بلاعنوان

بلاعنوان

گاؤں نورپور میں ایک شخص رہتا تھا جس کا نام اللہ دتہ تھا۔ اس کے پاس نہ بڑی زمین تھی، نہ کوئی دکان، نہ دولت کے انبار۔ اس کی کل کائنات ایک مضبوط گھوڑا، ایک پرانا سا ٹانگا اور لوگوں کا اعتماد تھا۔

وہ روز صبح سورج نکلنے سے پہلے اٹھتا، گھوڑے کو سنوارتا، ٹانگا تیار کرتا اور گاؤں سے شہر کی طرف روانہ ہو جاتا۔ شام ڈھلے واپس آتا تو اس کے ٹانگے پر کبھی کسان بیٹھے ہوتے، کبھی مزدور، کبھی طالب علم اور کبھی شہر کے بابو لوگ۔

عجیب بات یہ تھی کہ گاؤں میں اس سے کہیں زیادہ خوبصورت ٹانگے بھی تھے، زیادہ تیز گھوڑے بھی تھے اور کم کرایہ لینے والے لوگ بھی تھے، مگر پھر بھی مسافر اسی کے ٹانگے کا انتظار کرتے تھے۔

لوگ کہتے تھے:
“اللہ دتہ صرف ٹانگا نہیں چلاتا، دل بھی چلاتا ہے۔”
وہ زیادہ بولتا نہیں تھا۔
اگر کوئی کسان بیٹھتا تو وہ اس کی فصلوں کے بارے میں پوچھتا۔

اگر کوئی طالب علم بیٹھتا تو اس کے امتحان کے بارے میں دریافت کرتا۔
اگر کوئی بوڑھا بیٹھتا تو اس کے جوانی کے قصے سنتا۔
اگر کوئی دکاندار بیٹھتا تو اس کے کاروبار کی باتیں سنتا۔
لوگ جب اترتے تو انہیں یوں لگتا جیسے انہوں نے سفر نہیں کیا بلکہ کسی دوست سے ملاقات کر کے آئے ہیں۔
اسی وجہ سے اللہ دتہ کبھی فارغ نہیں رہتا تھا۔
دوسرے ٹانگے والے گھنٹوں مسافروں کے انتظار میں کھڑے رہتے لیکن اس کا ٹانگا ایک سواری اتارتا تو دوسری بیٹھ جاتی۔
وقت گزرتا رہا۔
پھر ایک دن آزمائش آ گئی۔
اس کی اکلوتی بیٹی زینب شدید بیمار پڑ گئی۔
پہلے گاؤں کے حکیم کے پاس لے گیا۔
پھر دوسرے گاؤں کے ڈاکٹر کے پاس۔
پھر تیسرے قصبے کے اسپتال تک پہنچا۔ مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔
آخر ایک ڈاکٹر نے معائنے کے بعد کہا: “اگر بچی کو بچانا ہے تو اسے بڑے شہر کے اسپتال لے جانا ہوگا۔”

اللہ دتہ کے پاؤں تلے زمین نکل گئی۔
شہر کا سفر، علاج، دوائیاں، ٹیسٹ،
یہ سب اس کی استطاعت سے باہر تھا۔
اس رات وہ سو نہ سکا۔
کبھی بیٹی کو دیکھتا، کبھی چھت کو۔ کبھی دعا کرتا، کبھی آنسو پونچھتا۔
اگلی صبح وہ بھاری دل کے ساتھ ٹانگا لے کر نکلا۔
شہر جانے والے ایک بابو صاحب اس کے ٹانگے میں بیٹھ گئے۔
پورا راستہ اللہ دتہ کے دل کا بوجھ زبان پر آتا رہا۔
اس نے اپنی بیٹی کی بیماری کا ذکر کیا۔اپنی بے بسی کا ذکر کیا۔
اپنی غربت کا ذکر کیا۔
اپنی پریشانی کا ذکر کیا۔ شاید پہلی بار اس نے کسی مسافر کو اپنی کہانی سنائی تھی۔
بابو خاموشی سے سنتا رہا۔
شہر پہنچ کر جب وہ اترا تو اس نے کرایہ دیا اور اس کے ساتھ ایک بڑی رقم مزید نکال کر اللہ دتہ کے ہاتھ پر رکھ دی۔

اور کہا:
“اپنی بیٹی کا علاج کرائیے۔”
اللہ دتہ کی آنکھیں بھر آئیں۔
وہ بار بار دعائیں دینے لگا۔
یہ واقعہ اس کے دل میں نقش ہو گیا۔
مگر وہ ایک بات سمجھ نہ سکا۔
اسے لگا کہ لوگوں کے دل جیتنے کا راز یہی ہے کہ اپنی مشکلات سنائی جائیں۔ یہی اس کی زندگی کی سب سے بڑی غلط فہمی ثابت ہوئی۔
اب جو بھی اس کے ٹانگے میں بیٹھتا، وہ فوراً اپنی کہانی شروع کر دیتا۔

“میری بیٹی بیمار ہے”
“میرے حالات خراب ہیں.”
“زندگی بڑی مشکل ہے”
“زمانہ بڑا ظالم ہے”
“کوئی میرا ساتھ نہیں دیتا”
شروع میں لوگ ہمدردی کرتے۔
کوئی دعا دیتا۔کوئی تسلی دیتا۔
کوئی چند روپے اضافی دے دیتا۔
مگر آہستہ آہستہ صورتحال بدلنے لگی۔
جو لوگ پہلے سفر کے لیے اس کا انتظار کرتے تھے، اب دور سے اسے دیکھ کر دوسرا ٹانگا پکڑ لیتے۔
جو پہلے اس کے ساتھ بیٹھ کر خوش ہوتے تھے، اب بہانے بناتے۔

