ایک وادی میں ایک بوڑھا شاہین رہتا تھا، جس کی نظریں کبھی چیل کی طرح تیز اور پرواز ایسی تھی کہ آسمان کو چھو لیتی۔ لیکن عمر بڑھنے کے ساتھ اس کے پر بھاری ہو گئے، ناخن کمزور پڑ گئے اور شکار کرنا مشکل ہو گیا۔ اب وہ اکثر ایک اونچی چٹان پر بیٹھا اپنی پرانی عظمت کے دن یاد کرتا۔
اسی پہاڑ کے نیچے ایک چالاک لومڑی رہتی تھی۔ جب اس نے بوڑھے شاہین کو کمزور اور لاچار دیکھا تو اس کے دل میں لالچ آ گیا۔ اس نے سوچا کہ کیوں نہ اس بوڑھے شاہین کو باتوں میں الجھا کر اس کا کام تمام کیا جائے اور آسانی سے ایک نوالہ حاصل کر لیا جائے۔
لومڑی مسکراتی ہوئی چٹان کے قریب آئی اور بولیں:
“اے شاہین کے راجہ! تم تو کبھی آسمانوں کے بادشاہ ہوا کرتے تھے، لیکن آج اس چٹان پر یوں الگ تھلگ اور اکیلے کیوں بیٹھے ہو؟ اب تو تم میں اتنی سکت بھی نہیں رہی کہ اپنے لیے ایک پرندے کا شکار کر سکو۔ اگر کہو تو میں تمہاری مدد کروں؟”
شاہین نے اپنی پرسکون اور سنجیدہ آنکھوں سے لومڑی کو دیکھا۔ وہ برے بھلے کا تجربہ رکھتا تھا اور لومڑی کی چالاکی کو ایک ہی نظر میں سمجھ گیا۔ اس نے دھیمی لیکن پروقار آواز میں کہا:
“تم سچ کہتی ہو لومڑی! وقت بدل چکا ہے اور میری طاقت پہلے جیسی نہیں رہی۔ لیکن میری عقل اور زندگی کا تجربہ اب بھی ویسا ہی تیز ہے۔ میں جانتا ہوں کہ تم میرے پاس ہمدردی کے لیے نہیں، بلکہ میری لاچاری کا فائدہ اٹھانے آئی ہو!”
لومڑی نے بات سنبھالنے کی کوشش کی اور کہا:
“ارے نہیں شاہین بھائی! میں تو بس تمہارے پاس دوستی کا ہاتھ بڑھانے آئی تھی!”
شاہین نے مسکرا کر جواب دیا:
“شکاری جب بوڑھا ہو جائے تو اس کا تجربہ ہی اس کا سب سے بڑا ہتھیار ہوتا ہے۔ جو پرندے اپنی طاقت پر اتراتے تھے، وہ وقت کے ساتھ ختم ہو گئے، لیکن حکمت ہمیشہ قائم رہتی ہے۔ اگر تم نے ایک قدم بھی آگے بڑھایا تو شاید میں اڑ نہ سکوں، لیکن میں جانتا ہوں کہ اس چٹان کے پتھروں کو کیسے سرکایا جاتا ہے جو تمہیں نیچے دبا دیں!”
شاہین کی پرُاعتماد آواز اور حکمت بھری باتیں سن کر لومڑی گھبرا گئی۔ اسے احساس ہو گیا کہ شاہین جسمانی طور پر کمزور ہو سکتا ہے، لیکن اس کی عقل اور غیرت اب بھی زندہ ہے۔ وہ چپ چاپ دم دبا کر وہاں سے بھاگ نکلی۔
سبق:
جسمانی طاقت وقت کے ساتھ ڈھل جاتی ہے، لیکن عقل، تجربہ اور سیانپ ایسی خصوصیات ہیں جو انسان کو ہر حال میں باوقار اور محفوظ رکھتی ہیں۔
