بلاعنوان

بلاعنوان

دریا کے کنارے شام اتر رہی تھی۔
آسمان پر سرخ اور سنہری رنگ بکھرے ہوئے تھے، پانی کی سطح پر ہلکی لہریں ناچ رہی تھیں، اور ایک پرانے جامن کے درخت کی بلند شاخ پر بندر حسبِ معمول بیٹھا پھل کھا رہا تھا۔
لیکن آج فضا میں کچھ اور ہی تناؤ تھا۔
دریا کے گہرے پانی سے دو چمکتی ہوئی آنکھیں ابھریں۔
وہ مگرمچھ تھا۔
وہی پرانا مگرمچھ، جس کی بیوی کبھی بندر کا دل کھانے کا خواب دیکھتی تھی، اور جو اپنی چالاکیوں میں کئی بار ناکام ہو چکا تھا۔
اس نے پانی سے سر نکالا اور غصے بھرے لہجے میں کہا:
“بندر! تم نے مجھے اور میری بیوی کو دھوکہ دیا تھا۔ آج حساب برابر ہوگا!”
بندر نے ایک جامن منہ میں ڈالتے ہوئے بے پروائی سے جواب دیا:
“حساب؟ تم پانی میں رہتے ہو، میں درخت پر۔ تمہارا حساب ہمیشہ ادھورا ہی رہے گا!”
مگرمچھ کے نتھنے پھول گئے۔
“تم سمجھتے ہو میں تمہیں پکڑ نہیں سکتا؟”
“بالکل!”
بندر نے ہنستے ہوئے کہا۔
“اور کیوں؟”
“کیونکہ تم مگرمچھ ہو، بندر نہیں!”
یہ سن کر مگرمچھ کی انا کو ٹھیس پہنچی۔
اس نے جوش میں آ کر اعلان کیا:
“آج میں درخت پر چڑھ کر دکھاؤں گا!”
بندر نے تالیاں بجائیں۔
“ضرور! اور اگر کامیاب ہو گئے تو میں تمہیں جنگل کا پہلا درختی مگرمچھ مان لوں گا!”
مگرمچھ نے پوری قوت جمع کی، پنجے درخت کے تنے پر جمائے اور اوپر چڑھنے کی کوشش کی۔
ایک لمحے کو یوں لگا جیسے وہ واقعی کامیاب ہو جائے گا۔
پھر…
دھڑام!
وہ تنے سے پھسل کر سیدھا کیچڑ میں جا گرا۔
پانی اچھلا، مینڈک ڈر کر کود پڑے، اور بندر ہنستے ہنستے شاخ سے تقریباً گر ہی پڑا۔
“ارے بھئی!”
وہ قہقہہ لگاتے ہوئے بولا۔
“تم مگرمچھ ہو، بندر نہیں! ہر مخلوق کا اپنا میدان ہوتا ہے۔”
مگرمچھ نے شرمندگی چھپاتے ہوئے پانی میں واپسی کی اور بولا:
“ٹھیک ہے! درخت تمہارا، پانی میرا۔”
پھر اس نے آنکھیں سکیڑ کر کہا:
“مگر یاد رکھنا، ایک دن تمہیں پانی پینے آنا ہی پڑے گا۔ اور اس دن میں تمہیں پکڑ لوں گا!”
بندر خاموش ہو گیا۔
اسے معلوم تھا کہ بات میں وزن ہے۔
آخر پیاس تو سب کو لگتی ہے۔
مگر بندر صرف پھرتیلا ہی نہیں، عقل مند بھی تھا۔
اگلے دن اس نے ایک لمبا سا ڈنڈا لیا، اس کے سرے پر پتوں کا گھنا گچھا باندھا اور دریا کے کنارے پہنچ گیا۔
دور پانی میں مگرمچھ گھات لگائے بیٹھا تھا۔
“آہا!”
اس نے دل میں سوچا۔
“آخر شکار خود چل کر آ گیا!”
بندر نے ڈنڈا آگے بڑھایا اور پتوں والے سرے کو پانی میں ڈبو دیا۔
مگرمچھ نے سمجھا کہ بندر کا ہاتھ یا پاؤں پانی میں آیا ہے۔
اس نے پوری طاقت سے جھپٹا مارا اور پتوں سمیت ڈنڈا اپنے جبڑوں میں جکڑ لیا۔
مگر اگلے ہی لمحے مسئلہ پیدا ہو گیا۔
ڈنڈا اس کے منہ میں ایسا پھنس گیا کہ نہ نگلا جا رہا تھا، نہ اگلا جا رہا تھا۔
وہ تڑپنے لگا، پانی میں چکر کاٹنے لگا، مگر ڈنڈا اپنی جگہ اڑا رہا۔
بندر درخت کی شاخ پر بیٹھا منظر دیکھ رہا تھا۔
وہ ہنس کر بولا:
“واہ میرے دوست! تم تو مجھے پکڑنے آئے تھے، مگر خود ڈنڈے کے قیدی بن گئے!”
مگرمچھ اب واقعی پریشان تھا۔
اس نے منت بھرے لہجے میں کہا:
“بندر بھائی، میری جان چھڑاؤ!”
“کیوں؟”
“میں وعدہ کرتا ہوں، آئندہ تمہیں پکڑنے کی کوشش نہیں کروں گا۔”
بندر نے چند لمحے سوچا۔
پھر مسکرا کر بولا:
“چلو، دشمنی بہت ہو چکی۔”
اس نے ایک اور شاخ سے ڈنڈے کو دھکا دیا، اور بڑی مشکل سے مگرمچھ کی جان چھوٹی۔
مگرمچھ نے لمبی سانس لی۔
“تم نے احسان کیا۔”
بندر نے جواب دیا:
“نہیں، میں نے صرف یہ ثابت کیا ہے کہ عقل کبھی کبھی طاقت سے زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔”
اس دن کے بعد دونوں نے دشمنی ختم کر دی۔
کہتے ہیں کہ آج بھی دریا کے کنارے ان کی ملاقات ہو جاتی ہے۔
مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ جیسے ہی بندر پانی کے قریب جاتا ہے اور مگرمچھ کو دیکھتا ہے، وہ فوراً ایک محفوظ شاخ پر چڑھ جاتا ہے۔
اور مگرمچھ؟
وہ بھی مسکرا کر کہتا ہے:
“دوستی اپنی جگہ، احتیاط اپنی جگہ!”
سبق
زندگی میں بعض لوگوں سے دوستی ضرور کی جا سکتی ہے، مگر ان کی فطرت کو بھولنا دانش مندی نہیں۔
اعتماد اچھی چیز ہے، مگر اندھا اعتماد اکثر مصیبت کا دروازہ کھول دیتا ہے۔
عقل مند وہ نہیں جو کبھی دھوکا نہ کھائے؛ عقل مند وہ ہے جو دھوکا کھانے کے بعد بھی مسکراتے ہوئے احتیاط کرنا سیکھ لے۔

Leave a Reply

NZ's Corner