تخت کا اصل حقدار

تخت کا اصل حقدار

ایک وسیع و عریض سلطنت پر ایک ایسا بادشاہ حکومت کرتا تھا جس کی رعایا اس کے عدل، رحم دلی اور فیاضی کی مثالیں دیا کرتی تھی۔ اس کے دربار میں انصاف کا چراغ روشن تھا اور شاہی خزانے کے دروازے ضرورت مندوں کے لیے بند نہ تھے۔ بادشاہ کی عمر اب ڈھلنے لگی تھی۔ اس کے تین بیٹے تھے، مگر ان میں سے کسی ایک کو تخت کا وارث مقرر کرنا اس کے لیے آسان نہ تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ سلطنت ایسے ہاتھوں میں جائے جو اقتدار کو اپنی بڑائی نہیں، رعایا کی امانت سمجھیں۔
تینوں بیٹے اپنی اپنی جگہ ذہین اور شاہی تربیت یافتہ تھے، مگر بادشاہ کے دل میں ایک سوال مسلسل گردش کرتا رہتا: کون سا بیٹا اس عظیم ذمہ داری کا اہل ہے؟ محض نسب اور عمر کی بنیاد پر جانشین مقرر کرنا اسے گوارا نہ تھا۔ وہ اپنے بعد سلطنت کو ایک ایسے حکمران کے سپرد کرنا چاہتا تھا جس کی نیت صاف اور دل رعایا کے لیے نرم ہو۔

ایک روز اس نے اپنے دانا وزیر کو خلوت میں طلب کیا اور اپنی پریشانی اس کے سامنے رکھ دی۔ وزیر نے کچھ دیر غور کیا، پھر عرض کیا، ’’جہاں پناہ! جانشین کے انتخاب کے لیے قدرت کا طریقہ اختیار کیجیے۔‘‘
بادشاہ نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔ وزیر نے وضاحت کی، ’’حضور! قدرت کسی کو ایک ہی لمحے میں سب کچھ عطا نہیں کر دیتی۔ پہلے اسے تھوڑا سا اختیار، تھوڑی سی نعمت یا معمولی سی ذمہ داری دیتی ہے۔ پھر دیکھتی ہے کہ وہ اس امانت کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے۔ اگر وہ اس کا اہل ثابت ہو تو اس کے لیے مزید دروازے کھول دیے جاتے ہیں، ورنہ جو کچھ اس کے پاس ہے، وہ بھی اس کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ انسان کو ملنے والی ہر نعمت دراصل اس کی اہلیت اور نیت کا امتحان ہوتی ہے۔‘‘

بادشاہ کو یہ بات پسند آئی۔ اس نے فیصلہ کیا کہ اپنے تینوں بیٹوں کو سلطنت کے تین الگ الگ صوبوں کا حاکم مقرر کرے گا۔ ہر ایک کو ایک صوبہ، اس کا انتظام، اس کے وسائل اور رعایا کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔ بظاہر یہ تقسیم انتظامی ضرورت کے تحت تھی، مگر درحقیقت یہ تینوں شہزادوں کے لیے ایک خاموش امتحان تھا۔
ابتدا میں تینوں شہزادوں نے اپنے اپنے صوبوں کا انتظام سنبھالا۔ بڑے شہزادے نے سب سے پہلے اپنی قوت بڑھانے پر توجہ دی۔ اس نے فوج میں اضافہ کیا، نئے سپاہی بھرتی کیے، اسلحے کے ذخیرے جمع کیے اور اپنی حفاظت کے لیے مضبوط قلعے تعمیر کروائے۔ اس کے نزدیک صوبے کی ترقی کا سب سے بڑا پیمانہ یہ تھا کہ اس کے حکم سے کتنے سپاہی حرکت میں آتے ہیں اور اس کی طاقت کے سامنے کون سر اٹھانے کی جرأت کرتا ہے۔

دوسرے شہزادے نے بھی اسی روش کو اختیار کیا، البتہ اس کی توجہ شاہی شان و شوکت پر زیادہ تھی۔ اس نے اپنے لیے عالی شان محل تعمیر کروایا، دربار کو نئے سرے سے سجایا، شاہی لباس اور قیمتی ساز و سامان جمع کیا اور اپنی حیثیت کو دوسروں سے ممتاز کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اس کے صوبے میں عمارتیں تو بلند ہوتی گئیں، مگر عام لوگوں کی زندگی میں کوئی خاص تبدیلی نہ آئی۔
اس کے برعکس سب سے چھوٹے شہزادے نے اپنے صوبے کی باگ ڈور سنبھالتے ہی رعایا کے حالات معلوم کرنے شروع کیے۔ اس نے کھیتوں تک پانی پہنچانے کے لیے نہریں درست کروائیں، ٹوٹے ہوئے راستے تعمیر کروائے، بیماروں کے لیے شفاخانے بنوائے اور غریبوں کی مدد کے لیے شاہی خزانے کا دروازہ کھول دیا۔ اس نے محصول میں رعایت دی، کسانوں کے قرضوں میں آسانی پیدا کی اور سرکاری اہلکاروں کو حکم دیا کہ کسی کمزور کے ساتھ زیادتی نہ ہونے پائے۔ اس کی نظر میں صوبہ اس کی ذاتی جاگیر نہیں بلکہ اس کے سپرد کی گئی امانت تھا۔

