خزانہ

خزانہ

ایک چھوٹے سے گاؤں کے کنارے مٹی کی دیواروں اور کھپریل کی چھت والا ایک سادہ سا گھر تھا۔ اس گھر میں ایک غریب آدمی اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ رہتا تھا۔ غربت اگرچہ اس کے دروازے پر مستقل دستک دیتی رہتی تھی، مگر اس کے گھر میں محبت، سکون اور قناعت کی روشنی بھی جلتی رہتی تھی۔
ایک رات اس نے عجیب خواب دیکھا۔
اسے محسوس ہوا جیسے کوئی پراسرار آواز سرگوشی کر رہی ہو:
“تمہارے گھر کے نیچے خزانہ دفن ہے۔ اسے نکالو، تمہاری قسمت بدل جائے گی۔”
صبح ہوتے ہی اس کا دل بے چین ہو گیا۔
اس نے کدال اٹھائی اور گھر کے ایک کونے میں کھدائی شروع کر دی۔
سارا دن مٹی اڑتی رہی، زمین الٹتی رہی، مگر خزانے کا کہیں نام و نشان نہ تھا۔
رات آئی تو وہ تھکا ہارا سو گیا۔
اسی رات خواب پھر آیا۔
اس بار آواز نے گھر کے دوسرے حصے کی طرف اشارہ کیا۔
صبح ہوتے ہی وہ دوبارہ کھودنے لگا۔
لیکن نتیجہ وہی نکلا — مٹی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔
اب اس کا یقین خواب پر ایمان کی حد تک پہنچ چکا تھا۔
ہر نئی رات ایک نیا اشارہ دیتی، اور ہر نئی صبح ایک نئی کھدائی شروع ہو جاتی۔
کبھی صحن کھودا گیا، کبھی کمرے کی زمین اکھاڑی گئی، کبھی دیواروں کے قریب گڑھے بنائے گئے۔
یوں ایک، دو نہیں، پورے دس مقامات کھود ڈالے گئے۔
رفتہ رفتہ گھر کا حسن مٹ گیا۔
فرش گڑھوں میں بدل گیا، دیواریں کمزور ہو گئیں، اور وہ چھت جو برسوں سے دھوپ اور بارش سے بچاتی آئی تھی، جھکنے لگی۔
آخر ایک دن گھر کا ایک حصہ منہدم ہو گیا۔
غریب آدمی ملبے کے درمیان بیٹھا سر پکڑ کر رونے لگا۔
اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور دل میں ایک ہی سوال تھا:
“خزانہ کہاں ہے؟”
اسی دوران گاؤں کا ایک بزرگ وہاں سے گزرا۔
اس نے تباہ حال گھر دیکھا اور وجہ پوچھی۔
غریب آدمی نے اپنے خوابوں اور مسلسل کھدائی کی پوری داستان سنا دی۔
بزرگ خاموشی سے سنتا رہا۔
پھر اس نے نرمی سے کہا:
“بیٹا، خوابوں میں خزانے ہوتے ضرور ہیں، مگر ان کا مقصد ہمیشہ زمین کھدوانا نہیں ہوتا۔”
غریب آدمی نے حیرت سے پوچھا:
“پھر مقصد کیا ہوتا ہے؟”
بزرگ نے ملبے کی طرف اشارہ کیا اور بولا:
“خواب تمہیں سوچنے کے لیے آئے تھے، کھودنے کے لیے نہیں۔ تم نے خواب کا مطلب سمجھنے کے بجائے صرف اس کا ظاہری اشارہ پکڑ لیا۔”
غریب آدمی خاموش ہو گیا۔
بزرگ نے آہستہ سے کہا:
“تم جس خزانے کی تلاش میں تھے، وہ شاید پہلے ہی تمہارے پاس تھا۔ یہ گھر، یہ چھت، یہ سکون، یہ خاندان یہی تمہاری اصل دولت تھی۔ مگر تم نے ایک خیالی خزانے کے پیچھے بھاگتے ہوئے اپنے موجودہ خزانے کو تباہ کر دیا۔”
یہ الفاظ تیر بن کر اس کے دل میں اتر گئے۔
اس نے پہلی بار ملبے کو غور سے دیکھا۔
وہی گھر، جسے وہ معمولی سمجھتا تھا، اب اسے کسی محل سے زیادہ قیمتی محسوس ہونے لگا۔
اس کی آنکھوں سے آنسو پھر بہنے لگے، مگر اس بار ان میں حسرت کے ساتھ ساتھ حقیقت کی پہچان بھی شامل تھی۔
بزرگ نے رخصت ہوتے ہوئے کہا:
“انسان اکثر دور کے ستاروں کی چمک میں اتنا کھو جاتا ہے کہ اپنے ہاتھ میں جلتا چراغ بھول جاتا ہے۔”
اور غریب آدمی دیر تک ان الفاظ پر غور کرتا رہا۔
سبق
ہر چمکتی ہوئی چیز خزانہ نہیں ہوتی، اور ہر خزانہ زمین کے نیچے دفن نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ہماری سب سے بڑی دولت وہ نعمتیں ہوتی ہیں جو روز ہمارے ساتھ ہوتی ہیں، مگر ہم ان کی قدر نہیں کرتے۔ اس لیے نئے خزانے کی تلاش سے پہلے اپنے موجودہ خزانے کو پہچاننا سیکھو، کیونکہ قناعت کی دولت وہ خزانہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔
#منقول

Leave a Reply

NZ's Corner