کہتے ہیں، کسی زمانے میں پہاڑوں، دریاؤں اور زرخیز میدانوں کے درمیان ایک ایسی سرزمین آباد تھی جہاں چھوٹی چھوٹی ریاستیں ایک دوسرے کے خون کی پیاسی تھیں۔ کہیں تخت کے لیے بھائی بھائی کا دشمن بنا ہوا تھا، کہیں زمین کے ایک ٹکڑے پر نسلیں لڑ رہی تھیں، اور کہیں ایک معمولی سردار اپنے چند گھڑ سواروں کے بل پر خود کو بادشاہ کہلواتا تھا۔
ہر طرف تلواروں کی جھنکار تھی، گھوڑوں کی ٹاپیں تھیں اور ان ماؤں کی آہیں تھیں جن کے بیٹے میدانِ جنگ سے کبھی واپس نہیں آتے تھے۔
انہی دنوں ایک نوجوان سپاہی شاہی فوج میں بھرتی ہوا۔ اس کے پاس نہ کوئی خاندانی نام تھا، نہ کسی رئیس کی سرپرستی اور نہ ہی دولت کے انبار۔ اس کی واحد پونجی اس کا عزم، اس کی تلوار اور اپنی صلاحیت پر بھروسا تھا۔
وہ ان سپاہیوں میں سے نہیں تھا جو حکم سن کر صرف سر جھکا دیتے ہیں؛ وہ حکم کے پیچھے چھپی حکمت کو بھی سمجھنے کی کوشش کرتا تھا۔ وہ جنگ میں بہادری دکھاتا، مشکل وقت میں اپنے ساتھیوں کا ساتھ دیتا اور شکست کے بعد بھی حوصلہ نہ ہارتا۔ رفتہ رفتہ اس کی قابلیت کے چرچے ہونے لگے۔ پہلے اسے دستے کی قیادت ملی، پھر لشکر کی ذمہ داری اور آخرکار وہی سپاہی فوج کا سپہ سالار بن گیا۔
لیکن اس کی منزل ابھی دور تھی۔
ریاست کا بوڑھا بادشاہ وفات پا گیا تو تخت کے لیے شاہی خاندان میں خونریز جنگ چھڑ گئی۔ وزیروں نے اپنے اپنے امیدوار کھڑے کر لیے، لشکر کئی حصوں میں بٹ گیا اور دارالحکومت میں قتل و غارت کا بازار گرم ہو گیا۔
اس افراتفری میں اس سپہ سالار نے نہ صرف شہر کو تباہی سے بچایا بلکہ بکھرتے ہوئے لشکر کو بھی متحد کر دیا۔ اس نے سرکش سرداروں کو شکست دی، بغاوتوں کا خاتمہ کیا اور عوام کو ایک ایسا نظم دیا جس کا انہوں نے مدتوں سے خواب دیکھا تھا۔
بالآخر دربار کے بزرگوں، فوج کے سرداروں اور ریاست کے نمائندوں نے متفقہ طور پر اسے تخت پر بٹھا دیا۔
یوں ایک معمولی سپاہی سلطنت کا بادشاہ بن گیا۔
مگر وہ ان بادشاہوں میں سے نہیں تھا جن کے لیے تخت صرف سونے اور جواہرات کا بنا ہوا ایک بلند مقام ہوتا ہے۔ اسے معلوم تھا کہ اس مقام تک پہنچنے کے لیے کتنے لوگوں نے جانیں دی ہیں، کتنی راتیں اس نے جاگ کر گزاری ہیں اور کتنی بار موت اس کے گھوڑے کے قدموں تک آ پہنچی تھی۔
اس نے تاج پہنا تو اسے اپنی کامیابی سے زیادہ اس ذمہ داری کا احساس ہوا جو اس تاج کے ساتھ آئی تھی۔
اس کے بعد اس نے اپنی زندگی کے اگلے کئی برس ایک ہی مقصد کے لیے وقف کر دیے: بکھری ہوئی سرزمین کو متحد کرنا۔
اس نے چھوٹی چھوٹی ریاستوں کے حکمرانوں کو کبھی مذاکرات سے، کبھی سیاسی تدبیر سے اور کبھی میدانِ جنگ میں شکست دے کر اپنی سلطنت میں شامل کیا۔ جہاں ممکن ہوا، اس نے مخالف سرداروں کو عہدے دے کر اپنے ساتھ ملایا؛ جہاں بغاوت ہوئی، وہاں اس نے اپنی فوج بھیجی۔ اس نے تجارتی راستے محفوظ کیے، شاہراہیں تعمیر کروائیں، فوج کو منظم کیا اور مختلف علاقوں کے درمیان ایسے تعلقات قائم کیے کہ لوگ پہلی مرتبہ خود کو ایک بڑی ریاست کا حصہ سمجھنے لگے۔
