بلاعنوان

بلاعنوان

بہت زمانہ پہلے کی بات ہے۔ ایک وسیع و عریض سلطنت پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کے دربار میں تین غلام تھے۔ ان تینوں کے ایک ایک بیٹے تھے، اور اتفاق سے ان کے نام بھی بڑے انوکھے تھے:
پہلا “نظر نہ آنے والا”، دوسرا “خدا کا تحفہ” اور تیسرا “بادشاہ سے زیادہ عقلمند” کہلاتا تھا۔
بادشاہ کو تیسرے لڑکے کا نام ہمیشہ کھٹکتا تھا۔ وہ دل ہی دل میں سوچتا:
“ایک غلام کا بیٹا اور دعویٰ ایسا کہ بادشاہ سے زیادہ عقلمند! اس کی عقل کا گھمنڈ توڑنا ضروری ہے۔”
ایک دن اس نے تینوں نوجوانوں کو دربار میں بلایا۔
پہلے دو کو اس نے ایک ایک باندھا جو (جو کا گٹھا) دیا اور فرمایا:
“اسے بو دو، اگلے سال تین سو باندھا جو لے کر آنا۔”
پھر اس نے تیسرے نوجوان کو بھی صرف ایک باندھا جو دیا اور وہی حکم سنایا، مگر لہجے میں طنز گھلا ہوا تھا۔
نوجوان نے ادب سے سر جھکایا اور خاموشی سے چلا گیا۔
سال گزرتے دیر نہیں لگتی۔
اگلے برس دربار سجا، نقارے بجے اور تینوں نوجوان حاضر ہوئے۔
پہلے دو نوجوان واقعی تین تین سو باندھا جو لے آئے۔
مگر جب “بادشاہ سے زیادہ عقلمند” کی باری آئی تو وہ صرف ایک ٹوکری بھوسا اٹھائے دربار میں داخل ہوا۔
بادشاہ کی آنکھیں غصے سے سرخ ہوگئیں۔
“یہ کیا مذاق ہے؟” وہ دھاڑا۔
“تمہاری فصل کہاں ہے؟”
نوجوان نے نہایت سکون سے جواب دیا:
“حضور! آپ نے مجھے ایک باندھا جو دیا تھا، میں نے وہی زمین میں بو دیا۔ اب جو اگا، وہ یہی ہے۔ میں آپ کی دی ہوئی امانت ہی واپس لایا ہوں۔”
دربار میں کھسر پھسر شروع ہوگئی۔
بادشاہ دانت پیس کر رہ گیا، مگر ابھی اس نے ہار نہیں مانی تھی۔
کچھ دن بعد اس نے ایک اور چال سوچی۔
اس نے پہلے دو نوجوانوں کو دو دو گائیں اور ایک ایک سانڈ دیا اور حکم سنایا:
“اگلے سال ان سانڈوں سے بچھڑے پیدا کرکے لانا۔”
پہلے دو نوجوان کچھ نہ بولے۔ وہ گائیں بھی لے گئے اور سانڈ بھی۔
تیسرے نوجوان کو بھی ایک سانڈ دیا گیا اور یہی حکم ملا۔
اس نے سر جھکا کر “جی حضور” کہا اور رخصت ہوگیا۔
سال پورا ہوا۔
پہلے دو نوجوان اپنے ریوڑ کے بچھڑے لے کر دربار میں حاضر ہوئے۔
لیکن “بادشاہ سے زیادہ عقلمند” کہیں دکھائی نہ دیا۔
اسی دوران محل کے باہر شور مچا۔
بادشاہ نے کھڑکی سے جھانکا تو دیکھا کہ وہ نوجوان ایک کلہاڑی لیے شاہی باغ کے سب سے بڑے درخت پر چڑھا بیٹھا ہے اور پوری طاقت سے شاخیں کاٹ رہا ہے۔
بادشاہ غصے سے آگ بگولا ہو گیا۔
“ارے نادان! یہ کیا کر رہے ہو؟”
نوجوان نے نیچے دیکھ کر بڑے اطمینان سے جواب دیا:
“حضور! اپنے باپ کے لیے لکڑیاں کاٹ رہا ہوں۔”
بادشاہ حیران رہ گیا۔
“تمہارا باپ؟”
“جی ہاں!”
“وہ لکڑیاں کیا کرے گا؟”
نوجوان نے کہا:
“وہ مجھے پیدا کرنے والا ہے، اس لیے اس کی خدمت کرنا میرا فرض ہے۔”
بادشاہ جھنجھلا کر بولا:
“احمق! کیا مرد بھی کبھی بچے پیدا کرتے ہیں؟”
یہ سن کر نوجوان کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
اس نے کلہاڑی کندھے پر رکھی اور نہایت ادب سے بولا:
“حضور، اگر مرد بچے پیدا نہیں کر سکتے تو پھر آپ نے مجھے ایک سانڈ دے کر اس سے بچھڑے پیدا کرنے کا حکم کیوں دیا تھا؟”
یہ سننا تھا کہ پورا دربار ساکت ہو گیا۔
کچھ لمحوں تک ایسی خاموشی چھائی کہ گویا ہوا بھی رک گئی ہو۔
بادشاہ کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہ تھا۔
اسے پہلی بار احساس ہوا کہ عقل و دانائی نہ تاج کی محتاج ہوتی ہے اور نہ تخت کی۔
آخرکار اس نے اپنی غلطی تسلیم کی، نوجوان کو معاف کیا اور عزت و انعام کے ساتھ رخصت کیا۔
سبق
عقل کا تعلق نہ حسب و نسب سے ہے، نہ دولت و اقتدار سے۔ بعض اوقات ایک عام انسان کی سوجھ بوجھ بڑے سے بڑے حاکم کے غرور کو خاک میں ملا دیتی ہے۔
محاورے میں یوں کہیے:
“تاج سر پر رکھنے سے عقل نہیں آتی، اور پھٹے کپڑے پہننے سے دانائی کم نہیں ہوتی۔”
یا
“جو دوسروں کو بےوقوف سمجھتا ہے، اکثر خود اپنی نادانی کا تماشا بن جاتا ہے۔”
منقول

Leave a Reply

NZ's Corner