بلاعنوان

بلاعنوان

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک کسان کے پاس ایک گھوڑا اور ایک گدھا تھا۔ گھوڑا خوبصورت، تیز رفتار اور مضبوط تھا، جبکہ گدھا دن بھر بوجھ اٹھانے والا محنتی جانور تھا۔

گدھے کے دل میں ایک شکوہ برسوں سے پل رہا تھا۔

وہ اکثر خود سے کہتا:
“یہ کیسا انصاف ہے؟ گھر کا سارا بھاری کام میں کرتا ہوں۔ لکڑیاں میں اٹھاتا ہوں، بوریاں میں ڈھوتا ہوں، سامان میں لاتا ہوں، مگر محبت ساری گھوڑے کو ملتی ہے۔”

اسے سب سے زیادہ دکھ اس بات کا ہوتا تھا کہ جب بھی مالک کہیں دور سفر پر جاتا یا شکار کے لیے نکلتا، ہمیشہ گھوڑے کو ساتھ لے جاتا۔
روانگی سے پہلے گھوڑے کی خوب صفائی کی جاتی، اس کی ایال سنواری جاتی، زین کَسی جاتی اور مالک بڑے فخر سے اس پر سوار ہو کر نکلتا۔

گدھا ایک کونے میں کھڑا یہ سب دیکھتا رہتا اور دل ہی دل میں کڑھتا رہتا۔
“کاش ایک دن مجھے بھی ساتھ لے جایا جائے،” وہ سوچتا۔

آخر ایک دن اس کی یہ خواہش پوری ہو گئی۔

مالک شکار پر جانے لگا تو اس نے سوچا:
“اگر شکار مل گیا تو اسے واپس لانے کے لیے ایک اور جانور بھی چاہیے۔”
چنانچہ اس دن گھوڑے کے ساتھ گدھے کو بھی لے لیا گیا۔

گدھے کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔
وہ راستے بھر اکڑ اکڑ کر چلتا رہا۔

اسے لگ رہا تھا کہ آخرکار مالک کو اس کی اہمیت کا احساس ہو گیا ہے۔

جنگل قریب آتا گیا اور گدھے کے دل میں خوشی بڑھتی گئی۔
مگر قسمت نے اس کے لیے کچھ اور ہی لکھ رکھا تھا۔

وہ ابھی جنگل کے اندر زیادہ دور نہیں گئے تھے کہ اچانک جھاڑیوں میں زوردار حرکت ہوئی۔

اگلے ہی لمحے ایک خونخوار شیر دھاڑتا ہوا باہر نکلا۔

اس کی آواز سے پورا جنگل لرز اٹھا۔

مالک نے فوراً بندوق سنبھالی، مگر شیر غیر معمولی طور پر طاقتور اور غضبناک تھا۔

چند لمحوں کی کشمکش کے بعد مالک نے محسوس کیا کہ جان بچانا ہی بہتر ہے۔

اس نے گھوڑے کی لگام کھینچی اور واپس مڑ گیا۔

ادھر گدھے نے جیسے ہی شیر کو دیکھا، اس کے سارے شکوے، ساری شکایتیں اور ساری حسرتیں ایک ہی لمحے میں ہوا ہو گئیں۔

اسے نہ محبت یاد رہی، نہ امتیاز، نہ گھوڑا اور نہ مالک۔

اسے صرف اپنی جان یاد رہی۔

وہ ایسی رفتار سے بھاگا کہ شاید زندگی میں کبھی نہ بھاگا تھا۔

راستے میں کانٹوں سے ٹکرایا، پتھروں سے الجھا، کئی بار پھسلا، کہیں اس کے پاؤں زخمی ہوئے اور کہیں جسم چھل گیا، مگر اسے احساس تک نہ ہوا۔

وہ بس بھاگتا ہی چلا گیا۔

جب آخرکار اپنے گھر پہنچا تو ہانپتے ہانپتے ایک درخت کے نیچے گر پڑا۔

کافی دیر بعد جب سانسیں معمول پر آئیں تو اسے ہوش آیا کہ وہ محفوظ ہے۔

اس نے پہلی بار سوچا کہ شاید مالک گھوڑے کو محبت کی وجہ سے نہیں، بلکہ خطرے کی وجہ سے ساتھ لے جاتا تھا۔

اس دن اسے سمجھ آیا کہ ہر نعمت کے ساتھ ایک ذمہ داری اور ہر عزت کے ساتھ ایک آزمائش بھی ہوتی ہے۔

اس کے بعد گدھے نے کبھی گھوڑے سے حسد نہیں کیا۔

جب بھی مالک گھوڑے کو تیار کرتا، گدھا خاموشی سے اپنا کام کرتا اور دل ہی دل میں کہتا:

“کچھ مقام دور سے بہت خوبصورت دکھائی دیتے ہیں، مگر ان کی اصل قیمت وہی جانتا ہے جو انہیں نبھاتا ہے۔”

اخلاقی سبق:

ہم اکثر دوسروں کی عزت، مقام یا سہولت دیکھ کر حسد کرتے ہیں، مگر ان ذمہ داریوں، خطرات اور آزمائشوں کو نہیں دیکھتے جو ان کے حصے میں آتی ہیں۔ ہر شخص کا بوجھ الگ ہوتا ہے، اور جو چیز دور سے نعمت نظر آتی ہے، ضروری نہیں کہ حقیقت میں بھی اتنی آسان ہو۔

Leave a Reply

NZ's Corner