دیکھتے ہی دیکھتے وہ چھوٹی سی ریاست ایک عظیم سلطنت میں تبدیل ہو گئی۔
اس کے جھنڈے دور دراز پہاڑوں پر لہرانے لگے۔ اس کے سکے کئی ملکوں کے بازاروں میں چلنے لگے۔ اس کے قاصد ہفتوں کے سفر کے بعد ایسی سرحدوں تک پہنچتے جہاں کبھی اس کے نام سے کوئی واقف نہ تھا۔
وہ بادشاہ جس نے کبھی ایک سپاہی کی حیثیت سے دوسروں کے حکم پر تلوار اٹھائی تھی، اب اس کی ایک جنبشِ ابرو پر ہزاروں تلواریں نیام سے باہر آ جاتی تھیں۔
لیکن وقت کا پہیہ کسی بادشاہ کے لیے نہیں رکتا۔
سال گزرتے گئے۔ اس کے بال سفید ہونے لگے، قدموں میں لڑکھڑاہٹ آنے لگی اور وہ ہاتھ جس نے کبھی میدانِ جنگ میں تلوار تھام کر دشمنوں کے لشکر الٹ دیے تھے، اب شاہی عصا کے سہارے چلنے لگا۔
ایک شام وہ اپنے محل کی بلند چھت پر کھڑا اپنی سلطنت کو دیکھ رہا تھا۔ دور تک پھیلے شہر، سرسبز کھیت، آباد بازار اور سرحدوں پر کھڑے قلعے اس کی زندگی بھر کی محنت کی داستان سنا رہے تھے۔
اس نے اپنے قریب کھڑے درباری مؤرخ سے پوچھا، ’’تم نے تاریخ کے بے شمار بادشاہوں کے حالات پڑھے ہیں۔ بتاؤ، تمہیں کیا لگتا ہے؟ میری یہ سلطنت کب تک قائم رہے گی؟‘‘
مؤرخ نے ایک لمحے کے لیے بادشاہ کی طرف دیکھا۔ وہ جانتا تھا کہ اس سوال کا جواب بادشاہ کی طبیعت پر گراں گزر سکتا ہے، مگر وہ اپنے پیشے کے ساتھ بے وفائی نہیں کرنا چاہتا تھا۔
اس نے مؤدب انداز میں عرض کیا، ’’عالم پناہ! آپ کی سلطنت یقیناً عظیم ہے، مگر تاریخ کے اصول کسی ایک بادشاہ کے لیے تبدیل نہیں ہوتے۔ ایک دن یہ سلطنت بھی ختم ہو جائے گی۔‘‘
بادشاہ کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
اس نے تیز نگاہوں سے مؤرخ کو دیکھا اور کہا، ’’تم جانتے بھی ہو کہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے اپنی جوانی اس سلطنت کے لیے قربان کی ہے۔ میں نے بکھرے ہوئے علاقوں کو متحد کیا، دشمنوں کو شکست دی، اپنے خون سے اس کی بنیادیں مضبوط کیں۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ میری محنت کا یہ نتیجہ بھی ایک دن مٹی میں مل جائے گا؟‘‘
مؤرخ نے سر جھکا کر جواب دیا، ’’حضور! میں آپ کی محنت کا انکار نہیں کرتا۔ میں تو صرف تاریخ کی گواہی پیش کر رہا ہوں۔ دنیا میں ایسی سلطنتیں قائم ہوئی ہیں جن کی سرحدیں سمندروں سے آگے تک پھیلی تھیں، مگر آج ان کے کھنڈرات پر گھاس اگتی ہے۔ ان کے بادشاہوں کے نام کتابوں میں باقی ہیں، مگر ان کے تختوں پر کوئی نہیں بیٹھتا۔‘‘
بادشاہ خاموش ہو گیا۔
اس رات اسے نیند نہ آئی۔ اس نے زندگی میں بہت سے دشمنوں کو شکست دی تھی، مگر آج اسے پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ ایک دشمن ایسا بھی ہے جسے نہ تلوار سے شکست دی جا سکتی ہے، نہ لشکر سے روکا جا سکتا ہے اور نہ ہی خزانے کے زور پر خریدا جا سکتا ہے۔
