تین نصیحتیں

تین نصیحتیں



ایک شخص انتہائی غریب تھا۔ ایک دن اس نے اپنی بیوی سے مشورہ کیا کہ کسی رئیس آدمی کے ہاں ملازمت کر لے، تاکہ ان کے آنے والے بچے کا مستقبل بہتر ہو سکے۔ بیوی نے اجازت دے دی۔

ابھی ان کے ہاں پہلا بچہ بھی پیدا نہیں ہوا تھا کہ وہ اپنی جوان بیوی کو چھوڑ کر روزگار کی تلاش میں ایک دور دراز شہر چلا گیا۔ وہاں اس نے ایک رئیس آدمی کی بیس سال تک خدمت کی۔

بیس سال بعد جب اس نے گھر واپس جانے کی اجازت مانگی تو رئیس نے نہ صرف اسے خوشی سے رخصت کیا، بلکہ بہت سی بکریاں، گائیں، بھینسیں اور اونٹ دے کر مال دار بنا دیا۔

وہ اپنا مال و اسباب لے کر گھر کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں صحرا سے گزرتے ہوئے اسے ایک جھونپڑی نظر آئی، جہاں ایک درویش رہتا تھا۔ اس نے رات وہاں گزارنے کا فیصلہ کیا۔

رات کو اس نے درویش سے درخواست کی:

’’بابا جی! مجھے کوئی نصیحت کیجیے، تاکہ زندگی کے سفر میں میرے کام آئے۔‘‘

درویش نے جواب دیا:

’’میں نصیحت تو کروں گا، لیکن ہر نصیحت کی قیمت ایک اونٹ ہے۔‘‘

وہ شخص مال دار ہو چکا تھا۔ اس نے کہا:

’’بابا جی! اگر آپ کی نصیحت میرے کام آ گئی تو ایک اونٹ کیا چیز ہے؟‘‘

اس نے ایک اونٹ درویش کے حوالے کیا۔

پہلی نصیحت:

درویش نے کہا:

’’جب بھی آسمان پر ستارے ایک سیدھی قطار میں نظر آئیں تو فوراً کسی پہاڑ پر چلے جانا، کیونکہ سیلاب آنے والا ہے۔‘‘

اس شخص نے سوچا کہ یہ کیسی عجیب نصیحت ہے! لیکن خاموش رہا۔

پھر اس نے دوسری نصیحت کی درخواست کی۔ درویش نے دوبارہ ایک اونٹ طلب کیا۔ اس شخص نے ایک اور اونٹ دے دیا۔

دوسری نصیحت:

درویش نے کہا:

’’جب بھی کسی شخص کی آنکھوں میں شیطانی چمک دیکھو تو اس سے محتاط ہو جانا، کیونکہ ممکن ہے وہ تمہیں نقصان پہنچانے کی نیت رکھتا ہو۔‘‘

اس شخص نے دل میں سوچا کہ یہ نصیحت بھی کچھ خاص کام کی نہیں، مگر پھر بھی اس نے تیسری نصیحت مانگی۔

درویش نے کہا کہ اس کے لیے ایک اور اونٹ دینا ہوگا۔ اس شخص نے تیسرا اونٹ بھی دے دیا۔

تیسری نصیحت:

درویش نے کہا:

’’رات کو ہمیشہ پچھتا کر سو جانا، لیکن کبھی غصے میں آ کر کسی انسان کو قتل نہ کرنا۔‘‘

یہ سن کر اس شخص نے سوچا کہ تین قیمتی اونٹ تو ضائع ہو گئے، مگر اس نے درویش سے بحث نہ کی۔

صبح ہوئی تو وہ اپنے سفر پر روانہ ہو گیا۔ سفر طویل تھا، اور وقت گزرنے کے ساتھ وہ تینوں نصیحتیں بھی بھولنے لگا۔

پہلی نصیحت کا امتحان

کئی دن کے سفر کے بعد وہ ایک گاؤں پہنچا۔ رات کو جب وہ سونے لگا تو اس کی نظر آسمان پر پڑی۔ ستارے ایک سیدھی قطار میں دکھائی دے رہے تھے۔

اچانک اسے درویش کی پہلی نصیحت یاد آ گئی۔

وہ فوراً گاؤں والوں کو خبردار کرنے لگا:

’’جلدی کرو! پہاڑ پر چلے جاؤ، سیلاب آنے والا ہے!‘‘

گاؤں والوں نے اس کا مذاق اڑایا۔ کسی نے اس کی بات پر یقین نہ کیا۔

آخرکار وہ اپنا مال و اسباب لے کر قریبی پہاڑ پر چلا گیا اور وہیں رات گزار دی۔

صبح ہوئی تو اس نے دیکھا کہ سیلاب نے پورے گاؤں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ بہت سے لوگ اور ان کے گھر اس آفت کی نذر ہو چکے تھے۔

اسے احساس ہوا کہ درویش کی پہلی نصیحت نے اس کی جان اور مال بچا لیا تھا۔

چند دن بعد جب پانی اتر گیا تو وہ دوبارہ اپنے سفر پر روانہ ہو گیا۔

دوسری نصیحت کا امتحان

اگلے گاؤں میں اس نے ایک شخص کے گھر رات گزارنے کے لیے قیام کیا۔ میزبان بظاہر بہت خوش اخلاق اور باتونی تھا، لیکن اس کی آنکھوں میں اسے ایک عجیب سی چمک محسوس ہوئی۔

اچانک درویش کی دوسری نصیحت یاد آ گئی۔

وہ محتاط ہو گیا اور رات بھر بے چینی سے کروٹیں بدلتا رہا۔

کچھ دیر بعد اس نے ایک ترکیب سوچی۔ اس نے اپنے بستر کو اس انداز سے ترتیب دیا کہ دیکھنے والے کو محسوس ہو کہ کوئی اس میں سو رہا ہے، جبکہ وہ خود چھپ کر ایک طرف ہو گیا۔

رات کے اندھیرے میں میزبان ہاتھ میں خنجر لیے آیا اور بستر پر پے در پے وار کرنے لگا۔

یہ دیکھ کر مسافر نے اسے پیچھے سے قابو کر لیا۔ جدوجہد کے بعد اسے باندھ دیا اور صبح ہوتے ہی مقامی حکام کے حوالے کر دیا۔

یوں دوسری نصیحت نے بھی اسے ایک بڑے نقصان سے بچا لیا۔

تیسری نصیحت کا سب سے بڑا امتحان

بالآخر وہ اپنے گاؤں پہنچ گیا۔ بیس سال بعد اپنے گھر کے قریب پہنچ کر اس نے اندر جھانکا تو دیکھا کہ ایک نوجوان اس کی بیوی کے قریب دوسری چارپائی پر سو رہا ہے۔

یہ منظر دیکھ کر اس کے دل میں غصے کی آگ بھڑک اٹھی۔

اس نے سوچا:

’’میں نے بیس سال گھر سے دور رہ کر محنت کی، اپنی جوانی قربان کی، اور یہاں یہ سب ہو رہا ہے! میں اس نوجوان کو قتل کر دوں گا۔‘‘

وہ غصے میں آگے بڑھنے ہی والا تھا کہ اچانک درویش کی تیسری نصیحت یاد آ گئی:

’’رات کو پچھتا کر سو جانا، لیکن کبھی کسی انسان کو قتل نہ کرنا۔‘‘

وہ رک گیا۔

اس نے سوچا کہ پہلی نصیحت نے میری جان بچائی، دوسری نے مجھے قاتل کے ہاتھوں مرنے سے بچایا، تو تیسری نصیحت کو نظرانداز کرنا بھی عقل مندی نہیں ہوگی۔

چنانچہ اس نے اپنے غصے پر قابو پایا اور فیصلہ کیا کہ صبح ہونے پر حقیقت معلوم کرے گا۔

وہ رات گھر میں داخل ہونے کے بجائے گاؤں سے باہر ہی گزار کر سو گیا۔

حقیقت سامنے آ گئی

صبح ہوئی تو وہ گاؤں میں گیا اور لوگوں سے اپنے بارے میں دریافت کیا۔

گاؤں والوں نے بتایا کہ وہ بیس سال پہلے روزگار کے لیے گھر سے نکلا تھا۔ اس کے جانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاں ایک بیٹا عطا فرمایا، جو اب ایک مضبوط اور جوان آدمی بن چکا ہے۔

یہ سن کر اسے رات کا منظر یاد آیا۔

اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ جس نوجوان کو وہ اپنا دشمن سمجھ کر قتل کرنے جا رہا تھا، وہ دراصل اس کا اپنا بیٹا تھا!

وہ فوراً گھر گیا، اپنی بیوی اور بیٹے سے ملا اور برسوں کی جدائی کے بعد اپنے خاندان کو پا کر خوشی سے نہال ہو گیا۔

اس دن اسے سمجھ آیا کہ درویش کی تینوں نصیحتیں محض الفاظ نہیں، بلکہ زندگی بچانے والے سبق تھیں۔

حاصلِ زندگی

دوستو! بزرگوں کی نصیحتیں بظاہر معمولی یا بے معنی محسوس ہو سکتی ہیں، لیکن ان کے پیچھے عمر بھر کا تجربہ اور دانائی ہوتی ہے۔

ہر نصیحت کو آنکھیں بند کر کے ماننا ضروری نہیں، مگر اسے سمجھنا، اس پر غور کرنا اور حالات کے مطابق اس سے فائدہ اٹھانا ضرور چاہیے۔

یاد رکھیے! غصے میں کیا گیا ایک فیصلہ پوری زندگی برباد کر سکتا ہے، جبکہ چند لمحوں کا صبر آپ کو عمر بھر کے پچھتاوے سے بچا سکتا ہے۔

بڑوں کی بات تحمل سے سنیے، اپنے جذبات پر قابو رکھیے اور کسی بھی اہم فیصلے سے پہلے حقیقت جاننے کی کوشش کیجیے۔

کیونکہ بعض اوقات زندگی کا سب سے قیمتی سبق وہی ہوتا ہے جس کی اہمیت ہمیں بہت دیر سے سمجھ آتی ہے۔
#منقول

Leave a Reply

NZ's Corner