وقت گزرتا رہا۔ بادشاہ کی عمر مزید ڈھل گئی اور اس کی صحت بھی پہلے جیسی نہ رہی۔ ادھر دونوں بڑے شہزادوں کے دلوں میں اقتدار کی خواہش بڑھتی جا رہی تھی۔ انہیں محسوس ہونے لگا کہ اگر بادشاہ نے چھوٹے بھائی کو جانشین مقرر کر دیا تو ان کے تمام خواب بکھر جائیں گے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے اپنے صوبوں میں فوجی طاقت مزید بڑھائی اور خفیہ طور پر ایسے لوگوں سے رابطے قائم کیے جو تخت کے حصول میں ان کا ساتھ دے سکتے تھے۔
وزیر نے بادشاہ کی اجازت سے تینوں صوبوں میں اپنے قابلِ اعتماد آدمی مقرر کر رکھے تھے۔ ان کا کام شہزادوں کے معاملات پر نظر رکھنا اور ان کے اصل رجحانات سے بادشاہ کو باخبر رکھنا تھا۔ یہ لوگ کبھی خیرخواہوں کا روپ دھار کر شہزادوں کے قریب جاتے اور ان کے دل کی باتیں معلوم کرتے، کبھی ان کی محفلوں میں بیٹھ کر ان کی سوچ کا رخ دیکھتے۔ بڑے شہزادے کے گرد ایسے ہی لوگوں نے اس کے دل میں یہ خیال مضبوط کیا کہ سلطنت کا حقیقی حق دار وہی ہے اور اگر بادشاہ نے کسی دوسرے کو تخت دیا تو یہ اس کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ دوسرے شہزادے کے کانوں میں بھی یہی باتیں ڈالی گئیں کہ اس کی شان و شوکت اور طاقت اسے جانشینی کا سب سے بڑا امیدوار بناتی ہے۔

دونوں شہزادے رفتہ رفتہ اس خیال کے اسیر ہوتے گئے۔ انہوں نے اپنے باپ کے فیصلے کو قبول کرنے کے بجائے اس کے خلاف منصوبے بنانے شروع کر دیے۔ ان کی نظر میں اب سلطنت کی بھلائی نہیں، تخت کا حصول سب سے اہم تھا۔
چھوٹے شہزادے کے پاس بھی ایسے ہی لوگ پہنچے۔ انہوں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ اس کی رعایا اس سے خوش ہے، اس کا صوبہ خوش حال ہے اور وہ اپنے دونوں بھائیوں سے بہتر حکمران ثابت ہو چکا ہے۔ اسے چاہیے کہ بادشاہ کے فیصلے سے پہلے اپنی جانشینی کا مطالبہ کرے، ورنہ ممکن ہے کہ تخت کسی ایسے شخص کے حصے میں چلا جائے جو اس کا اہل نہ ہو۔

مگر چھوٹے شہزادے نے ان باتوں کو اپنے دل میں جگہ نہ دی۔ اس نے کہا کہ اس کا باپ ایک عادل اور دانا بادشاہ ہے۔ وہ جو فیصلہ کرے گا، سلطنت کے حق میں بہتر ہی کرے گا۔ اسے اپنے حصے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اور وہ اسی کو پوری دیانت داری سے نبھانا چاہتا ہے۔ تخت ملنا یا نہ ملنا اس کے اختیار میں نہیں، البتہ اپنے سپرد کیے گئے صوبے کے ساتھ انصاف کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔ اس نے نہ اپنے بھائیوں کے خلاف کوئی سازش کی اور نہ ہی اپنے باپ کے فیصلے پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی۔
ان تمام باتوں کی خبر وزیر کے ذریعے بادشاہ تک پہنچتی رہی۔ اب بادشاہ کو اپنے سوال کا جواب مل چکا تھا۔ اس نے جان لیا تھا کہ تینوں بیٹوں کے سامنے اختیار آنے پر ان کے دلوں میں کیا پیدا ہوا۔ کسی نے اسے اپنی طاقت بڑھانے کا ذریعہ بنایا، کسی نے اپنی شان و شوکت کا، اور کسی نے اسے رعایا کی خدمت کی امانت سمجھا۔

