کہتے ہیں ایک سلطنت کا بادشاہ اپنی دولت، فوج اور شان و شوکت پر ایسا نازاں تھا جیسے مور اپنے پروں پر۔ محل کے مینار آسمان سے باتیں کرتے تھے، خزانے کے دروازے سونے سے جڑے تھے، مگر دل کا حال یہ تھا کہ بے چینی کا پرندہ ہر وقت اس کے سینے میں پھڑپھڑاتا رہتا تھا۔
ایک دن خبر ملی کہ ایک درویش صفت صوفی شہر میں آیا ہے، جس کی دعا میں تاثیر ہے اور جس کی بات میں حکمت۔
بادشاہ نے فوراً حکم دیا:
“فقیر کو عزت کے ساتھ محل میں لایا جائے!”
مگر صوفی محل میں پہنچ کر مرمر کے فرشوں اور ریشمی پردوں سے بے نیاز ایک درخت کے نیچے جا بیٹھا۔ بادشاہ خود چل کر اس کے پاس آیا۔
صوفی نے مسکراتے ہوئے کہا:
“بادشاہ سلامت! آج تمہیں تین خواہشیں مانگنے کا اختیار دیتا ہوں۔ جو مانگو گے، پورا ہوگا۔”
بادشاہ کی آنکھوں میں چمک آگئی۔ اس نے بغیر سوچے کہا:
“پہلی خواہش یہ ہے کہ میرے خزانے میں اتنا سونا اور چاندی ہو کہ میں عمر بھر گنتا رہوں اور گنتی ختم نہ ہو!”
صوفی نے خاموشی سے ہاتھ ہلایا۔
کہتے ہیں اسی لمحے خزانے کے دروازے چرچرا اٹھے۔ سونے کی اینٹیں، چاندی کے ڈھیر، جواہرات کے انبار ایسے نمودار ہوئے جیسے زمین نے اپنے تمام راز اگل دیے ہوں۔
بادشاہ خوشی سے اچھل پڑا۔
“واہ! اب دوسری خواہش سنو۔ میں کبھی بیمار نہ ہوں، نہ بخار آئے، نہ درد، نہ بڑھاپے کی کمزوری!”
صوفی نے پھر ہاتھ ہلایا۔
بادشاہ نے خود کو دیکھا تو جسم میں ایسی تازگی دوڑ رہی تھی جیسے بہار نے خشک باغ میں دوبارہ زندگی پھونک دی ہو۔
اب تیسری خواہش کا وقت آیا۔
بادشاہ نے گردن اکڑائی، مونچھوں کو تاؤ دیا اور فاتحانہ انداز میں بولا:
“اور میری تیسری خواہش یہ ہے کہ میں ہمیشہ زندہ رہوں!”
اس بار صوفی کا ہاتھ ہوا میں ہی رک گیا۔
وہ مسکرایا اور بولا:
“یہ خواہش پوری نہیں ہو سکتی۔”
بادشاہ حیران رہ گیا۔
“کیا مطلب؟ ابھی تو تم کہہ رہے تھے کہ کوئی بھی تین خواہشیں مانگو!”
صوفی نے قہقہہ لگایا اور کہا:
“بادشاہ سلامت! پہلی دو خواہشوں میں تو میں آپ کی عقل کا امتحان لے رہا تھا۔”
“امتحان؟”
“جی ہاں! تم نے بے حساب دولت مانگی، دائمی صحت مانگی، مگر عقل نہیں مانگی۔”
بادشاہ کا چہرہ اتر گیا۔
صوفی نے بات جاری رکھی:
“اگر عقل ہوتی تو پہلے عقل مانگتے۔ پھر عقل خود بتاتی کہ دولت کتنی چاہیے، صحت کا کیا مصرف ہے، اور زندگی کی اصل حقیقت کیا ہے۔”
پھر ہنستے ہوئے بولا:
“اب دیکھو، خزانہ بھی مل گیا، صحت بھی مل گئی، مگر تیسری خواہش مانگنے سے پہلے سوچنے کی دولت نہ ملی۔”
بادشاہ نے ماتھا پکڑ لیا۔
“تو کیا اب کچھ ہو سکتا ہے؟”
صوفی نے جواب دیا:
“ہاں، ایک کام ہو سکتا ہے۔”
بادشاہ کی آنکھوں میں امید جاگی۔
“کیا؟”
صوفی بولا:
“آئندہ خواہش مانگنے سے پہلے سوچ لیا کرو!”
یہ سن کر دربار کے لوگ ہنس پڑے، اور بادشاہ شرمندگی سے اپنی داڑھی سہلانے لگا۔
صوفی اٹھا، اپنی چادر جھاڑی اور جاتے جاتے کہہ گیا:
“یاد رکھو، دولت جیب بھر سکتی ہے، صحت جسم سنوار سکتی ہے، مگر عقل نہ ہو تو انسان سونے کے ڈھیر پر بیٹھ کر بھی خسارے میں رہتا ہے۔”
سبق
عقل وہ چراغ ہے جو دولت اور طاقت دونوں کو راستہ دکھاتا ہے۔ پہلے عقل مانگو، پھر دولت؛ ورنہ دولت بھی مصیبت بن سکتی ہے۔
#منقول