یہ وقت تھا۔
اگلی صبح اس نے اپنے سب سے تجربہ کار اور دانا وزیر کو طلب کیا۔ یہ وہی وزیر تھا جس نے اس کے ابتدائی زمانے سے لے کر سلطنت کے عروج تک ہر اہم موڑ پر اس کا ساتھ دیا تھا۔
بادشاہ نے اسے ساری بات بتائی اور پوچھا، ’’کیا واقعی میری یہ سلطنت ایک دن ختم ہو جائے گی؟ کیا میری عمر بھر کی محنت کا انجام بھی وہی ہو گا جو دنیا کی دوسری عظیم سلطنتوں کا ہوا؟‘‘
وزیر نے جواب دیا، ’’بادشاہ سلامت! اس سوال کا جواب شاید آپ کی زندگی کے سب سے اہم فیصلے میں چھپا ہوا ہے۔‘‘
بادشاہ نے حیرت سے پوچھا، ’’کون سا فیصلہ؟‘‘
وزیر نے عرض کیا، ’’آپ نے یہ سلطنت وراثت میں نہیں پائی۔ آپ نے اسے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ ایک سپاہی کی زندگی کیا ہوتی ہے، شکست کیا ہوتی ہے، بھوک کیا ہوتی ہے اور ایک ایک قدم آگے بڑھانے کے لیے کتنی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ اسی لیے یہ سلطنت آپ کے لیے محض زمین کا ایک ٹکڑا نہیں، آپ کی زندگی کا حاصل ہے۔
’’مگر آپ کے بعد جو شخص اس تخت پر بیٹھے گا، اس کے لیے یہ سلطنت پہلے ہی سے تیار ہو گی۔ اسے نہ وہ جنگیں لڑنی پڑیں گی جنہوں نے آپ کو بادشاہ بنایا، نہ وہ محرومیاں دیکھنی پڑیں گی جنہوں نے آپ کو مضبوط کیا۔ اسے وہ سب کچھ بنا بنایا مل جائے گا جسے حاصل کرنے میں آپ نے اپنی پوری جوانی صرف کر دی۔
’’اور جس چیز کو حاصل کرنے کے لیے انسان نے خود قیمت ادا نہ کی ہو، اس کی قدر سمجھنے کے لیے اسے زیادہ محنت درکار ہوتی ہے۔‘‘
بادشاہ دیر تک وزیر کی طرف دیکھتا رہا۔
پھر بولا، ’’تو کیا تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ میرے بعد میری سلطنت ضرور بکھر جائے گی؟‘‘
وزیر نے نفی میں سر ہلایا۔
’’نہیں، عالم پناہ! میں یہ نہیں کہتا کہ سلطنت کا زوال لازمی ہے۔ میں صرف یہ کہتا ہوں کہ اس کا خطرہ اس وقت بڑھ جاتا ہے جب وارث کو تخت تو مل جائے، مگر تخت سنبھالنے کی اہلیت نہ ملے؛ خزانہ تو مل جائے، مگر اسے بھرنے کی محنت کا شعور نہ ملے؛ رعایا تو مل جائے، مگر اس کے دکھوں کا احساس نہ ملے۔ آپ کی سلطنت آپ کی محنت سے بنی ہے۔ اگر آپ کے جانشین میں وہی صلاحیت، نظم و ضبط اور ذمہ داری پیدا نہ ہوئی تو اس کے لیے اس سلطنت کو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔‘‘
یہ بات بادشاہ کے دل میں اتر گئی۔
اس کا ایک ہی بیٹا تھا، شہزادہ شہریار، جس کی عمر اس وقت صرف پانچ برس تھی۔ وہ محل کے نرم بستر پر سوتا، سونے کے پیالوں میں کھانا کھاتا اور ایسے خادموں کے درمیان پل رہا تھا جن کی پوری زندگی اس کی خدمت کے لیے وقف تھی۔
بادشاہ اکثر اسے دیکھتا تو اس کے دل میں محبت کی لہر دوڑ جاتی۔ لیکن اب اسی محبت کے ساتھ ایک خوف بھی پیدا ہو گیا تھا۔
کیا شہریار اس سلطنت کی ذمہ داری اٹھا سکے گا؟