بالآخر وہ دن بھی آ پہنچا جب بادشاہ نے دربارِ عام میں تینوں شہزادوں کو طلب کیا۔ دربار میں سلطنت کے امرا، وزرا اور معززین جمع تھے۔ بادشاہ نے اعلان کیا کہ دونوں بڑے شہزادوں کو ان کے عہدوں سے برطرف کر کے گرفتار کر لیا جائے۔ سپاہیوں نے حکم کی تعمیل کی اور دونوں شہزادوں کو دربار میں بادشاہ کے سامنے پیش کر دیا گیا۔
انہوں نے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ابھی کوئی بغاوت نہیں کی، نہ ہی تخت پر قبضہ کیا ہے۔ ان کے خلاف محض ارادوں اور اندیشوں کی بنیاد پر کارروائی کی جا رہی ہے۔

بادشاہ نے نہایت سکون سے جواب دیا، ’’تخت کی حفاظت صرف ان ہاتھوں سے نہیں ہوتی جو تلوار اٹھاتے ہیں، بلکہ ان دلوں سے بھی ہوتی ہے جن میں وفاداری اور امانت باقی ہو۔ تم نے اپنے صوبوں کو رعایا کی خدمت کے لیے نہیں، اپنی طاقت اور اقتدار بڑھانے کے لیے استعمال کیا۔ تم نے میرے فیصلے کا انتظار کرنے کے بجائے اپنے دل میں بغاوت کا ارادہ پال لیا۔ تمہارے ہاتھ ابھی تلوار تک نہیں پہنچے تھے، مگر تمہاری نیت تمہیں بہت آگے لے جا چکی تھی۔‘‘
پھر اس نے سب سے چھوٹے شہزادے کو اپنے قریب بلایا اور اسے سلطنت کا ولی عہد مقرر کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس کے سر پر جانشینی کا تاج رکھا گیا تو دربار میں مبارک باد کی صدائیں بلند ہوئیں۔ بادشاہ کے چہرے پر اطمینان تھا، کیونکہ اس نے اپنے بعد سلطنت کی امانت ایک ایسے شخص کے سپرد کر دی تھی جس نے تھوڑے سے اختیار کو بھی اپنی بڑائی نہیں بلکہ دوسروں کی بھلائی کا ذریعہ بنایا تھا۔

حاصلِ سبق:

یہ دنیا بھی ایک امتحان گاہ ہے۔ انسان کو جو کچھ ملتا ہے، وہ محض انعام نہیں ہوتا بلکہ اس کے ساتھ ایک ذمہ داری بھی وابستہ ہوتی ہے۔ کسی کو دولت ملتی ہے، کسی کو اقتدار، کسی کو علم، کسی کو عزت اور کسی کو لوگوں کے دلوں پر اثرانداز ہونے کا موقع۔ اصل سوال یہ نہیں کہ انسان کو کیا ملا، بلکہ یہ ہے کہ اس نے ملنے والی نعمت کے ساتھ کیا سلوک کیا۔
صاف نیت والا شخص تھوڑے اختیار میں بھی امانت داری دکھاتا ہے، جبکہ بری نیت رکھنے والا بڑے سے بڑے منصب کو بھی اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اسی لیے انسان کی نیت اس کے کردار اور عمل کی سمت متعین کرتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی حدیثِ مبارکہ کا مفہوم ہے: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ اللہ تعالیٰ انسان کے ظاہر ہی کو نہیں، اس کے دل کے ارادوں کو بھی جانتا ہے۔ دنیا میں کبھی انسان کو اس کی نیت کے مطابق نتیجہ ملتا ہے اور کبھی اس کے ارادے ہی اس کے انجام کی بنیاد بن جاتے ہیں۔

اس لیے اپنی نیت کو صاف رکھیے۔ اختیار ملے تو اسے خدمت بنائیے، دولت ملے تو اسے خیر کا ذریعہ بنائیے، اور عزت ملے تو اسے عاجزی میں ڈھالیے۔ کیونکہ اچھی نیت انسان کے تھوڑے سے عمل کو بھی بابرکت بنا دیتی ہے، جبکہ بری نیت بڑے سے بڑے کارنامے کو بھی بے وقعت کر سکتی ہے۔
یاد رکھیے، انسان اپنی خواہش کے مطابق سب کچھ حاصل نہیں کر سکتا، مگر اپنی نیت اور کردار کے ذریعے یہ ضرور طے کرتا ہے کہ وہ جو کچھ حاصل کرے گا، اس کا اہل بھی ہے یا نہیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner