بلاعنوان

بلاعنوان

ایک گھنے اور سرسبز جنگل میں، جہاں قد آور درخت آسمان سے باتیں کرتے تھے اور شاخوں پر بیٹھے پرندے صبح و شام نغمے چھیڑتے تھے، ایک بندر اپنی پھرتی اور چستی کے باعث بہت مشہور تھا۔
وہ ایک شاخ سے دوسری شاخ پر ایسے اچھلتا جیسے ہوا میں کوئی پتنگ ناچ رہی ہو۔
اسے اپنی رفتار پر بڑا ناز تھا۔
جنگل میں جب بھی کسی دوڑ، چھلانگ یا کرتب کا ذکر ہوتا، بندر فوراً اپنی دم لہرا کر کہتا:
“میرا مقابلہ؟ ابھی تک پیدا نہیں ہوا!”
اسی جنگل میں ایک کچھوا بھی رہتا تھا۔
وہ آہستہ چلتا تھا، کم بولتا تھا، مگر جب بولتا تو اکثر دوسروں کو سوچنے پر مجبور کر دیتا تھا۔
ایک دن جنگل کے جانور ایک تالاب کے کنارے جمع تھے کہ کچھوا اپنی مخصوص دھیمی چال سے آگے بڑھا اور بندر کے سامنے جا کھڑا ہوا۔
“جناب بندر!”
بندر نے مسکراتے ہوئے پوچھا:
“فرمائیے، حضورِ رفتار!”
کچھوا بولا:
“میں تمہیں دوڑ کا چیلنج دیتا ہوں۔”
یہ سن کر بندر پہلے تو خاموش رہا، پھر اتنا ہنسا کہ شاخ سے تقریباً گر ہی پڑا۔
“تم؟”
“جی۔”
“اور مجھ سے دوڑ؟”
“بالکل۔”
بندر نے آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا:
“یہ تو ایسا ہے جیسے کوئی کنواں دریا کو تیرنے کا مقابلہ دے!”
جانور بھی ہنسنے لگے۔
مگر کچھوے کے چہرے پر سکون بدستور قائم رہا۔
عجیب شرط
بندر نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا:
“اچھا، مقابلہ منظور۔ بتاؤ، دوڑ کہاں ہوگی؟”
کچھوا بولا:
“اس بڑے برگد کے درخت پر۔”
بندر چونک گیا۔
“درخت پر؟”
“جی ہاں۔”
“مگر تم تو درخت پر چڑھ ہی نہیں سکتے!”
کچھوے نے بڑی سنجیدگی سے جواب دیا:
“یہ میری فکر ہے، تم صرف شرط قبول کرو۔”
بندر نے قہقہہ لگایا۔
“منظور! آج جنگل کو اچھا تماشا ملے گا۔”
چنانچہ مقابلے کا دن مقرر ہو گیا۔
دوڑ کا آغاز
اگلی صبح جنگل کے جانور درخت کے گرد جمع ہو گئے۔
ہر طرف جوش و خروش تھا۔
خرگوش شرطیں لگا رہے تھے، طوطے تبصرے کر رہے تھے اور گلہریاں شاخوں پر بیٹھ کر بہترین نشستیں سنبھال رہی تھیں۔
بندر فاتحانہ انداز میں درخت کے نیچے کھڑا تھا۔
دوسری طرف کچھوا اپنی مخصوص رفتار سے آیا اور خاموشی سے ایک پتھر کے قریب رک گیا۔
لومڑی نے اعلان کیا:
“دوڑ شروع!”
بندر بجلی کی طرح درخت پر لپکا۔
وہ شاخ سے شاخ اور ٹہنی سے ٹہنی پر یوں اچھل رہا تھا جیسے یہ سب اس کے لیے بچوں کا کھیل ہو۔
چند لمحوں میں وہ آدھی بلندی تک پہنچ گیا۔
اسی دوران نیچے سے کچھوے کی آواز آئی:
“میں پہنچ گیا!”
بندر نے حیرت سے نیچے جھانکا۔
کچھوا وہیں زمین پر موجود تھا۔
بندر ہنسا۔
“ابھی تو میں آدھے راستے میں ہوں، اور تم وہیں کھڑے ہو!”
کچھوا خاموش رہا۔
چوٹی پر معمہ
چند لمحوں بعد بندر درخت کی سب سے اونچی شاخ تک پہنچ گیا۔
اس نے خوشی سے ہاتھ ہوا میں بلند کیے۔
“میں جیت گیا!”
مگر اسی وقت نیچے سے پھر آواز آئی:
“میں بھی پہنچ گیا!”
بندر نے غصے سے نیچے دیکھا۔
کچھوا ابھی تک زمین پر تھا۔
“ارے بے وقوف! تم تو اپنی جگہ سے ہلے بھی نہیں!”
کچھوے نے گردن اوپر اٹھائی اور نہایت اطمینان سے جواب دیا:
“میں نے کب کہا تھا کہ میں چڑھوں گا؟”
“تو پھر؟”
“شرط یہ تھی کہ چوٹی تک پہنچنا ہے۔”
“ہاں!”
“اور میری آواز چوٹی تک پہنچ گئی۔”
بندر چند لمحے حیرت سے اسے دیکھتا رہا۔
جانور بھی ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔
کچھوا بولا:
“تم اپنے جسم کے ساتھ چوٹی پر پہنچے، میں اپنی آواز کے ساتھ۔ شرط میں چڑھنے کا ذکر نہیں تھا۔”
جنگل میں سرگوشیاں شروع ہو گئیں۔
بعض جانور ہنس رہے تھے، بعض سر کھجا رہے تھے۔
فیصلہ
بندر غصے سے لال ہو گیا۔
“یہ دھوکہ ہے!”
کچھوا مسکرایا۔
“دھوکہ؟”
“ہاں!”
“نہیں دوست، یہ الفاظ کو سمجھنے کا فرق ہے۔”
پھر اس نے آہستہ سے کہا:
“جو شرط پڑھے بغیر قبول کر لے، وہ اکثر اپنی رفتار کے باوجود ہار جاتا ہے۔”
یہ سن کر بوڑھا اُلو، جو جنگل کا غیر سرکاری منصف سمجھا جاتا تھا، بولا:
“کچھوے کی بات میں وزن ہے۔”
“مقابلہ رفتار کا نہیں، شرط کے مطلب کا تھا۔”
جانوروں نے سر ہلا کر اتفاق کیا۔
بندر خاموش ہو گیا۔
وہ درخت کی چوٹی تک ضرور پہنچا تھا، مگر بحث میں کچھوا اس سے کہیں آگے نکل گیا تھا۔
سبق
صرف تیز ہونا کافی نہیں، سمجھ دار ہونا بھی ضروری ہے۔
بعض اوقات لوگ دوڑ جیت جاتے ہیں مگر شرط ہار جاتے ہیں، کیونکہ انہوں نے سنا کم اور سمجھا اس سے بھی کم ہوتا ہے۔
اور جنگل کے دانا اُلو کے الفاظ میں:
“عقل مند راستہ بدل دیتا ہے، جبکہ مغرور صرف رفتار بڑھاتا ہے۔”

زندگی میں بہت سی دوڑیں ٹانگوں سے نہیں، الفاظ اور فہم سے جیتی جاتی ہیں۔ اور کبھی کبھی ایک آہستہ چلنے والا کچھوا، ایک پھرتیلے بندر کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔


Leave a Reply

NZ's Corner