جنگ جمل۔۔۔🙂!

جنگ جمل۔۔۔🙂!

سن 656ء کی وہ صبح مدینہ کے لیے عام صبح نہ تھی۔ گلیاں خاموش تھیں، دل غم سے بوجھل تھے اور آنکھوں میں خوف اور بے یقینی صاف نظر آتی تھی۔ خلیفۂ سوم حضرت عثمان بن عفانؓ کی شہادت نے پوری امت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ یہ صرف ایک عظیم صحابی کی شہادت نہ تھی بلکہ اسلامی ریاست کے امن و اتحاد پر کاری ضرب تھی۔ ایسے نازک وقت میں اہلِ مدینہ کی نگاہیں حضرت علی بن ابی طالبؓ پر جا ٹھہریں، جنہیں بالآخر خلافت کی ذمہ داری قبول کرنا پڑی۔
خلافت کی ذمہ داری اور بگڑے حالات
حضرت علیؓ نے خلافت قبول کرتے وقت صاف الفاظ میں فرمایا کہ وہ کتاب اللہ اور سنتِ رسول ﷺ کے مطابق حکومت کریں گے۔ مگر ان کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ حضرت عثمانؓ کے قاتلوں کا تھا، جو مختلف گروہوں میں بکھر چکے تھے اور خود کو طاقتور سمجھنے لگے تھے۔ حضرت علیؓ کی رائے تھی کہ جب تک ریاستی نظم بحال نہ ہو اور اصل مجرموں کی درست شناخت نہ ہو جائے، فوری قصاص مزید خونریزی کا سبب بن سکتا ہے۔
انصاف کا مطالبہ اور بصرہ کا سفر
دوسری طرف امّ المؤمنین حضرت عائشہؓ، جن کے دل میں بھی حضرت عثمانؓ کی شہادت کا گہرا دکھ تھا، یہ محسوس کر رہی تھیں کہ اگر قاتلوں کو فوری سزا نہ ملی تو فتنہ مزید پھیل جائے گا۔ ان کے ساتھ جلیل القدر صحابہ حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ بھی تھے، جو ابتدا میں حضرت علیؓ کی بیعت کر چکے تھے مگر بعد میں حالات کے پیش نظر قصاص کے مطالبے کے لیے سرگرم ہوئے۔
یہ قافلہ مدینہ سے مکہ اور پھر بصرہ کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں لوگوں کو حضرت عثمانؓ کی مظلومانہ شہادت یاد دلائی جاتی رہی اور انصاف کے قیام کی بات کی جاتی رہی۔ اس سفر کا مقصد حکومت کا تختہ الٹنا نہ تھا بلکہ امت کو ایک متفقہ مؤقف پر جمع کرنا تھا۔
بصرہ میں حالات اور صلح کی کوششیں
جب حضرت علیؓ کو بصرہ کے حالات کی خبر ملی تو وہ بھی فوج کے ساتھ وہاں پہنچے۔ دونوں لشکر بصرہ کے قریب آمنے سامنے ٹھہر گئے۔ فضا میں تناؤ ضرور تھا مگر دلوں میں دشمنی نہیں تھی۔ حضرت علیؓ نے حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ سے ملاقات کی، انہیں رسول اللہ ﷺ کی احادیث یاد دلائیں اور امت کے اتحاد کی اہمیت پر گفتگو کی۔
یہ بات چیت اتنی مؤثر ثابت ہوئی کہ صلح کا قوی امکان پیدا ہو گیا۔ طے پایا کہ صبح ہوتے ہی ایک مشترکہ لائحۂ عمل اختیار کیا جائے گا تاکہ قاتلوں کو قانون کے مطابق سزا دی جا سکے۔ رات امن و سکون کے ساتھ گزرتی نظر آ رہی تھی۔
فتنہ پروروں کی سازش
مگر وہ لوگ جو حضرت عثمانؓ کے قتل میں ملوث تھے، اس صلح سے خوف زدہ ہو گئے۔ وہ جانتے تھے کہ امن قائم ہو گیا تو ان کا انجام قریب ہے۔ چنانچہ انہوں نے رات کے اندھیرے میں دونوں لشکروں پر اچانک حملہ کر دیا۔ ہر طرف شور مچ گیا، تلواریں نکل آئیں اور ہر فریق یہ سمجھنے لگا کہ دوسرے نے عہد شکنی کر دی ہے۔
یوں وہ جنگ، جس سے سب بچنا چاہتے تھے، اچانک بھڑک اٹھی۔
میدانِ جمل
جنگ کا مرکز وہ اونٹ بن گیا جس پر حضرت عائشہؓ سوار تھیں۔ ان کا خیمہ اسی کے قریب تھا اور لوگ انہیں تحفظ دینے کے لیے جمع تھے۔ اسی وجہ سے یہ معرکہ تاریخ میں جنگِ جمل کہلایا۔ لڑائی شدید تھی، دل دہلا دینے والی تھی، کیونکہ مسلمان مسلمان کے خلاف صف آرا تھے۔
حضرت علیؓ مسلسل یہ کوشش کر رہے تھے کہ جنگ رک جائے۔ وہ اپنے لشکر کو غیر ضروری خونریزی سے روکتے رہے۔ بالآخر جب اونٹ کو بٹھا دیا گیا تو لڑائی تھم گئی اور میدان خاموش ہو گیا۔
جنگ کے بعد کا منظر
فتح کے بعد حضرت علیؓ کا رویہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ انہوں نے اعلان کیا:
جو ہتھیار ڈال دے وہ محفوظ ہے
کسی زخمی پر حملہ نہ کیا جائے
کسی کا مال لوٹا نہ جائے
انہوں نے خود زخمیوں کی خبر گیری کا حکم دیا، حتیٰ کہ مخالف لشکر کے زخمیوں کا بھی علاج کروایا گیا۔ قیدیوں کو رہا کیا گیا اور کسی سے انتقام نہ لیا گیا۔
حضرت علیؓ نے امّ المؤمنین حضرت عائشہؓ کے لیے باوقار اور باپردہ سواری کا انتظام کیا اور اپنے بھائی حضرت محمد بن ابی بکرؓ کو ان کے ساتھ روانہ کیا تاکہ وہ بحفاظت مدینہ پہنچ جائیں

Leave a Reply

NZ's Corner