کیا وہ اس تخت کی قدر جان سکے گا جسے اس کے باپ نے اپنی زندگی داؤ پر لگا کر حاصل کیا تھا؟
کیا وہ رعایا کے دکھ سمجھ سکے گا، جب اس نے خود کبھی بھوک نہ دیکھی ہو؟
بادشاہ نے وزیر سے کہا، ’’میں اپنے بیٹے کو اپنی سلطنت کا وارث بنانا چاہتا ہوں، مگر میں اسے ایسا وارث نہیں بنانا چاہتا جو اس سلطنت کی قدر ہی نہ جانتا ہو۔ مجھے کوئی راستہ بتاؤ۔‘‘
وزیر کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر اس نے ایک ایسی تجویز پیش کی جسے سن کر بادشاہ کے چہرے پر حیرت اور اضطراب دونوں نمودار ہو گئے۔
’’حضور! شہزادے کو کچھ عرصے کے لیے محل سے دور بھیج دیجیے۔ اسے عام لوگوں کے درمیان رہنے دیجیے۔ اسے اپنی زندگی کی ضروریات خود پوری کرنا سکھائیے۔ اسے اس دنیا کا وہ رخ دکھائیے جو شاہی محل کی دیواروں کے پیچھے چھپا ہوا ہے۔‘‘
بادشاہ نے بے یقینی سے پوچھا، ’’میرا پانچ سالہ بیٹا؟ اس محل سے باہر؟ ان لوگوں کے درمیان جنہیں نہ اس کا نام معلوم ہو، نہ اس کی حیثیت؟‘‘
وزیر نے جواب دیا، ’’جی ہاں، عالم پناہ۔ ابھی اس کی عمر ایسی ہے کہ اس کی تربیت کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ اگر اسے ہر مشکل سے بچا کر بڑا کیا گیا تو ممکن ہے وہ ہر مشکل سے گھبرانے لگے۔ اسے صرف شاہی آداب نہیں، زندگی کے آداب بھی سیکھنے چاہییں۔‘‘
بادشاہ ساری رات اس فیصلے کے بارے میں سوچتا رہا۔
ایک طرف باپ کا دل تھا جو اپنے بچے کو اپنی آنکھوں سے دور کرنے کے تصور سے ہی بے چین ہو جاتا تھا، دوسری طرف ایک حکمران کی ذمہ داری تھی جو اپنی بنائی ہوئی سلطنت کو اپنے بعد بکھرتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔
بالآخر اس نے فیصلہ کر لیا۔
چند روز بعد شہزادہ شہریار کو بتایا گیا کہ اسے کچھ عرصے کے لیے ایک دور دراز علاقے میں تعلیم حاصل کرنے بھیجا جا رہا ہے۔ شاہی قافلے کے بجائے اس کے ساتھ صرف ایک قابلِ اعتماد بزرگ خادم اور ایک تربیت یافتہ معلم روانہ کیے گئے۔ اسے شاہی لباس کے بجائے عام بچوں جیسے کپڑے پہنائے گئے، اور اس کی شناخت چھپا دی گئی۔
اسے ایک ایسے قصبے میں پہنچایا گیا جہاں کوئی اس کے باپ کو نہیں جانتا تھا، جہاں لوگ اپنے ہاتھوں سے روزی کماتے تھے اور جہاں زندگی محل کے حکم سے نہیں، موسم، محنت اور حالات کے ساتھ چلتی تھی۔
وہاں اس کا تعارف ایک یتیم بچے کے طور پر کروایا گیا جس کے والدین دنیا سے جا چکے تھے اور جسے ایک دور کے رشتے دار نے اپنے پاس رکھا تھا۔
ابتدا میں شہزادے کے لیے یہ سب ایک عجیب کھیل تھا۔ اسے توقع تھی کہ کوئی خادم اس کے جوتے اتارے گا، کوئی اس کے لیے کھانا لائے گا اور کوئی اس کی معمولی سی خواہش پر دوڑتا ہوا حاضر ہو گا۔
لیکن یہاں کوئی اسے شہزادہ نہیں سمجھتا تھا۔
صبح اسے دوسروں کے ساتھ اٹھنا پڑتا، اپنے بستر کی چادر خود تہہ کرنی پڑتی اور گھر کے چھوٹے موٹے کاموں میں ہاتھ بٹانا پڑتا۔ اگر وہ دیر سے اٹھتا تو کام رہ جاتا، اگر کام نہ کرتا تو گھر والے ناراض ہوتے، اور اگر اپنی چیزیں سنبھال کر نہ رکھتا تو انہیں تلاش کرنے کی ذمہ داری بھی اسی پر ہوتی۔
پہلے چند ہفتے اس کے لیے سخت تھے۔
وہ کبھی روٹھ جاتا، کبھی کھانے میں نخرے کرتا اور کبھی اپنے محل واپس جانے کی ضد پکڑ لیتا۔ لیکن رفتہ رفتہ اسے سمجھ آنے لگی کہ یہاں زندگی اس کے حکم کی تابع نہیں، بلکہ اسے زندگی کے اصولوں کے مطابق خود کو ڈھالنا ہے۔
پھر ایک دن اسے پہلی مرتبہ بھوک کا حقیقی مفہوم سمجھ آیا۔
قصبے میں قحط کی سی کیفیت پیدا ہو گئی تھی۔ بارشیں کم ہوئی تھیں، کھیتوں میں فصلیں سوکھ رہی تھیں اور کئی خاندانوں کے گھروں میں کھانے کے لیے کچھ نہ بچا تھا۔ جس گھر میں شہریار رہتا تھا، وہاں بھی راشن کم پڑنے لگا۔ گھر کے سربراہ نے اپنا حصہ بچوں میں تقسیم کر دیا اور خود یہ کہہ کر پانی پی لیا کہ اسے بھوک نہیں۔
شہزادے نے اس رات پہلی مرتبہ کسی باپ کو بھوکا سوتے دیکھا تھا۔ اس نے پہلے بھی محل میں غریبوں کے بارے میں سنا تھا، لیکن اس رات اسے معلوم ہوا کہ غربت صرف خالی جیب کا نام نہیں؛ یہ کبھی بچوں کے سامنے مسکرانے اور تنہائی میں بھوک برداشت کرنے کا نام بھی ہے۔
چند دن بعد وہ اپنے معلم کے ساتھ کھیتوں کی طرف گیا۔ وہاں اس نے ایک کسان کو سوکھی زمین پر ہل چلاتے دیکھا۔ کسان کے کپڑے پسینے سے بھیگے ہوئے تھے، ہاتھوں پر چھالے تھے اور چہرے پر تھکن نمایاں تھی۔
شہزادے نے پوچھا، ’’جب تمہیں معلوم ہے کہ بارش نہیں ہوئی اور فصل کے اگنے کی امید بھی کم ہے، تو تم اتنی محنت کیوں کر رہے ہو؟‘‘
کسان نے ہل روکا، اس کی طرف دیکھا اور مسکرا کر کہا، ’’بیٹا، امید نہ ہو تو محنت چھوڑ دینی چاہیے، مگر محنت چھوڑ دی جائے تو امید کے لیے راستہ بھی کہاں بچتا ہے؟ زمین آج فصل نہ دے تو کیا معلوم اگلا موسم بہتر ہو۔ ہمارا کام کوشش کرنا ہے، نتیجہ ہمارے اختیار میں نہیں۔‘‘
یہ جملہ شہزادے کے ذہن میں بیٹھ گیا۔
اس نے اگلے دن کسان کے ساتھ کام کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ پہلے تو کسان ہنسا، مگر جب اس نے بچے کی سنجیدگی دیکھی تو اسے ہل چلانے اور بیج بونے کا طریقہ سمجھانے لگا۔ چند ہی دنوں میں شہریار کے ہاتھوں پر بھی چھالے پڑ گئے۔ اسے معلوم ہوا کہ روٹی کا ایک ٹکڑا دسترخوان تک پہنچنے سے پہلے کتنے ہاتھوں کی محنت سے گزرتا ہے۔
وقت گزرتا رہا اور اس کی زندگی کے تجربات بڑھتے گئے۔
اس نے بازار میں ایسے تاجروں کو دیکھا جو قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے۔ اس نے ان مزدوروں کو دیکھا جو سارا دن کام کرنے کے باوجود اپنے بچوں کے لیے مناسب خوراک نہ خرید سکتے تھے۔ اس نے ایک جھگڑے میں دو بھائیوں کو زمین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے پر لڑتے دیکھا اور یہ بھی دیکھا کہ جب کوئی طاقتور آدمی کمزور کی زمین پر قبضہ کر لیتا ہے تو انصاف حاصل کرنا کتنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ایک بار قصبے کے کنویں پر پانی لینے کے لیے جھگڑا ہوا۔ ایک بااثر شخص نے غریب عورت کو دھکے دے کر پیچھے ہٹا دیا۔ شہریار غصے سے آگے بڑھا، مگر اس کے معلم نے اسے روک لیا۔
’’تم کیا کرو گے؟‘‘ معلم نے پوچھا۔
’’اسے سزا دوں گا!‘‘ شہریار نے جواب دیا۔
معلم نے نرمی سے کہا، ’’اگر تمہارے پاس طاقت ہو تو کسی ایک ظالم کو سزا دینا آسان ہے۔ لیکن اگر تم ایسا نظام قائم کر سکو جس میں کسی کمزور کے ساتھ ظلم کرنا ہی مشکل ہو جائے، تو یہ کہیں بڑی کامیابی ہو گی۔ یاد رکھو، انصاف صرف ظالم کو روکنے کا نام نہیں؛ کمزور کو اس کا حق دلانے کا نام بھی ہے۔‘‘
شہزادہ دیر تک اس بات پر غور کرتا رہا۔
اسے پہلی مرتبہ اندازہ ہوا کہ حکومت صرف حکم دینے یا دشمنوں کو شکست دینے کا نام نہیں۔ حکومت کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب کسی ایسے شخص کا حق محفوظ کرنا ہو جس کے پاس نہ طاقت ہو، نہ دولت اور نہ کوئی سفارش۔
اس دوران اسے اپنی ایک اور غلطی کا احساس ہوا۔
وہ اکثر غریب بچوں کو کمزور سمجھتا تھا، مگر ان میں سے کئی بچے ایسے تھے جو گھر کے کام بھی کرتے، اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی دیکھ بھال بھی کرتے اور پھر بھی پڑھنے کے لیے وقت نکال لیتے تھے۔ ان کے پاس نہ شاہی اساتذہ تھے، نہ قیمتی کتابیں، لیکن سیکھنے کی خواہش تھی۔
شہزادے نے ان کے ساتھ بیٹھ کر پڑھنا شروع کیا۔ کبھی وہ ان سے ہار جاتا، کبھی کوئی مشکل سوال اسے سوچنے پر مجبور کر دیتا۔ آہستہ آہستہ اس کا غرور کم ہونے لگا اور سیکھنے کی خواہش بڑھنے لگی۔
اب وہ کسی کام کو چھوٹا نہیں سمجھتا تھا۔
اگر گھر میں پانی ختم ہو جاتا تو وہ خود برتن اٹھا کر کنویں پر جاتا۔ اگر کسی بوڑھے کو بازار سے سامان لانے میں مشکل ہوتی تو اس کی مدد کرتا۔ اگر کسی بچے کو سبق سمجھ نہ آتا تو اسے سمجھانے کی کوشش کرتا۔
اس نے زندگی کے وہ سبق سیکھنے شروع کر دیے جو محل کے بہترین استاد بھی اسے صرف کتابوں سے نہیں سکھا سکتے تھے۔ برسوں بعد جب وہ جوان ہوا تو اس کے اندر ایک غیر معمولی تبدیلی آ چکی تھی۔ وہ پہلے سے زیادہ مضبوط تھا، مگر اس کی اصل قوت بازوؤں میں نہیں، سوچ میں تھی۔ وہ غربت کو محض ایک عدد نہیں سمجھتا تھا، بلکہ اسے ان لوگوں کے چہروں پر پڑھ چکا تھا جنہوں نے اپنی ضرورتیں چھپا کر دوسروں کی مدد کی تھی۔ وہ انصاف کو صرف ایک شاہی فرمان نہیں سمجھتا تھا، بلکہ اس کی عدم موجودگی میں لوگوں کو ذلت اٹھاتے دیکھ چکا تھا۔ایک دن اس کے معلم نے اسے بتایا کہ اب اسے اپنے وطن واپس جانا ہے۔
شہزادے نے حیرت سے پوچھا، ’’کیا میرے والد مجھے لینے آئیں گے؟‘‘ معلم نے جواب دیا، ’’تمہارے والد تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔ لیکن اس بار تم اس بچے کی حیثیت سے واپس نہیں جاؤ گے جسے محل سے بھیجا گیا تھا۔ تم ایک ایسے نوجوان کی حیثیت سے واپس جاؤ گے جس نے دنیا کو قریب سے دیکھا ہے۔‘‘ جب شہریار شاہی محل پہنچا تو بادشاہ کی عمر بہت بڑھ چکی تھی۔ وہ اپنے بیٹے کو دیکھ کر کچھ دیر تک خاموش رہا۔ اس کے سامنے وہی بچہ کھڑا تھا جسے اس نے پانچ سال کی عمر میں اپنے دل پر پتھر رکھ کر محل سے روانہ کیا تھا، مگر اس کی آنکھوں میں اب بچپن کی بے فکری کے بجائے زندگی کی سنجیدگی تھی۔
بادشاہ نے اسے اپنے قریب بلایا اور پوچھا، ’’شہریار! تم نے ان برسوں میں کیا سیکھا؟‘‘
شہزادے نے سر جھکا کر جواب دیا، ’’ابا حضور! میں نے سیکھا ہے کہ روٹی کی قدر اسے ہوتی ہے جس نے بھوک دیکھی ہو، محنت کی قدر اسے ہوتی ہے جس کے ہاتھوں پر چھالے پڑے ہوں، اور انصاف کی اہمیت اسے سمجھ آتی ہے جس نے اپنی آنکھوں سے ناانصافی دیکھی ہو۔ میں نے یہ بھی سیکھا ہے کہ کسی سلطنت کی اصل طاقت اس کے خزانوں یا لشکروں میں نہیں، بلکہ اس اعتماد میں ہوتی ہے جو اس کے لوگوں کو اپنے حکمران پر ہو۔‘‘
بادشاہ کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
اس نے اپنے بیٹے کا ہاتھ تھاما اور کہا، ’’میں نے تمہیں محل سے دور اس لیے بھیجا تھا کہ مجھے اپنی سلطنت کے مستقبل کا خوف تھا۔ میں چاہتا تھا کہ تم اس تخت پر بیٹھنے سے پہلے ان لوگوں کی زندگی دیکھو جن پر تمہیں حکومت کرنی ہے۔ آج مجھے اطمینان ہے کہ تم صرف میرے بیٹے نہیں، اس ذمہ داری کو سمجھنے والے انسان بھی بن چکے ہو۔‘‘
چند سال بعد بادشاہ نے شہریار کو سلطنت کے اہم امور میں شریک کرنا شروع کر دیا۔ اسے صوبوں کے دورے پر بھیجا گیا، عدالتی مقدمات کا جائزہ لینے کی ذمہ داری دی گئی اور اسے مختلف علاقوں کے لوگوں کے مسائل سننے کا موقع دیا گیا۔ شہزادہ ہر معاملے میں فوری حکم دینے کے بجائے پہلے حالات سمجھنے کی کوشش کرتا۔ وہ اپنے مشیروں سے اختلاف کرنے سے نہیں گھبراتا تھا اور نہ ہی کسی شخص کو صرف اس کے لباس، خاندان یا دولت کی بنیاد پر اہمیت دیتا تھا۔ بالآخر جب بوڑھا بادشاہ دنیا سے رخصت ہوا تو شہریار تخت پر بیٹھا۔ سلطنت کو ایک ایسا حکمران ملا جو نہ صرف اپنے باپ کی فتوحات کا وارث تھا بلکہ اس کی محنت کے پیچھے چھپی قربانیوں اور ذمہ داریوں کا مفہوم بھی سمجھتا تھا۔
اس نے فوج کو مضبوط رکھا، مگر جنگ کو اپنی عظمت کا واحد ذریعہ نہ بنایا۔ اس نے خزانے بھرے، مگر عوام کے حقوق کی قیمت پر نہیں۔ اس نے اپنے وزیروں کو جواب دہ بنایا، عدالتوں کو مضبوط کیا اور اس بات کی کوشش کی کہ رعایا کو انصاف حاصل کرنے کے لیے کسی بااثر شخص کے دروازے پر دستک نہ دینی پڑے۔
اس کی حکومت میں اختلافات ختم نہیں ہوئے، مسائل بھی پیدا ہوتے رہے اور اسے کئی مشکل فیصلے بھی کرنے پڑے، مگر وہ ہر مشکل میں اپنے بچپن کے ان دنوں کو یاد کرتا جب اس نے بھوک، محرومی اور بے بسی کو قریب سے دیکھا تھا۔
ایک دن اس نے اپنے بیٹوں کو اپنے پاس بلایا۔ وہ سب شاہی لباس پہنے، بہترین اساتذہ سے تعلیم حاصل کرتے اور محل کی آسائشوں میں زندگی گزار رہے تھے۔
شہریار نے ان کی طرف دیکھا اور کہا، ’’یہ سلطنت تمہاری میراث ہے، مگر اسے اپنا حق سمجھ کر کبھی اس کی قدر نہ بھولنا۔ تمہیں تاج مل سکتا ہے، لیکن تاج اٹھانے کی اہلیت تمہیں خود پیدا کرنا ہو گی۔ تمہیں خزانہ مل سکتا ہے، مگر اسے محفوظ رکھنے کی عقل تمہیں خود حاصل کرنا ہو گی۔ تمہیں رعایا پر حکومت کرنے کا اختیار مل سکتا ہے، مگر ان کا اعتماد تمہیں اپنے کردار سے جیتنا ہو گا۔‘‘
اس نے ایک لمحے کے لیے توقف کیا اور پھر کہا:
’’میں تمہیں یہ سلطنت دے سکتا ہوں، لیکن تمہیں اس سلطنت کے قابل نہیں بنا سکتا، جب تک تم خود اپنے اندر وہ صلاحیت پیدا نہ کرو۔ اگر تمہیں ہر سہولت بغیر کوشش کے ملتی رہی، ہر غلطی پر تمہیں بچایا جاتا رہا اور ہر ناکامی کا بوجھ دوسرے اٹھاتے رہے، تو تم اس وراثت کے مالک تو بن جاؤ گے، اس کے محافظ نہیں۔‘‘
شہزادے خاموشی سے اپنے باپ کی بات سنتے رہے۔
شہریار نے حکم دیا کہ اس کے بیٹوں کی تعلیم میں کتابوں کے ساتھ عملی تربیت کو بھی اہمیت دی جائے۔ انہیں انتظامی ذمہ داریاں دی جائیں، مختلف علاقوں کے مسائل سمجھنے کے لیے بھیجا جائے، محنت کی عادت ڈالی جائے اور ان کی غلطیوں کی اصلاح کی جائے۔ ان کے لیے آسانیاں ضرور پیدا کی جائیں، مگر ایسی آسانیاں نہیں جو انہیں ذمہ داری سے فرار سکھا دیں۔
وقت کے ساتھ اس کے بیٹوں نے بھی اپنی صلاحیتیں ثابت کرنا شروع کیں۔ کسی نے انتظامی امور میں مہارت حاصل کی، کسی نے تجارت اور معیشت کو سمجھا اور کسی نے فوجی نظم و ضبط میں اپنی قابلیت دکھائی۔ ان میں اختلافات بھی ہوتے، مگر انہیں اپنے فیصلوں کے نتائج کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ ان کا خاندانی نام انہیں ایک موقع تو دے سکتا ہے، کامیابی کی ضمانت نہیں۔
یوں اس سلطنت کی بنیاد صرف ایک بادشاہ کی محنت پر نہیں رہی؛ اس کے ساتھ ایک ایسی تربیت بھی جڑ گئی جس نے اگلی نسل کو اپنی ذمہ داری سمجھنے کا شعور دیا۔
اور بوڑھے شہریار نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں جب سلطنت کو دیکھا تو اسے یہ اطمینان تھا کہ اس نے اپنے بیٹوں کو صرف ایک تخت نہیں دیا، بلکہ اس تخت کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیار بھی کیا ہے۔
حاصل سبق:
اولاد کو وراثت دینا غلط نہیں، مگر وراثت کی قدر سمجھائے بغیر اسے سب کچھ دے دینا خطرناک ہے۔ دولت، جائیداد اور عہدہ آنے والی نسل کو سہارا دے سکتے ہیں، لیکن محنت، خود انحصاری، ذمہ داری اور کردار ہی اسے ان نعمتوں کا اہل بناتے ہیں۔ بچوں کے لیے راستے آسان ضرور بنائیں، مگر ان کی زندگی کا ہر قدم خود نہ اٹھائیں؛ کیونکہ جسے ہر منزل تیار مل جائے، وہ اکثر راستہ بنانے کا ہنر نہیں سیکھ پاتا۔ اپنی اولاد کو صرف کمانے کے لیے دولت نہ دیں، بلکہ دولت کمانے، سنبھالنے اور درست جگہ خرچ کرنے کی صلاحیت بھی دیں۔