کوئی کہتا: “جلدی ہے۔”
کوئی کہتا:
“آج دوسری طرف جانا ہے۔”

کوئی کہتا:”ابھی نہیں۔”
حالانکہ اصل وجہ کچھ اور تھی۔
لوگ ہر بار ایک ہی غم، ایک ہی شکوہ اور ایک ہی شکایت سن سن کر تھک چکے تھے۔
چند مہینوں میں اس کا ٹانگا ویران ہونے لگا۔
جو شخص کبھی خالی نہ کھڑا ہوتا تھا اب گھنٹوں سڑک کنارے انتظار کرتا رہتا۔

ایک دن شام کو خالی ہاتھ گھر واپس آیا۔
اس کی بیوی سکینہ نے پوچھا:
“آج پھر کوئی سواری نہیں ملی؟”
اللہ دتہ نے خاموشی سے سر ہلا دیا۔
بیوی نے کہا: “وجہ کیا ہے؟”

اس نے جواب دیا:
“پتہ نہیں۔”
مگر سکینہ سمجھدار عورت تھی۔

اس نے کہا:
“سوچو، پہلے اور اب میں فرق کیا آیا ہے؟”
اللہ دتہ دیر تک سوچتا رہا۔
پھر بولا: “پہلے میں لوگوں کی باتیں سنتا تھا۔”
“اور اب؟” “اب میں اپنی سناتا ہوں۔”
سکینہ مسکرائی۔
اور آہستہ سے بولی:”مسئلہ یہی ہے۔”
اللہ دتہ خاموش ہو گیا۔

سکینہ نے کہا:
“لوگوں کو اپنے بارے میں بات کرنا پسند ہے۔”
“لوگ چاہتے ہیں کہ کوئی انہیں سمجھے۔”
“کوئی انہیں سنے۔”
“کوئی ان کے دل کی بات پوچھے۔”
“تم پہلے یہی کرتے تھے۔”
“تم ان کے غم سنتے تھے، ان کی خوشیاں سنتے تھے، ان کی کامیابیاں سنتے تھے۔”
“اس لیے وہ تمہارے پاس آتے تھے۔”
“لیکن اب تم ہر شخص کو اپنا غم سناتے ہو۔”
“لوگ تم پر ترس تو کھاتے ہیں، مگر ہر وقت ترس کھانا نہیں چاہتے۔”
“لوگ ہمدردی تو کرتے ہیں، مگر ہمیشہ بوجھ اٹھانا نہیں چاہتے۔”
“لوگ ایسے شخص کے پاس جانا پسند کرتے ہیں جس کے پاس جا کر ان کا دل ہلکا ہو۔”
“نہ کہ ایسے شخص کے پاس جس کے پاس جا کر ان کا دل مزید بوجھل ہو جائے۔”
یہ الفاظ اللہ دتہ کے دل میں تیر کی طرح اتر گئے۔

اس رات اسے نیند نہ آئی۔
وہ دیر تک سوچتا رہا۔
پھر اسے احساس ہوا کہ واقعی وہ بدل گیا تھا۔ پہلے وہ لوگوں کی زندگی میں دلچسپی لیتا تھا۔
اب صرف اپنی زندگی میں لیتا تھا۔
پہلے وہ دوسروں کے زخموں پر مرہم رکھتا تھا۔
اب ہر وقت اپنا زخم دکھاتا تھا۔
اگلے دن اس نے فیصلہ کیا کہ وہ پرانا اللہ دتہ بنے گا۔

صبح ایک کسان اس کے ٹانگے میں بیٹھا۔
اللہ دتہ نے اپنی بیماریوں اور پریشانیوں کا ذکر نہیں کیا۔
بلکہ پوچھا:
“اس بار گندم کیسی ہوئی؟”
کسان کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔
پھر دونوں پورا راستہ فصلوں کی باتیں کرتے رہے۔
اگلے دن ایک طالب علم بیٹھا۔

اس نے پوچھا:
“امتحان کی تیاری کیسی چل رہی ہے؟”
طالب علم خوشی سے بولنے لگا۔
پھر ایک دکاندار بیٹھا۔
اس نے اس کے کاروبار کے بارے میں پوچھا۔

پھر ایک بوڑھا بیٹھا۔
اس نے اس کی جوانی کے قصے سننے شروع کر دیے۔
چند ہفتوں میں پرانے دن واپس آنے لگے۔
لوگ دوبارہ اس کا انتظار کرنے لگے۔
اس کا ٹانگا پھر بھرنے لگا۔

اخلاقی سبق :
“لوگ تمہارے دکھ سن کر تم پر رحم کر سکتے ہیں، لیکن تمہاری محبت اس وقت جیتتے ہیں جب تم ان کے دکھ سنو۔”

کیونکہ انسان کو اپنی آواز دنیا کی سب سے میٹھی آواز لگتی ہے، اور جو شخص اسے یہ موقع دے دیتا ہے، وہ اکثر دلوں میں ہمیشہ کے لیے جگہ بنا لیتا ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner