ایک دفعہ کا ذکر ہے، ایک غریب شخص ریگستان میں سفر کر رہا تھا۔ اسے بہت بھوک اور پیاس 🥵 لگی تھی۔ اس کے پاس کھانا اور پانی بھی موجود نہیں تھا۔ وہ بہت پریشان تھا کہ اس ویران ریگستان میں پانی اور کھانا کہاں سے حاصل کرے۔ چلتے چلتے اس کی نظر ایک جنگلی مرغ پر پڑی۔ وہ بہت خوش ہوا 😄۔ اور مرغ کے پاس پہنچا اور اسے کہنے لگا، “چلو، کھانے کو کچھ تو ملا۔ جو قسمت میں ہو وہ مل ہی جاتا ہے 🤲۔”
مرغ نے یہ بات سن کر اسے جواب دیا، “قسمت سے زیادہ اگر تم اپنی ذہانت کا استعمال کرو تو تم اپنی قسمت کو بھی بہتر بنا سکتے ہو ✨۔”
اس شخص نے مرغ سے کہا، “تم چاہتے ہو کہ میں تمھیں نہ کھاؤں اور بھوکا رہوں؟”
مرغ نے اس شخص سے کہا، “سوچ لو، میں تمھارے لیے ایک وقت کا کھانا ہوں اگر تم مجھے نہ کھاؤ اور تھوڑا صبر کر لو تو ہو سکتا ہے تمھاری تقدیر بدل جائے اور تمھاری قسمت میں بہت بہتری ہو 🌟۔”
اس غریب شخص کو کبھی کبھار گوشت کھانے کو ملتا تھا، اس لیے وہ لالچ میں آگیا 🤤۔ اس شخص نے مرغ سے کہا، “نہیں، میں تمھیں ضرور کھاؤں گا۔ آج مجھے بہت دنوں بعد گوشت کھانے کو ملا ہے 😋۔”
اس نے سوچا، “اگر مرغ کو ذبح کرکے اس کا گوشت اپنے پاس رکھ لیتا ہوں، کیونکہ ابھی آگ جلانے کا سامان نہیں ہے اور کہیں یہ مرغا اڑ نہ جائے ۔”
اتنی دیر میں ایک اور شخص سواری پر سوار اس کے پاس سے گزرا۔ تو پہلے شخص نے اسے آواز دی اور کہا، “مجھے بہت بھوک لگی ہے اور کھانے کو کچھ نہیں ہے۔ میرے پاس یہ مرغا ہے ، لیکن آگ جلانے کا سامان نہیں، اس لیے میں اسے ابھی نہیں کھا سکتا۔ اگر تم مجھے کچھ کھانے کو دے دو تو میں اس مرغے کو ذبح کرکے تمھیں بھی کھلاؤں گا 🤝۔”
اس [دوسرے] شخص نے سوچا، “کیوں نہ کھانے کے بدلے میں اس شخص سے مرغا لے لوں اور اسے کھانا دے دوں 🥖۔ یہ بہت نایاب مرغا ہے اور اچھے داموں بک جائے گا، اور میں اور بھی ضرورت کی چیزیں خرید سکوں گا ۔”
اس گدھے پر سوار شخص نے مرغ والے سے کہا، “تم کھانا پانی لے لو اور مجھے یہ مرغ دے دو ۔”
اس شخص [پہلے والے] نے جلد بازی میں مرغ کے بدلے اس سے ایک وقت کا کھانا لے لیا اور اپنی قسمت پر بہت خوش ہوا 😄।
ریگستان سے تھوڑا آگے ایک چھوٹا سا شہر آباد تھا ۔ جہاں ایک بہت مالدار سوداگر رہتا تھا ۔ جب وہ دونوں سفر کرکے اس شہر تک پہنچے، تو وہ شخص [دوسرا والا] مرغا فروخت کرنے کے لیے اس سوداگر کے پاس گیا۔
اس سوداگر کے پاس بہت نایاب اور قیمتی مرغے تھے ۔ اس سوداگر کو اعلیٰ نسل کے مرغے پالنے کا شوق تھا۔ جب شخص مرغا لے کر اس سوداگر کے پاس پہنچا، تو سوداگر بہت خوش ہوا 😄 اور اس شخص سے منہ مانگی قیمت پر مرغا خرید لیا ، اور اسے تھیلی بھر چاندی کے سکے دے دیے۔ وہ بہت خوش ہوا بازار سے بہت سی ضرورت کی قیمتی چیزیں خریدیں ، اور کھانے کا سامان اور بہت سے سکے بچ بھی گئے۔
اور دوسرا شخص [پہلا والا] جب اس شہر پہنچا، تو اس نے لوگوں سے مدد کی اپیل کی۔ لوگوں نے اس شخص سے کہا کہ اس شہر میں ایک سوداگر ہے، وہ بہت مالدار ہے، وہ تمھاری ضرور مدد کرے گا۔
وہ شخص جب اس سوداگر کے پاس پہنچا، تو اس نے سوداگر سے کہا، “میں بہت غریب ہوں 😔 اور بہت بھوکا ہوں 🥵، مجھے کھانے کو کچھ دے دو ۔”
سوداگر نے اس غریب شخص سے کہا، “مجھے مرغوں کی دیکھ بھال کے لیے ایک شخص کی ضرورت ہے ۔ تم میرے مرغوں کی دیکھ بھال کیا کرو، اس کے بدلے میں تمھیں تین وقت کا کھانا دیا کروں گا 🍽️۔”
وہ شخص بہت خوش ہوا 😄۔ اور جب وہ مرغوں کو دانہ اور پانی ڈالنے کے لیے ان کے پاس آیا، تو اس نے دیکھا کہ وہ مرغا بھی وہاں موجود تھا!
مرغا اس شخص پر بہت ہنسا 😂، اور اس نے اس شخص سے کہا، “پہلے میں تمھاری قسمت میں تھا ، لیکن تم نے صبر نہیں کیا اور اپنی ذہانت کا استعمال نہیں کیا۔ تم مجھے اپنی قسمت سمجھ کر اپنی بھوک مٹانا چاہتے تھے ۔
لیکن دوسرے شخص نے صبر کیا اور اپنی ذہانت کا استعمال کیا ، اور مجھے فروخت کرکے بہت سے پیسے کمائے اور اپنی قسمت بہتر بنا لی 🌟
تم آج بھی صرف اپنی سوچ کی وجہ سے، صرف دو وقت کی روٹی کی خاطر اسی مقام پر ہو 😔۔ اور تم دوسروں کےمحتاج ہو ۔ اگر تم بھی صبر اور ذہانت کا استعمال کرتے تو مجھ سے بہت فائدہ حاصل کرتے ، تو آج بھی اپنی قسمت بہتر بنا سکتے تھے 🌟۔”
وہ شخص اپنی سوچ پر بہت پچھتایا 😥۔
دوسرا شخص شہر بھر سے قیمتی اور نایاب مرغے خریدتا اور سوداگر کو مہنگے داموں فروخت کرتا اور بہت مالدار ہوگیا 🤑۔
سبق
اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے:
بہت سے لوگ صرف دو وقت کی روٹی کے لیے اپنی زندگی گزار دیتے ہیں ، اور اپنی عقل اور ذہانت کا استعمال کرکے 🧠 اپنے لیے بہتری کا نہیں سوچتے۔ اس لیے وہ ہمیشہ دوسروں کے محتاج رہتے ہیں ۔۔۔۔۔
اگر آپ کو کہانی پسند آئی ہوتو کمنٹ میں ضرور بتائیں
