جوتےکا مقدمہ۔

جوتےکا مقدمہ۔



عصر کی نماز پڑھ کر گھر آیا تو صحن میں ایک مسکین سی عورت آنسو بہا رہی تھی۔ میں سمجھا، مریضہ ہیں۔

پوچھا، “کیا ہوا تمہیں؟”

وہ بولیں، “میرے بیمار بھائی اور ابو کو پولیس پکڑ کر لے گئی ہے۔”

میں نے کہا، “بہن، یہ پولیس کچہریوں کے چکر میں مت ڈالو۔ میرے پاس ان کاموں کے لیے وقت نہیں۔”

اس کے بعد میں مرغی دانہ تیار کرنے سٹور میں چلا گیا۔ میرا خیال تھا کہ وہ خاتون اٹھ کر چلی گئی ہوں گی، لیکن یہ میری بھول تھی۔ وہ اندر لاؤنج میں گئی تھیں اور بیگم صاحبہ کو بھڑکا رہی تھیں۔

کچھ ہی دیر میں بیگم صاحبہ تشریف لائیں۔ ہاتھ میں چمٹا تھا اور پیچھے پیچھے ٹسوے بہاتی وہ عورت-

اگرچہ فقیر کچن یوٹینسل سے نہیں ڈرتا مگر حالات دیکھنا پڑتے ہیں- بمشکل کمر پکڑ کر اٹھا اور اپنے تئیں اکڑ کر کہا ، ہم صرف علاج کرواتے ہیں، مقدمے نہیں لڑتے-

وہ چمٹا لہرا کر بولیں، “تم جاتے ہو تھانے یا میں خود جاؤں؟”

میں نے کھنگار کر کہا، “ٹھیک ہے، لیکن یہ تو معلوم ہو کہ کیس کیا ہے؟ یہ نہ ہو کہ میں بھی دھر لیا جاؤں۔”

فرمایا، “ان کے ڈنگر کسی جوتے کے کھیت میں گھس گئے تھے۔ اس نے تھانے میں رپٹ  کرا دی ہے۔”

(جوتا ایک جانگلی قوم ہے۔)

میں نے ہمت کر کے کہا، ” بہت اچھا کیا جوتے نے۔ کسان بیچارہ دن رات ایک کر کے کھیت سینچتا ہے، اور فصل آتی ہے تو یہ لوگ ریوڑ لے کر پہنچ جاتے ہیں۔ میری اپنی تِل کی فصل بکریاں کھا گئیں اور اب ان جیسوں کے کیس بھی لڑوں؟ “

ٹھیک ہے- تم رکشہ منگواؤ- میں برقعہ پہنتی ہوں- اگرچہ کام مردوں کا ہے- اس بیچاری کا بوڑھا باپ دل کا مریض ہے اور تھانے میں پڑا ہے- چھڑاتے ہو کہ نہیں؟

میں شش و پنج میں پڑ گیا کہ کیا کروں۔ ایک تو عصر کے بعد مجھے اپنی مرغیوں کا دانہ لے کر ڈیرے پر جانا ہوتا ہے، دوسرا تھانے سے اپنی جان نکلتی ہے، کیونکہ وہاں سے سیدھا راستہ کچہری کو جاتا ہے۔

ساتھ وہ خاتون رونے لگیں تو میرا دل پسیج گیا۔ بس، یہاں دل کے ہاتھوں مار کھا جاتا ہوں ورنہ میں بہت تگڑا مرد ہوں-

میں نے کہا، “کسان کا نام بتاؤ جس نے رپٹ کرائی ہے؟”

وہ بولی، “یونس جوتا۔”

میں نے کہا، “ارے، وہ تو کلاس فیلو ہے اپنا ! پانچویں تک اکٹھے پڑھے ہیں۔ ایک ہی ٹاٹ پہ- بچپن سے ہی لڑاکو ہے- کل ہی تو اڈے پہ ملا   ہے۔ فون نمبر دے اس کا، بات کرتا ہوں۔”

لیکن اس بدنصیب کے پاس نمبر تو کیا، موبائل بھی نہیں تھا۔

چاروناچار بائیک پکڑی- دانہ ہینڈل کے ساتھ لٹکایا، ریحان کو پیچھے بٹھایا اور تھانے کی طرف نکل گیا۔

تھانے کی عمارت نئی بن چکی ہے۔ پہلی والی سکول جیسی عمارت گرا کر تین منزلہ عمارت کھڑی کی گئی ہے۔ ٹائپ رائٹر کی کھٹ کھٹ کی جگہ کمپیوٹر سکرینوں کی چم چم نے لے لی ہے- وردی تک بدل چکی ہے پولیس والوں کی-

احاطے میں بہت سے لوگ ٹولیاں بنا کر کھڑے تھے- مختلف دیہات کے باسی- جن کا کام ہر جھگڑے میں کسی نہ کسی پارٹی کا ساتھ دینا ہوتا ہے-

گاؤں میں کوئی جھگڑا ہو جائے تو فریقین سیاسی حمایت کےلیے اپنے تعلق داروں کو بلا لیتے ہیں- یہ لوگ تھانے کچہری جا کر پولیس پرنفسیاتی پریشر ڈالتے ہیں-

گاؤں میں لڑائی نہ ہو تو  فارغ لوگ اداس ہو جاتے ہیں- ظاہر ہے جھگڑا ہو گا تو کھانا پینا چلے گا- پرچہ ہو گا تو پیٹ کا سامان ہو گا-

احاطے میں کھڑی سب ٹولیاں میری طرف دیکھنے لگیں کہ میں  کس پارٹی کی طرف سے آیا ہوں- میں نے بھی جوتے کی تلاش میں ادھر ادھر نظر نگاہ دوڑائی مگر دکھائی نہ دیا-

خیر آگے بڑھا اور ایک برامدہ نما عمارت میں چلا گیا جہاں دونوں طرف دفاتر تھے- سامنے تین منزلہ عمارت تھی- یہاں کھڑا سوچنے لگا کہ کس سے پوچھوں اور کیا پوچھوں؟نجانے وہ جوتا کون سی منزل پر بیٹھا اپنا کیس لڑ رہا ہو گا؟

بالآخر ایک آشنا چہرہ نظر آیا۔ اپنے ہی گاؤں کا ایک آدمی۔ لپک کر اس کے پاس گیا اور پوچھا ، یہاں جوتوں اور کھوکھروں کا ایک کیس آیا ہے- کچھ پتا ہے کہاں ہیں وہ لوگ؟ “

وہ پریشان سا ہو کر بولا، آپ کس کی طرف سے آئے ہو؟
میں نے کہا ، فی الحال تو جوتے کی طرف آیاہوں کہ کلاس فیلو ہے اور اس کی فصل تباہ ہوئی ہے- اندر جا کر شاید کھوکھروں سے مل جاؤں- اوپر سے پریشر بہت ہے-

اس نے حیرت سے مجھے دیکھا اور ایک آفس کی طرف اشارہ کیا، جس پر SHO لکھا ہوا تھا- میں نے ریحان کو باہر بنچ پہ بٹھایا اور کلمہ شریف کا ورد کرتا ہوا اندر چلا گیا۔

اندر کھلی کچہری لگی ہوئی تھی۔ پندرہ بیس  لوگ کرسیاں گھیرے بیٹھے تھے- پانچ ملزمان ڈرے سہمے ایک کونے میں کھڑے تھے۔ اور یونس جوتا کسی جغادری وکیل کی طرح باؤازِ بلند اپنا مؤقف پیش کر رہا تھا۔ ایس ایچ او میز کہنیاں ٹکائے سن رہا تھا-

یونس نے کہا :

“سر! پینتیس سال سے ان کی بکریاں میرے کھیت کھا رہی ہیں- لاکھوں کا نقصان ہو چکا اور میں دیکھتا رہا۔ اب مزید چپ نہیں رہوں گا-“

اس پر ایک بوڑھا ملزم بول اٹھا، “سر! بارہ سال تو ہمیں اس گاؤں میں آئے ہوئے ہیں۔ دو سال سے کاشت کاری شروع کی ہے۔ 35 سال سے کسی اور کی بکریاں کھا رہی ہوں گی”

جوتے نے ڈانٹ کر اسے چپ کرایا اور بولا:

“تم لوگوں نے میری ایک ایکڑ فصل برباد کی ہے۔ ایک لاکھ ہرجانہ دو گے، تو چھوٹو گے- میں بھی قوم کا جوتا ہوں!”

اس پر میں کھڑا ہوا اور کہا:

“خدا کا خوف کرو یونس ! اتنا جرمانہ یہ لوگ کہاں سے دیں گے؟

اس نے چونک کر مجھے دیکھا اور سٹپٹا کر بولا، “تو کدھر سے آ گیا اس معاملے میں؟”

میں نے کہا، ” کلاس فیلو ہوں یار تیرا- ٹھنڈا کرنے آیا ہوں تجھے۔ گائے بکری کا تو کام ہے فصل میں گھسنا۔ ڈنڈے مار کے نکال دیا کرو”

وہ بولا ، تم ہو پنشنر- گھر بیٹھ کے کھاتے ہو- تمہیں کیا پتا کتنی محنت ہوتی ہے جسے یہ لوگ برباد کر کے رکھ دیتے ہیں-

میں نے کہا ، تھوڑی بہت کاشت کاری میں نے بھی کی ہے- ایک ایکڑ پہ اتنا تو خرچہ نہیں آتا جتنا تو جرمانہ مانگ رہا ہے- انصاف کرو انصاف !”

وہ سٹپٹا کر بولا”چلو لاکھ نہ دیں- پچاس تو  دیں۔ میرا نقصان ہوا ہے- ان لوگوں کو سزا تو ملنی چاہیے-  بھلے پیسہ ان سے لے کر میں مسجد میں دے دوں، مگر ہرجانہ ضرور لوں گا”

ایس ایچ او، جو پہلے ہی جوتے کی تقریر سن سن کر پکا بیٹھا تھا، بولا:

” چلو اب مدعے پر آؤ- کتنے ایکڑ فصل تھی تمہاری؟”

وہ بولا، “ایک ایکڑ۔”

“کس چیز کی فصل تھی؟”

“جوار کی۔”

“جوار کی ایک ایکڑ فصل پر کتنا خرچہ آتا ہے؟ اچھا، میں خود حساب کرتا ہوں۔ چار ہزار میں زمین تیار ہوئی، ایک ہزار بیج کا ہو گیا، پانچ ہزار کا کھاد پانی۔ ٹوٹل بارہ ہزار بنتے ہیں۔”

یونس نے انکار میں سر ہلایا۔

تھانیدار بولا، “چلو، پندرہ ہزار کر لو۔”

“نہیں سر، تھوڑے ہیں۔”

“ٹھیک ہے، پانچ ہزار اور بڑھا لو۔ بیس ہزار؟”

یونس کو شہ ملی اور بولا، ” وہ جو میں 5 دن خوار ہوا ہوں- تھانے کے دس چکر لگائے۔ پٹرول کے پیسے پھونکے ….”

تھانیدار بولا، “ٹھیک ہے۔ ڈیلی کے تین لیٹر کر لو۔ پانچ دن کے پانچ ہزار۔ پچیس ہزار لے لو۔ اب راضی؟”

یونس نے مطمئن ہو کر اثبات میں سر ہلا دیا۔

تھانیدار بولا، “ٹھیک ہے، پچیس ہزار پر فیصلہ ہو گیا۔ یہ لوگ قرآن پر پیسے رکھتے ہیں۔ تم اٹھا لو- مسجد میں جمع کرا دیں گے۔”

یونس پہلے تو ہکا بکا ہو کر تھانیدار کو دیکھتا رہا، پھر بولا:

” مجھے یہ منظور نہیں ہے !!”

اس پر تھانیدار دھاڑا:

“دفع ہو جاؤ یہاں سے !”

یونس کی روح فنا ہوئی اور وہ گولی کی طرح دفتر سے یوں نکلا جیسے کبھی ماسٹر صاحب کی چھڑی کھا کر بھاگتا تھا-

ملزمان کا سکتہ بھی ٹوٹ گیا اور وہ حیرت سے ادھر ادھر دیکھنے لگے۔

تھانیدار نے کہا، “تم لوگ کیوں کھڑے ہو؟ نکلو ادھر سے ، اور دوبارہ شکایت نہ آئے”

وہ بیچارے یوں نکلے جیسے ڈربے سے مرغیاں۔

میں بھی نکل آیا۔

باہر برامدے میں یونس جوتا ایک ستون سے کمر ٹکائے پریشان کھڑا تھا۔ خشمگین نگاہوں سے مجھے گھورتے ہوئے بولا:

“تم نے ٹھیک نہیں کیا ظفری! لیکن یاد رکھنا، میں بھی جوتا ہوں۔ ڈی پی او تک جاؤں گا۔”

میں نے کہا، “سپریم کورٹ تک جاؤ۔ میں بھی ملک ہوں۔ مقابلہ کروں گا۔”

وہ بڑبڑاتا ہوا گیٹ کی طرف چل دیا۔

سورج ابھی غروب نہ ہوا تھا۔ میں نے ریحان ملک کو بلایا، بائیک کے پیچھے بٹھایا اور کک لگا دی۔ ہم ڈیرے کی طرف جا رہے تھے، جہاں مرغیاں ہماری منتظر تھیں۔

اس قصّے کو تین دن ہو گئے- فی الحال تو خاموشی ہے- لیکن مجھے اپنی پنشن بچا کے رکھنی چاہیے- جانے کب جوتے کا مقدمہ کھڑا ہو جائے-

Leave a Reply

NZ's Corner