بہت پرانے زمانے کی بات ہے، جب دور دراز سلطنتوں کے درمیان سفر کئی کئی دنوں میں طے ہوتا تھا اور پہاڑوں کے دامن میں آباد چھوٹی بستیوں کے لوگ سورج نکلنے سے پہلے کام پر نکلتے اور شام کو تھکے قدموں سے گھروں کو لوٹتے تھے۔ انہی بستیوں میں ایک غریب لکڑہارا رہتا تھا۔ اس کی جھونپڑی پہاڑ کے دامن میں تھی، چھت سے بارش ٹپکتی تھی اور سردیوں میں ہوا دیواروں کی درزوں سے اندر آتی تھی۔ وہ صبح اندھیرے میں جنگل جاتا، لکڑیاں کاٹتا، بازار میں بیچتا اور شام کو آٹا، دال اور تھوڑی سی لکڑی لے کر گھر لوٹ آتا۔ اس کی بیوی کبھی بچوں کے لیے نئے کپڑوں کی خواہش کرتی تو وہ خاموش ہو جاتا، کیونکہ اس کی ساری کمائی بمشکل گھر کا چولہا جلاتی تھی۔ ایک رات شدید بارش میں اس کی جھونپڑی کی چھت کا ایک حصہ گر گیا۔ بچے سہم کر ایک کونے میں سمٹ گئے اور لکڑہارا بھیگی ہوئی چارپائی پر بیٹھا دیر تک ٹوٹی چھت کو دیکھتا رہا۔ اس رات اس نے دعا کی کہ اے اللہ اتنا مال ضرور دے کہ اس کے بچوں کو کبھی غربت کی ذلت نہ سہنی پڑے۔ کئی برس گزر گئے۔ ایک روز وہ دور پہاڑوں سے لکڑیاں کاٹ کر واپس آ رہا تھا کہ اسے ایک چٹان کے نیچے نیلی روشنی چمکتی دکھائی دی۔ قریب گیا تو وہاں پیتل کا ایک قدیم چراغ پڑا تھا، جس پر عجیب نقش بنے ہوئے تھے۔ اس نے چراغ اٹھا کر کپڑے سے صاف کیا تو اس میں سے سیاہ دھوئیں کا ایک بگولا اٹھا اور ایک عظیم الجثہ جن نمودار ہوا۔ اس کی آواز سے پہاڑ گونج اٹھے۔ ’’اے انسان! میں تین ہزار برس سے اس چراغ میں قید تھا۔ تم نے مجھے آزاد کیا ہے، اس لیے تمہاری جو خواہشات ہوگی وہ میں تمام پوری کروں گا۔ مانگو جو چاہیے۔‘‘ لکڑہارے کو اپنی ٹوٹی جھونپڑی، بچوں کے پھٹے کپڑے اور برسوں کی محرومیاں یاد آ گئیں۔ اس نے کہا، ’’مجھے اتنا سونا دے دو کہ میں اپنی غربت سے ہمیشہ کے لیے نجات پا جاؤں، اپنے بچوں کے لیے پختہ گھر بنوا سکوں اور انہیں بھوک کی فکر نہ رہے۔‘‘ جن نے ہاتھ اٹھایا اور کہا، ’’تمہارے گھر پہنچنے سے پہلے تمہاری خواہش پوری ہو جائے گی۔‘‘ لکڑہارا خوشی سے بےقرار ہو گیا۔ وہ گھر کی طرف دوڑ پڑا۔ راستے میں ایک چشمہ بہہ رہا تھا جس کے پانی پر شام کے سورج کی آخری کرنیں سونے کی طرح چمک رہی تھیں۔ پہاڑی ڈھلوانوں پر جنگلی پھول کھلے تھے اور دور پرندے اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹ رہے تھے، مگر لکڑہارے کی نگاہیں ان میں سے کسی منظر پر نہ ٹھہریں۔ اسے صرف اپنا گھر یاد تھا اور وہ سونا جس سے اس کی زندگی بدلنے والی تھی۔ جب وہ جھونپڑی میں داخل ہوا تو ایک کونے میں سونے کے سکوں سے بھرا صندوق رکھا تھا۔ وہ حیرت اور خوشی سے کانپ اٹھا۔ اس نے بیوی کو بلایا، بچوں کو سینے سے لگایا اور بار بار صندوق کھول کر سکوں کو دیکھنے لگا۔ چند ہی مہینوں میں اس نے جھونپڑی کی جگہ ایک خوب صورت مکان تعمیر کر لیا، زمین خریدی اور کاروبار شروع کر دیا۔ اب اس کے گھر میں کھانے کی کمی نہ تھی، بچوں کے تن پر نئے کپڑے تھے اور بازار میں لوگ اسے عزت سے دیکھتے تھے۔ مگر کچھ ہی عرصے بعد اسے محسوس ہونے لگا کہ اس کی دولت ابھی اتنی نہیں کہ وہ علاقے کے بڑے تاجروں میں شمار ہو سکے۔ جب وہ کسی امیر تاجر کو کئی دکانوں کا مالک دیکھتا تو اس کے دل میں خواہش اٹھتی کہ کاش اس کے پاس بھی اتنی دکانیں ہوتیں۔ جب کسی رئیس کا قافلہ گھوڑوں اور اونٹوں کے ساتھ گزرتا تو اسے اپنا مال کم دکھائی دینے لگتا۔ آخر ایک دن وہ پھر چراغ لے کر جن کے پاس پہنچا اور بولا، ’’میں اب صرف مال دار نہیں، اس سلطنت کے بڑے تاجروں میں شمار ہونا چاہتا ہوں۔ مجھے اتنی دولت دے دو کہ بازار میں کوئی مجھ سے زیادہ امیر نہ ہو۔‘‘ جن نے اس کی خواہش پوری کر دی۔ اب اس کے پاس دکانیں تھیں، گودام تھے، دور دراز شہروں میں کاروبار تھا اور اس کے نام سے تجارتی قافلے روانہ ہوتے تھے۔ لیکن دولت کے ساتھ اس کے دل میں ایک نئی تمنا نے جنم لیا۔ وہ دیکھتا کہ بڑے تاجر بادشاہ کے دربار میں بیٹھتے ہیں، ان کی رائے سنی جاتی ہے اور ان کے لیے محل کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ اسے اپنی دولت کے باوجود اپنی حیثیت کم محسوس ہونے لگی۔ اس نے پھر جن کو پکارا، ’’مجھے ایسا مرتبہ دے کہ بادشاہ خود مجھے دربار میں بلائے، میرے مشورے سنے اور سلطنت کے بڑے معاملات میں میری رائے کی قدر کرے۔‘‘ کچھ ہی عرصے میں اسے شاہی دربار میں عہدہ مل گیا۔ اب وہ ریشمی لباس پہنتا، قیمتی گھوڑے پر سوار ہوتا اور وزیروں کے ساتھ بیٹھتا تھا۔ مگر دربار میں ایک دن اس نے دیکھا کہ بادشاہ کے حکم پر پورا لشکر حرکت میں آتا ہے، شہر کے دروازے کھلتے ہیں اور دور دراز علاقوں کے حاکم اس کے سامنے سر جھکاتے ہیں۔ لکڑہارا، جو اب تاجر اور پھر درباری بن چکا تھا، دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ دولت اور مرتبہ اپنی جگہ، اصل طاقت تو بادشاہ کے پاس ہے۔ اس نے جن سے ایک بار پھر درخواست کی، ’’مجھے بادشاہ بنا دو۔ میں چاہتا ہوں کہ لوگ میرے حکم پر چلیں اور میری سلطنت دور دور تک پھیلے۔‘‘ جن نے اس کی خواہش بھی پوری کر دی۔ اب اس کے سر پر تاج تھا، سامنے تخت تھا، دربار میں وزیر تھے اور حکم بجا لانے کے لیے سپاہیوں کی قطاریں۔ مگر بادشاہ بننے کے بعد اسے ایک اور چیز کی طلب ہونے لگی۔ وہ محل کی بلند کھڑکی سے اپنے وسیع باغات، نہروں اور سرسبز میدانوں کو دیکھتا تو دل میں خواہش اٹھتی کہ یہ سب اس کی سلطنت کے بجائے پوری دنیا میں پھیلا ہوتا۔ دوسرے بادشاہوں کی فتوحات کی خبریں اسے بےچین کر دیتیں۔ وہ ایک سلطنت فتح کرتا تو دوسری کی فکر شروع ہو جاتی، ایک سرحد آگے بڑھاتا تو اس کے بعد والی سرحد اسے اپنی طرف بلانے لگتی۔ اس کے پاس تاج تھا، مگر سکون نہ تھا؛ خزانے تھے، مگر اطمینان نہ تھا؛ سلطنت تھی، مگر دل میں ابھی ایک اور سلطنت کی جگہ خالی تھی۔ برس گزرتے گئے۔ اس کے بال سفید ہونے لگے، ہاتھ کانپنے لگے اور سیڑھیاں چڑھتے ہوئے سانس پھولنے لگا۔ ایک رات وہ محل کی بالکونی میں بیٹھا دور پہاڑوں کی طرف دیکھ رہا تھا کہ اسے اپنے بچپن کی جھونپڑی یاد آ گئی۔ اسے وہ بارش والی رات یاد آئی جب اس نے پہلی بار دولت کی خواہش کی تھی۔ اس کے بعد کی ہر خواہش پوری ہوئی تھی، مگر ہر خوشی اس کے ہاتھ سے یوں پھسل گئی تھی جیسے وہ اسے دیکھنے کے لیے بھی نہ رکا ہو۔ اگلی صبح اس نے چراغ منگوایا اور جن کو پکارا۔ جن نمودار ہوا تو بوڑھے بادشاہ نے کہا، ’’میں نے غربت سے نجات مانگی تھی، پھر دولت، پھر مرتبہ، پھر بادشاہت۔ تم نے میری ہر خواہش پوری کی۔ اب مجھے ایک ایسی چیز چاہیے جو ان سب سے زیادہ قیمتی ہے۔‘‘ جن نے پوچھا، ’’کیا چاہتے ہو؟‘‘ بادشاہ نے کہا، ’’مجھے میری گزری ہوئی زندگی واپس دے دو۔ میں اسے دوبارہ جینا چاہتا ہوں۔ اس بار میں اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزاروں گا، اپنے باغوں میں بیٹھوں گا، اپنے لوگوں کے درمیان چلوں گا، بارش کو محسوس کروں گا، درختوں کا سایہ دیکھوں گا اور ہر کامیابی کے بعد اگلی منزل کی طرف بھاگنے کے بجائے کچھ دیر ٹھہروں گا۔‘‘ جن نے پہلی بار افسوس سے سر ہلایا۔ ’’یہ خواہش میری طاقت سے باہر ہے۔ میں تمہیں سونا دے سکتا ہوں، سلطنت دے سکتا ہوں، تاج دے سکتا ہوں، مگر گزرے ہوئے لمحے واپس نہیں دے سکتا۔‘‘ بادشاہ کی آنکھیں جھک گئیں۔ اس نے آہستہ سے پوچھا، ’’تو کیا میں نے اپنی زندگی ضائع کر دی؟‘‘ جن نے جواب دیا، ’’تم نے زندگی ضائع نہیں کی، مگر اسے ہمیشہ کسی اگلے دن کے لیے ملتوی کرتے رہے۔ تم نے سوچا کہ جب غریب نہ رہو گے تو خوش ہو گے؛ جب امیر ہو جاؤ گے تو سکون ملے گا؛ جب مرتبہ ملے گا تو زندگی شروع ہو گی؛ جب بادشاہ بنو گے تو دل مطمئن ہو جائے گا۔ مگر ہر منزل پر تم نے زندگی کو پھر آگے دھکیل دیا۔ تم نے بہت کچھ حاصل کیا، لیکن حاصل کی ہوئی چیزوں کے ساتھ جینا نہ سیکھا۔‘‘ بادشاہ دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔ محل کے باغ میں صبح کی ہوا چل رہی تھی۔ مالی پھولوں کو پانی دے رہے تھے، پرندے شاخوں پر چہچہا رہے تھے اور سورج کی کرنیں سنگِ مرمر کے فرش پر پھیل رہی تھیں۔ یہ سب کچھ برسوں سے اس کے پاس تھا، مگر آج پہلی بار اس نے انہیں دیکھنے کے لیے اپنے قدم روک لیے۔ اس نے جن سے کوئی نئی خواہش نہ کی۔ بس کھڑکی کے پاس بیٹھ کر طلوع ہوتے سورج کو دیکھتا رہا۔ وہ جان گیا تھا کہ زندگی کا سب سے بڑا خسارہ یہ نہیں کہ انسان اپنی منزل تک نہ پہنچے، بلکہ یہ ہے کہ وہ منزلوں کی تلاش میں اس سفر کو ہی نہ دیکھ سکے جس کا نام زندگی ہے۔
حاصلِ سبق:
رزق کمانا، ترقی کرنا اور اپنے خواب پورے کرنا زندگی کا حصہ ہیں، مگر زندگی صرف اگلی کامیابی کے انتظار کا نام نہیں۔ ہم سوچتے ہیں کہ پہلے دولت آ جائے، پھر سکون سے جئیں گے؛ پہلے نوکری مل جائے، پھر وقت نکالیں گے؛ پہلے گھر بن جائے، پھر اپنوں کے ساتھ بیٹھیں گے۔ مگر ہر منزل کے بعد ایک نئی خواہش ہمارا انتظار کر رہی ہوتی ہے۔ یوں انسان ساری عمر کل کی تیاری کرتا رہتا ہے اور آج اس کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ محنت ضرور کیجیے، رزق ضرور کمائیے، مگر اپنے رب کی نعمتوں، اپنوں کی محبت اور زندگی کے خوب صورت لمحوں کو اگلی منزل کے انتظار میں مت کھو دیجیے؛ کیونکہ دولت دوبارہ کمائی جا سکتی ہے، مگر گزرے ہوئے لمحے کبھی واپس نہیں آتے۔


