بلاعنوان

بلاعنوان

ایک بادشاہ کا ایک غلام تھا جو نہایت کم عقل اور حد سے زیادہ لالچی تھا۔ وہ اپنے فرائض میں بھی غفلت برتتا تھا۔ بادشاہ نے اس کی کوتاہیوں کو دیکھتے ہوئے حکم دیا کہ اس کا وظیفہ کم کر دیا جائے، اور اگر وہ جھگڑا کرے تو اسے غلاموں کی فہرست سے خارج کر دیا جائے۔
جیسے ہی اس کا وظیفہ کم ہوا، غلام ناراض اور گستاخ ہو گیا۔ اگر وہ سمجھ دار ہوتا تو اپنی غلطیوں پر غور کرتا، اپنے قصور کو پہچانتا اور معافی مانگ لیتا، لیکن اس کے غرور نے اسے اندھا کر رکھا تھا۔ اس نے بادشاہ کے نام شکایت بھری عرضی لکھنے کا ارادہ کیا۔
یہی حال انسان کا بھی ہے۔ اس کا اپنا وجود ہی ایک ایسی عرضی ہے جو ہر وقت ربِ حقیقی کے حضور پیش ہوتی رہتی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ پہلے اپنے اعمال اور کردار کو دیکھے، پھر کوئی شکایت کرے۔
غلام نے باورچی خانے کے داروغہ سے جا کر کہا:
“اتنے سخی اور فیاض بادشاہ کے باورچی خانے سے یہ امید نہیں تھی کہ میرا راشن کم کر دیا جائے۔”
داروغہ نے بہت سمجھایا کہ یہ فیصلہ بادشاہ کے حکم سے ہوا ہے، لیکن غلام اپنی حرص اور غصے میں کسی بات کو ماننے پر تیار نہ تھا۔
جب دوپہر کا کھانا بھی کم ملا تو وہ مزید بھڑک اٹھا۔ باورچی خانے کے ملازموں کو برا بھلا کہنے لگا۔ انہوں نے جواب دیا:
“ہم صرف حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ تیر تجھے ہم نے نہیں مارا، یہ تو بادشاہ کے حکم کا نتیجہ ہے۔”
غلام غصے اور رنج میں ڈوبا ہوا بادشاہ کے نام ایک عرضی لکھ بیٹھا۔ اگرچہ اس میں بادشاہ کی تعریف و توصیف کی گئی تھی، لیکن ہر لفظ سے ناراضی اور شکوے کی بو آ رہی تھی۔ بادشاہ نے عرضی پڑھی اور خاموشی سے ایک طرف رکھ دی۔ اس نے کوئی جواب نہ دیا اور صرف اتنا فرمایا:
“اس شخص کو اپنے کھانے کے سوا کسی چیز کی فکر نہیں۔ اسے نہ قربتِ شاہی کی خواہش ہے اور نہ ہماری رضا کی طلب۔”
جب عرضی کا جواب نہ آیا تو غلام اور زیادہ پریشان ہو گیا۔ اس نے سوچا شاید پیغام پہنچانے والے نے بددیانتی کی ہو اور عرضی بادشاہ تک پہنچی ہی نہ ہو۔ چنانچہ اس نے دوسری عرضی لکھی، پھر تیسری، چوتھی اور پانچویں۔ ہر بار بادشاہ خاموش رہا۔
آخرکار عرضی بیگی نے بادشاہ سے عرض کیا:
“حضور! غلام آخر آپ ہی کا بندہ ہے۔ اگر اس پر کرم فرما کر جواب دے دیا جائے تو کیا حرج ہے؟”
بادشاہ نے فرمایا:
“جواب دینا مشکل نہیں، لیکن یہ شخص احمق ہے۔ احمق اپنی غلطی نہیں دیکھتا بلکہ دوسروں پر الزام لگاتا ہے۔ اگر میں اس کی نادانی کو برداشت کروں تو اس کی برائی دوسروں تک پھیل جائے گی۔ ایک شخص کی خارش بھی دوسروں کو متاثر کر سکتی ہے، اور ایک بے عقل غلام کی رعایت پوری سلطنت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔”
اس طرح غلام اپنی غلطیوں پر غور کرنے کے بجائے دوسروں کو قصوروار ٹھہراتا رہا، جبکہ اصل خرابی اس کے اپنے اندر تھی۔

Leave a Reply

NZ's Corner