ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جنگل میں ایک ننھا خرگوش رہتا تھا، جس کی چھوٹی سی دُم تھی اور لمبے لمبے کان تھے وہ انتہائی شرارتی اور بد تمیز تھا۔ہمیشہ لوگوں کے نام بگاڑتا رہتا اور جب کبھی کوئی غصے سے ڈانٹتا تو اس کا تُرکی بہ تُرکی جواب دیتا۔اس کا نام جینو تھا۔وہ قریب ہی ایک بِل میں رہنے والے خارپشت (چوہے جیسا جانور جس کے جسم پر کانٹے ہوتے ہیں خطرے کے وقت وہ ان سے اپنا بچاؤ کرتا ہے) کو کانٹوں کا بوجھ کہہ کر پکارتا جس کا وہ بہت بُرا مناتا اور جینو سے کہتا کہ میں تمہاری ماں سے تمہاری شکایت کروں گا۔
یہ سن کر جینو کی ہمیشہ ہنسی چھوٹ جاتی اور وہ شرمندہ ہونے کے بجائے کہتا کہ ٹھیک ہے تم میرے امی ابا کو بتاؤ، میرے بہن بھائی کو بتاؤ، بلکہ میرے دادا، دادی کو بتا کر اپنا شوق پورا کر لو۔
خارپشت اپنا سا منہ لے کر چپ ہو جاتا۔
ایک دن اس نے ایک خوبصورت نیل کنٹھ کو ایک درخت پر بیٹھے دیکھا۔وہ اپنے سبز اور نیلے رنگ کے پَروں میں انتہائی جاذبِ نظر دکھائی دے رہا تھا، لیکن دُم نہ ہونے کی وجہ سے دکھی رہتا تھا۔
جینو نے قریبی جھاڑی سے سر نکالا اور نیل کنٹھ سے کہنے لگا:”جناب! کیا آج دُم گھر بھول آئے ہیں؟“
نیل کنٹھ نے غصے سے جینو کی طرف دیکھا اور بولا:”اگر تم میرے بیٹے ہوتے تو تمھیں اس بد تمیزی پر ایک تمانچا مارتا۔“
جینو نے فوراً جواب دیا:”اگر تم میرے بیٹے ہوتے تو میں تمھیں ایک نئی دُم خرید کر دیتا جو تم درزی سے سلوا لیتے۔“ یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا، لیکن ایک دن وہ غلط جگہ شرارت کر بیٹھا، جب اس نے جادوگر بونے سے بد تمیزی کی۔
بونا قریبی ایک پہاڑی کی غار میں بنے ہوئے گھر میں رہتا تھا اور جادو کے رنگوں سے تصویریں بنایا کرتا تھا۔ایک دن بونا کسی تتلی کی تصویر جادو کے رنگ سے بنا رہا تھا۔رنگ سے بھرا برش اس نے اُٹھایا ہی تھا کہ کوئی پتنگا ہاتھ سے ٹکرایا تو بونا اُچھل گیا اور رنگ بونے کے سارے جسم پر پھیل گئے۔رنگ جادو کا تھا، اس لئے ساری عمر اُتر نہیں سکتا تھا۔
وہ بونا دور سے یوں لگتا تھا جیسے کوئی آئس کریم کا کپ ہو۔جینو نے بونے کو آتا دیکھا تو کہنے لگا:”مصور صاحب! آپ کے گھر میں پانی نہیں تھا جو رنگوں سے نہا لیے؟“
بونے نے غصے سے جینو کو گھور کر دیکھا:”اگر تم نے دوبارہ بد تمیزی کی تو میں تمہارے لمبے کانوں کے لئے ایک منتر پڑھوں گا۔“ جینو نے بونے کی بات ہنسی میں اُڑا دی۔اس نے دوبارہ بونے کو چھیڑا اور پھر اپنے بِل کی طرف دوڑ گیا۔
بونے نے فوراً منتر پڑھا۔جینو اپنے بِل میں گھسنے لگا تو اسے محسوس ہوا کہ اس کے کان سخت ہو گئے ہیں۔اس نے زبردستی بِل میں گھسنے کی کوشش کی تو جینو کی ماں نے جینو کو ڈانٹا کہ تم کانوں کو نیچا کیوں نہیں کر رہے؟ تب گھبرائے ہوئے جینو نے ماں کو بتایا کہ وہ ایسا نہیں کر سکتا۔ماں نے کہا بے وقوف نہ بنو سب خرگوش ایسا کر سکتے ہیں، لیکن جینو کے کان اونچے ہی رہے، نیچے نہ ہو سکے۔
جینو کی ماں نے زور لگا کر کان موڑنے کی کوشش کی تو درد سے جینو کی چیخ نکل گئی۔ماں نے پریشان ہو کر کہا:”اب تو تم بِل میں داخل ہو ہی نہیں سکتے، جب تک تمہارے کان نیچے نہ ہوں۔آخر تم نے اپنے کانوں کے ساتھ کیا کیا ہے؟ جینو نے ڈرتے ڈرتے ماں کو سارا ماجرا سنایا۔جینو کی ماں سخت شرمندہ ہوئی اور اس نے جینو سے کہا کہ تم نے بونے کی بے عزتی کی ہے۔
تم اسی قابل ہو کہ تمھیں سزا ملے۔اب جینو کا بُرا وقت شروع ہو گیا۔کھڑے کانوں سے وہ اپنے بِل میں داخل نہیں ہو سکتا تھا۔لومڑیوں اور شکاری کتوں سے بچنے کے لئے خرگوش فوراً بِل میں گھس جاتے ہیں، لیکن اب جینو ان دشمنوں کے آنے پر زیادہ سے زیادہ کسی جھاڑی میں چھپ سکتا تھا، لیکن لومڑیاں اور کتے اسے وہاں سے نکال لیتے یا پھر کسی درخت کی کھوہ میں چھلانگ لگا سکتا تھا اور اتنی دیر تک انتظار کرتا جب تک دشمن چلا نہ جائے۔
کچھ ہی دنوں میں جینو اس زندگی سے تنگ آ گیا کہ یہ جینا بھی کوئی جینا ہے، جس میں میرے کان نہ مڑ سکتے ہوں۔“
ایک دن اُس نے دیکھا کہ بونا ایک چھوٹی سی پہاڑی پر کھڑا تصویر بنا رہا ہے تو وہ معصوم سی صورت بنا کر اس کے پاس گیا اور اس سے معافی مانگی اور اس سے وعدہ کیا کہ آئندہ کسی سے بد تمیزی نہیں کرے گا۔مہربانی کر کے وہ اس کے کان ٹھیک کر دے۔
بونے نے اسے بتایا کہ اس منتر کے توڑ کا صرف ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ میں تمھیں زور سے دھکا دوں اور تم پہاڑی سے لڑھکتے ہوئے وادی سے گر جاؤ تو تمہارے کان دوبارہ مڑ سکیں گے۔جینو نے ایک نظر کھائی کی گہرائی پر ڈالی تو اس کی گھگی بندھ گئی۔
کاش وہ بونے کو نہ چھیڑتا۔وہ گہرائی دیکھتا ہوا ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ بونے نے جھکے ہوئے جینو کی پیٹھ پر ایک لات دے ماری۔
جینو پہاڑی پر گیند کی طرح لڑھکنا شروع ہو گیا۔اس کے پاؤں کے دو ناخن ٹوٹ گئے۔ایک پیر بھی زخمی ہو گیا۔اس کی ننھی دُم پر کئی خراشیں آئیں اور لڑھکتے ہوئے اس کے کان بھی اتنی شدت سے مڑے جیسے وہ ٹوٹ ہی گئے ہوں۔
آخر وہ پہاری سے لڑھکتا ہوا نیچے پہنچا۔اب وہ بدحواس بیٹھا، خوف سے کانپ رہا تھا۔پھر اس نے اپنے آپ کو چھو کر محسوس کیا کہ وہ اب بھی زندہ ہے یا نہیں۔
اسی دوران اس کے دوست خرگوش نیمو اور کیمو اس کے قریب سے گزرے۔انھوں نے اس سے پوچھا کہ کیا تم ہمیشہ پہاڑی سے ایسے ہی اُترتے ہو؟ جینو نے انھیں غصے سے ڈانٹا، مگر وہ جینو کو چھیڑنے سے باز نہ آئے تو جینو انھیں مارنے کے لئے دوڑا، لیکن وہ قریب ہی اپنے بِل میں گھس گئے۔پیچھے پیچھے جینو بھی داخل ہو گیا۔اچانک جینو رُکا۔اس نے اپنے کانوں کو دیکھا تو خوشی سے اس کی چیخ نکل گئی:”میرے کان ٹھیک ہو گئے۔
آہا۔میرے کان ٹھیک ہو گئے۔“
وہ خوشی سے چلاتا رہا لیکن کان ٹھیک کرنے کا یہ علاج بہت تکلیف دہ تھا۔جینو کئی دن بستر پر پڑا رہا۔درد کے مارے کراہتا رہا اور جسم پر لگے زخموں کی وجہ سے وہ کئی دن بِل سے باہر نہ نکل سکا۔
”میرا خیال ہے کانوں کے ساتھ ساتھ تمہاری بدتمیزی کا علاج بھی ہو گیا ہو گا۔“ جینو کی ماں نے کہا۔
”ماں! اب میں دنیا کا سب سے فرمانبردار خرگوش بنوں گا۔“ جینو نے سر جھکا کے ماں کو بتایا۔
ماں نے خوشی سے کہا:”کیا واقعی؟“
پھر جینو کی یہ تبدیلی ہمیشہ زندگی بھر برقرار رہی۔
