بہت پہلے کی بات ہے۔ ایک سرسبز و شاداب جنگل تھا، جہاں سینکڑوں درخت اپنی اپنی جگہ خاموشی سے کھڑے تھے۔ مگر ان سب میں ایک درخت سب سے نمایاں تھا۔ وہ جنگل کے عین دہانے پر، سب سے آگے کھڑا تھا۔ تنا اس کا چوڑا، شاخیں آسمان سے باتیں کرتیں، اور جڑیں زمین میں اس طرح پیوست تھیں جیسے صدیوں سے اس مٹی کی محافظ ہوں۔
جنگل کے ہر درخت کی نگاہ میں اس کا بڑا احترام تھا۔ عمر میں بھی سب سے بزرگ تھا اور ہر آندھی، ہر طوفان، ہر دھوپ اور ہر ژالہ باری سب سے پہلے اسی کے حصے میں آتی تھی۔ وہ خاموشی سے سب کچھ سہہ لیتا، مگر اپنے پیچھے کھڑے درختوں تک مصیبت کی شدت نہ پہنچنے دیتا۔
ایک سال اسی درخت کا ایک بیج زمین میں گرا، اور کچھ ہی عرصے میں ایک ننھا سا پودا اُگ آیا۔ وقت گزرتا گیا، پودا جوان درخت بن گیا۔ وہ اسی بزرگ درخت کے پیچھے کھڑا تھا۔
شروع شروع میں وہ بڑے فخر سے کہا کرتا، “میں اسی عظیم درخت کی اولاد ہوں۔”
لیکن جیسے جیسے وہ بلند ہونے لگا، اس کے دل میں ایک عجیب خلش جنم لینے لگی۔
وہ سوچتا، “آخر ہر چیز سب سے پہلے انہی کے حصے میں کیوں آتی ہے؟ صبح کی پہلی کرن انہی پر پڑتی ہے، پرندے پہلے انہی پر بیٹھتے ہیں، جنگل میں آنے والا ہر مسافر پہلے انہی کو دیکھتا ہے، ہر کوئی انہی کی تعریف کرتا ہے۔ آخر کب تک میں ان کے پیچھے کھڑا رہوں گا؟”
یہ خیال آہستہ آہستہ حسد میں بدل گیا۔
اب وہ ہر رات آسمان کی طرف دیکھ کر دل ہی دل میں دعا کرتا، “اے قدرت! اب یہ درخت بہت بوڑھا ہو چکا ہے۔ اسے اپنے پاس بلا لے، اب آگے کھڑا ہونے کا حق میرا ہے۔”
وہ سمجھتا تھا کہ بزرگ درخت کے ہٹتے ہی اس کی زندگی آسان ہو جائے گی، عزت بھی اسے ملے گی، آزادی بھی، اور سارا اختیار بھی۔
وقت گزرتا رہا، پھر ایک رات ایسا طوفان آیا جو برسوں بعد آیا تھا۔ آسمان پر بجلیاں چمک رہی تھیں، ہوائیں دیوانہ وار چیخ رہی تھیں، اور بارش زمین کو پیٹ رہی تھی۔
بزرگ درخت حسبِ معمول سینہ تان کر سب سے آگے کھڑا رہا۔
ساری رات وہ طوفان کا مقابلہ کرتا رہا۔
آخرکار ایک زوردار گرج سنائی دی
اور وہ عظیم درخت اپنی تمام عمر کی تھکن لیے زمین پر آ گرا۔
پیچھے کھڑا نوجوان درخت یہ منظر دیکھ کر اندر ہی اندر خوش ہوا۔
“آخر میری دعا قبول ہو گئی”
لیکن اس کی خوشی صرف چند لمحوں کی مہمان تھی۔
جیسے ہی سامنے سے رکاوٹ ہٹی، طوفان پوری قوت کے ساتھ سیدھا اس نوجوان درخت سے ٹکرایا۔
وہ پہلی بار جان پایا کہ سامنے کھڑا ہونا صرف عزت نہیں، ذمہ داری بھی ہوتی ہے۔
