہوش اڑا دیے تھے۔ گھر میں راشن ختم ہونے کو تھا اور صبح سے اب تک کوئی خاص بونی بھی نہیں ہوئی تھی۔
اتنے میں ایک چمکتی ہوئی سفید کار ریڑھی کے پاس آ کر رکی۔ شیشہ نیچے ہوا، ٹھنڈی اے سی کی ہوا کا ایک جھونکا باہر آیا اور اندر بیٹھے ایک سوٹ بوٹ والے صاحب نے عینک اتار کر رعب دار آواز میں پوچھا: “
چاچا! فالسہ کیا حساب دیا؟”
چاچا برکت نے جلدی سے آگے بڑھ کر ادب سے کہا: “صاحب جی! بہت اچھا اور میٹھا فالسہ ہے، صرف دو سو روپے کلو۔”
کار والے صاحب کا منہ بن گیا۔ “دو سو روپے؟
اندھیر نگری مچی ہے کیا! لوٹ مار لگا رکھی ہے تم غریبوں نے۔
چلو، ایک کلو تول دو لیکن میں ایک سو اسی روپے دوں گا، ایک روپیہ اوپر نہیں ملے گا۔”
چاچا برکت کا دل دھک سے رہ گیا، اس نے ہاتھ جوڑ کر کہا: “صاحب جی! غریب کی روزی ہے، دو سو روپے میں مجھے خود مشکل سے دس پندرہ روپے بچتے ہیں، مہربانی کریں دو سو ہی دے دیں۔”
کار والے صاحب غصے سے بولے: “رکھنا ہے تو رکھو، ورنہ یہ لو اپنی باتیں اپنے پاس رکھو، تم لوگوں کا روز کا یہی ڈرامہ ہے۔ سارا دن سڑک پر کھڑے ہو کر لوٹتے ہو لوگوں کو۔”
چاچا نے ایک ٹھنڈی آہ بھری۔ گاہک ہاتھ سے جا رہا تھا
اس نے کانپتے ہاتھوں سے فالسہ تولا اور ایک سو اسی روپے لے کر لفافہ کار میں تھما دیا۔ کار والے صاحب نے شیشہ اوپر کیا اور باتیں سناتے ہوئے گاڑی بھگا لے گئے۔
چاچا برکت سڑک کے کنارے، فٹ پاتھ کے پاس فرش پر نڈھال ہو کر بیٹھ گیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
وہ بھاری دل کے ساتھ اپنے آپ سے بڑبڑانے لگا:
“یا اللہ! یہ کیسے لوگ ہیں؟
لاکھوں روپے کی گاڑیوں میں گھومتے ہیں
بڑے بڑے مالز میں جا کر ہزاروں لاکھوں کی شاپنگ پر ایک روپیہ نہیں کم کرواتے، وہاں چپ چاپ کارڈ سوائپ کر دیتے ہیں۔
لیکن ہم جیسے غریبوں کی ریڑھی پر آ کر دس بیس روپے کے پیچھے ہمارا پورا جگرا نکال لیتے ہیں۔
انہیں ہمارا پسینہ نظر نہیں آتا، ہماری غریبی نظر نہیں آتی
چاچا ابھی اسی کرب میں سر جھکائے بیٹھا تھا کہ ایک موٹر سائیکل آ کر رکی۔
ایک سادہ لباس والا نوجوان، عثمان، نیچے اترا۔ وہ کچھ دیر سے دور کھڑا یہ سارا تماشہ دیکھ رہا تھا۔
عثمان نے ریڑھی کے پاس آ کر چاچا کے موڈھے پر ہاتھ رکھا اور بڑے پیار سے اس کے پاس فٹ پاتھ پر ہی بیٹھ گیا۔
“چاچا! پریشان کیوں ہوتے ہو؟ اس دنیا میں اگر کچھ دل پتھر ہیں، تو کچھ دل دھڑکنے والے بھی ہیں۔” عثمان نے نرمی سے کہا۔
چاچا برکت نے چونک کر اوپر دیکھا اور اپنے آنسو پونچھتے ہوئے بولا: “بیٹا، بس دل بھر آیا تھا۔
یہ امیر لوگ ہم غریبوں پر ترس کیوں نہیں کھاتے؟
دس بیس روپے بچا کر ان کا بنگلہ تو بڑا نہیں ہو جائے گا
لیکن ہماری شام کی روٹی کا آسرا ٹوٹ جاتا ہے۔”
عثمان نے مسکرا کر چاچا کو تسلی دی: “چاچا جی،
یہ ان کی سوچ کی غریبی ہے، آپ دل چھوٹا نہ کریں۔ آپ رزقِ حلال کما رہے ہیں اور اللہ آپ کے پسینے کی ایک ایک بوند کا حساب رکھتا ہے۔”
عثمان نے اپنی جیب سے پرس نکالا اور چاچا کی ریڑھی پر موجود باقی سارے فالسے پر ایک نظر ڈالی۔ اس نے آگے بڑھ کر محبت سے کہا:
“چاچا! پریشان نہ ہوں، یہ ریڑھی پر جتنا بھی فالسہ ہے، یہ سب آپ مجھے تول دیں۔ آج گھر میں مہمان آ رہے ہیں، یہ سب وہاں کام آ جائے گا۔
چاچا برکت نے حیرت اور خوشی سے جلدی جلدی سارا فالسہ تولا تو چھ کلو وزن ہوا جس کے بارہ سو روپے بنے
عثمان نے پرس سے 5 ہزار کا نوٹ نکالا اور چاچا کے ہاتھ پر رکھ دیا۔
جب چاچا برکت باقی روپے واپس کرنے کے لیے اپنے تھیلے میں ڈھونڈنے لگے، تو عثمان نے نرمی سے چاچا کا ہاتھ تھام لیا اور دھیمی آواز میں بولا:
“نہیں چاچا، یہ باقی پیسے واپس نہیں کرنے…
اسے اس تپتی دھوپ میں آپ کی محنت کا بونس سمجھیں، یا اس بھاری بجلی کے بل میں اپنے اس چھوٹے بھائی کا ایک ادنیٰ سا حصہ سمجھیں
چاچا، یہ صرف آپ کی اس سفید پوشی اور خودداری کا مان ہے جو آپ سڑک پر کھڑے ہو کر کما رہے ہیں۔”
حاصلِ کلام:
کسی غریب کی ریڑھی پر دس بیس روپے کے لیے بحث کرنا چھوڑ دیں۔
آپ کی چند روپوں کی رعایت کسی غریب کے گھر کا چولہا جلا سکتی ہے۔
اگر کسی کی مدد نہیں کر سکتے، تو
کم از کم اسے اپنی باتوں سے دکھ نہ پہنچائیں۔۔
اللہ تعالیٰ برکت بابا کی مشکلات آسان فرمائے :آمین
