ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گھنے جنگل پر ایک شیر کی حکمرانی تھی۔ جنگل کے تمام جانور پرسکون اور خوشحال زندگی بسر کر رہے تھے۔ شیر جب دھاڑتا تو اس کی ہیبت ناک گونج پورے جنگل پر چھا جاتی اور سب کو فوراً معلوم ہو جاتا کہ بادشاہ سلامت دربار بلا رہے ہیں۔ تمام جانور اسی وقت اکٹھے ہو کر شیر کے حضور پیش ہوتے اور وہ ہر کسی کو اس کے حصے کا کام سونپ دیتا۔
اسی جنگل میں ایک مکار گیدڑ بھی رہتا تھا جسے شیر کا یہ جاہ و جلال ایک آنکھ نہ بھاتا تھا۔ وہ ہر وقت اسی ادھیڑ بن میں رہتا کہ کس طرح اس شیر سے جان چھڑائی جائے۔ آخرکار اس کے شیطانی ذہن میں ایک ترکیب آئی۔ جنگل کے مضافات میں شکاریوں کا ایک ڈیرہ تھا جو جال اور بندوقوں سے لیس تھے۔ گیدڑ نے ان کے پاس جا کر پیشکش کی، “اگر تم کسی طرح اس شیر کو پکڑ لو، تو سمجھو یہ سارا جنگل تمہارا ہے۔”
شکاریوں نے اس کی بات مان کر جال بچھایا اور شیر کو پکڑ کر قید کر لیا۔ اس مخبری کے انعام کے طور پر انہوں نے گیدڑ کو جنگل کا نیا بادشاہ مقرر کر دیا۔
اب گیدڑ بادشاہ تو بن گیا، مگر جنگل کا کوئی بھی جانور نہ تو اس سے ڈرتا تھا اور نہ ہی اسے خاطر میں لاتا تھا۔ گیدڑ نے رعب جمانے کے لیے ہزار بار دھاڑنے کی کوشش کی، مگر اس کے حلق سے گیدڑ بھبکیوں کے سوا کچھ نہ نکل سکا۔ اپنی اس بے توقیری پر وہ شدید پریشان ہوا۔ اس نے فوراً لومڑی کو طلب کیا اور حکم دیا، “جاؤ اور جنگل کے تمام کتوں کو یہاں دربار میں بلا کر لاؤ۔”
لومڑی پورے جنگل میں گھومی اور ہڈی کا لالچ دے کر ہر کتے کو گیدڑ کے پاس لے آئی۔ گیدڑ نے گنتی کی تو پورے جنگل سے کل اڑتیس (38) کتے ہی دستیاب ہو سکے تھے۔ لومڑی نے حیرت سے پوچھا، “گیدڑ بادشاہ! آپ ان کتوں کا کریں گے کیا؟”
گیدڑ نے ایک مکارانہ مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا، “جب میں اشارہ کروں گا تو یہ اڑتیس کتے بیک وقت بھونکیں گے۔ ان کی اکٹھی آواز سن کر جنگل کے تمام جانوروں کو یہی لگے گا کہ شیر دھاڑ رہا ہے!”
#منقول
