فروری 1250ء کی ایک ٹھنڈی صبح کے وقت، مصر کا شہر منصورہ ابھی نیند کے دھندلکے میں ڈوبا ہوا تھا۔ دریائے نیل کے پانی پر ہلکی سی کہر چھائی ہوئی تھی، مگر اس صبح کی خاموشی پر ایک عجیب بے چینی سوار تھی۔ شہر کی دیواروں پر مصری سپاہی نظریں جما کر دور دریا کے پار دیکھ رہے تھے، جہاں صلیبیوں کے کیمپ میں مشعلیں ٹمٹما رہی تھیں۔ یہ وہ لمحہ تھا جب تاریخ کے دھارے موڑ پر آ کر کھڑے تھے۔
ایک عرصے سے مصر ایوبی سلطنت کے سیاسی طوفانوں میں گھرا ہوا تھا۔ سلطان الصالح ایوب کی اچانک موت نے اقتدار کی کرسی خالی کر دی تھی، مگر ان کی اہلیہ شجرۃ الدر نے حالات کو مضبوطی سے سنبھالا۔ وہ پردے کے پیچھے رہ کر فوج کو منظم کر رہی تھیں، خاص طور پر مملوک غلام سپاہیوں کو، جو تربیت اور جنگی مہارت میں بے مثل تھے۔
دوسری طرف، فرانس کا بادشاہ لوئی نہم اپنے عظیم صلیبی لشکر کے ساتھ مصر کی سرزمین پر قدم جمائے بیٹھا تھا۔ اس کا خواب تھا کہ مصر کو فتح کر کے یروشلم تک کا راستہ صاف کرے۔ اس نے پہلے ہی ساحلی شہر دمیاط فتح کر لیا تھا اور اب منصورہ کو فتح کرنا اس کی آخری منزل تھی۔
8 فروری کی صبح، لوئی نہم نے فیصلہ کن حملے کا حکم دیا۔ اس کے بھائی رابرٹ ڈی آرٹوس نے پیش قدمی کی قیادت کی۔ صلیبی فوج نے دریا عبور کیا اور منصورہ کی طرف بڑھنے لگی۔
دیواروں پر کھڑے رکن الدین بیبرس، جو ایک نوجوان مملوک کمانڈر تھا، نے صلیبی فوج کو آتے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک چمک تھی۔ وہ جانتا تھا کہ براہ راست مقابلہ بہت مہنگا پڑے گا۔
“دروازے کھول دو،” بیبرس نے حکم دیا، “اور پھر پیچھے ہٹو۔ انھیں شہر میں آنے دو۔”
یہ ایک خطرناک چال تھی۔ جیسے ہی صلیبی فوج کا اگلا دستہ شہر میں داخل ہوا، مصری فوج نے جھاڑیوں اور گلی کوچوں میں چھپ کر حملہ کر دیا۔ یہ ایک ایسا جال تھا جو آہستہ آہستہ بند ہو رہا تھا۔
شہر کے تنگ راستوں میں، صلیبیوں کی بھاری زرہیں ان پر بوجھ بن گئیں۔ گھوڑے بدحواسی سے للکار رہے تھے۔ ہر گلی سے تیر برس رہے تھے۔ “اللہ اکبر!” کے نعروں سے فضا گونج اٹھی۔
رابرٹ ڈی آرٹوس کو احساس ہوا کہ وہ پھنس گئے ہیں، مگر اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ مملوک گھڑسوار تیرانداز تیزی سے آگے بڑھتے، تیر برساتے اور پھر فوراً پیچھے ہٹ جاتے۔ یہ ایک ایسا طریقہ جنگ تھا جس کا صلیبیوں کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
باہر، لوئی نہم دریا کے کنارے اپنی باقی فوج کے ساتھ منتظر تھا۔ جب شکست کی خبریں آنے لگیں، اس کے چہرے کا خون سوکھ گیا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کا بھائی مرچکا ہے۔
اگلے چند دن ہولناک تھے۔ صلیبی فوج میں بیماریاں پھوٹ پڑیں۔ خوراک کی قلت ہو گئی۔ آخرکار، اپریل 1250ء میں، لوئی نہم نے ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ کیا۔
یہ منظر تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ کے لیے ثبت ہو گیا: فرانس کا عیسائی بادشاہ، جسے صلیبی مقدس بادشاہ سمجھا جاتا تھا، وہ اب مملوک فوج کے سامنے بے بس تھا۔ اسے گرفتار کر لیا گیا۔
شجرۃ الدر اور مملوک کمانڈروں نے اسے رہا تو کر دیا، مگر اس کی قیمت بہت بڑی تھی: 4 لاکھ دینار (سونے کے سکے) کا بھاری تاوان اور دمیاط شہر سے دستبردار ہونا۔
جنگ المنصوریہ کا یہ واقعہ صرف ایک جنگ نہیں تھا۔ یہ ایک موڑ تھاجس کے بعد
کوئی بھی بڑی صلیبی مہم کبھی مصر کی طرف نہیں آئی۔
اسی فتح کے بعد مملوکوں نے باقاعدہ طور پر اقتدار سنبھال لیا اور مملوک سلطنت قائم کی، جو آنے والے 250 سالوں تک مضبوطی سے قائم رہی۔
بیبرس اس جنگ کے بعد تاریخ کے افق پر ابھرا اور بعد میں مصر کا عظیم سلطان بنا۔
اس صبح منصورہ کی گلیوں میں بہنے والا خون محض چند سپاہیوں کا خون نہیں تھا۔ یہ پرانی دنیا کے خوابوں کا خون تھا۔ جب لوئی نہم گرفتار ہوا، تو صلیبی جنگوں کا سنہری دور بھی اسی کے ساتھ قید ہو گیا۔ اور جب بیبرس فتح کے نعرے لگا رہا تھا، تو درحقیقت وہ ایک نئی تاریخ کے جنم کا اعلان کر رہا تھا۔