چند لمحوں بعد ایک اور شدید جھکڑ آیا۔
اس کی کمزور جڑیں وہ بوجھ نہ سہہ سکیں
اور وہ بھی جڑ سے اکھڑ کر زمین پر جا گرا۔
زمین پر پڑے پڑے اس نے پہلی بار اپنے سامنے گرے ہوئے بزرگ درخت کو دیکھا۔
اب اسے سمجھ آیا کہ وہ جسے اپنی ترقی کی رکاوٹ سمجھتا تھا، دراصل وہی اس کی زندگی کی ڈھال تھا۔
وہ بزرگ درخت سورج کی تپش بھی خود سہتا تھا، اولے بھی، آندھیاں بھی، اور طوفان بھی تاکہ اس کے پیچھے کھڑے درخت محفوظ رہیں۔
اسی لیے پورا جنگل اس کا احترام کرتا تھا۔
عمر کی وجہ سے نہیں
قربانی کی وجہ سے۔
اپنی آخری سانسوں میں نوجوان درخت کی سوکھی شاخیں ہوا کے ساتھ ہلیں، جیسے وہ خود سے کہہ رہا ہو:
“میں دعا نہیں مانگ رہا تھا… میں تو اپنے ہی خلاف بددعا کر رہا تھا۔”
اس دن جنگل کے بوڑھے برگد نے خاموشی سے کہا:
“جو نوجوان اپنے سائے کو اپنی قید سمجھنے لگتے ہیں، وہ اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ دھوپ کی شدت کا اندازہ صرف اسی دن ہوتا ہے… جس دن سایہ سر سے اٹھ جاتا ہے۔”
اور کہتے ہیں، اس جنگل میں آج بھی جب کوئی نیا پودا اپنے سے بڑے درخت کو حسرت یا بوجھ کی نگاہ سے دیکھتا ہے، تو ہوا آہستہ سے اس کے کان میں سرگوشی کرتی ہے:
“جس وجود کو تم اپنی آزادی کی رکاوٹ سمجھ رہے ہو، ممکن ہے وہی تمہاری زندگی کی حفاظت کر رہا ہو۔ بعض سائے انسان کو چھوٹا رکھنے کے لیے نہیں، محفوظ رکھنے کے لیے ہوتے ہیں۔”
حاصلِ سبق:
زندگی میں ہر وہ شخص جو ہم سے آگے کھڑا ہوتا ہے، ضروری نہیں کہ وہ ہماری ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہو۔ بہت سے بزرگ، والدین، اساتذہ اور تجربہ کار لوگ اپنی قربانیوں، مشکلات اور آزمائشوں کو خود برداشت کرتے ہیں تاکہ ہمارے لیے راستہ آسان اور محفوظ رہے۔
حسد انسان کی بصیرت چھین لیتا ہے۔ ہم اکثر دوسروں کی عزت اور مقام تو دیکھتے ہیں، مگر اس مقام تک پہنچنے کے لیے دی گئی قربانیوں کو نہیں دیکھتے۔
یاد رکھیں:
ہر عزت کے پیچھے ایک بڑی ذمہ داری اور قربانی چھپی ہوتی ہے۔
بزرگوں کا سایہ بوجھ نہیں، اللہ کی نعمت اور حفاظت ہوتا ہے۔
جس شخص کو ہم اپنی کامیابی کی رکاوٹ سمجھتے ہیں، ممکن ہے وہی ہمیں مصیبتوں سے بچا رہا ہو۔
حسد انسان کو دوسروں سے پہلے خود اپنا نقصان پہنچاتا ہے۔
سنہری بات:
“سایہ ہمیشہ روشنی کو نہیں روکتا، بلکہ دھوپ کی شدت سے بچاتا ہے۔ جو اپنے سائے کی قدر نہیں کرتے، وہ اکثر دھوپ میں کھڑے ہو کر اس کی اہمیت سمجھتے ہیں۔”
