ایک مشہور فلسفی دنیا بھر میں اپنی عقل، منطق اور لمبی لمبی تقریروں کے لیے جانا جاتا تھا۔
ایک دن سفر کرتے کرتے وہ ملا نصرالدین کے گاؤں پہنچ گیا۔ گاؤں والوں نے کہا:
“اگر واقعی عقل کے سمندر ہو تو پہلے ملا نصرالدین سے مل لو!”
فلسفی فوراً ملا کے گھر پہنچا۔ دونوں کی ملاقات ہوئی، لمبی گفتگو ہوئی، اور پھر فلسفی نے پوچھا:
“ملا صاحب! یہاں کوئی اچھی جگہ ہے جہاں کھانا کھایا جا سکے؟”
ملا نے مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے کہا:
“ہاں کیوں نہیں! ایک ایسی جگہ ہے جہاں کھانا بھی ملتا ہے اور قسمت بھی آزمائی جاتی ہے!”
فلسفی کو بات سمجھ نہ آئی، مگر وہ ملا کو ساتھ لے کر ہوٹل پہنچ گیا۔
دونوں بیٹھے ہی تھے کہ ویٹر آگیا۔
فلسفی نے بڑے رعب سے پوچھا:
“آج کی خاص ڈش کیا ہے؟”
ویٹر بولا:
“حضور! آج تازہ مچھلی ہے… اتنی تازہ کہ شاید ابھی تک تیرنے کا ارادہ رکھتی ہو!”
فلسفی نے کہا:
“دو لے آؤ!”
کچھ دیر بعد ویٹر ایک بڑی پلیٹ میں دو مچھلیاں لے آیا۔
ایک مچھلی کافی بڑی تھی اور دوسری ذرا چھوٹی۔
ملا نصرالدین نے بغیر ایک سیکنڈ ضائع کیے فوراً بڑی مچھلی اپنی پلیٹ میں رکھ لی۔
فلسفی کی آنکھیں کھل گئیں۔
اس نے حیرت، غصے اور فلسفے کا مکسچر بناتے ہوئے کہنا شروع کیا:
“ملا صاحب! یہ نہایت خود غرضی ہے! اخلاقیات، تہذیب، سماجی اصول، انسانی اقدار، روحانی توازن اور مہذب معاشروں میں—”
ملا خاموشی سے سنتے رہے۔
فلسفی بولتا گیا… بولتا گیا… یہاں تک کہ ویٹر بھی بور ہو کر پانی بھرنے چلا گیا۔
آخرکار جب فلسفی کا لیکچر ختم ہوا تو ملا نے سکون سے پوچھا:
“اچھا حضرت… اگر آپ میری جگہ ہوتے تو کیا کرتے؟”
فلسفی نے سینہ پھلا کر کہا:
“میں چونکہ ایک بااخلاق، مہذب اور باشعور انسان ہوں… اس لیے میں چھوٹی مچھلی خود لیتا!”
ملا فوراً مسکرائے، چھوٹی مچھلی اٹھائی، فلسفی کی پلیٹ میں رکھی اور بولے:
“تو پھر مسئلہ کیا ہے؟
آپ کو وہی ملی نا… جو آپ چاہتے تھے!”
