خواجے دا گواہ ڈڈو ۔ آپ اکثر یہ کہاوت سنتے ہیں تو چلیں آپ کو اس کہاوت کی تاریخ اور پس منظر بتاتے ہیں۔
کسی گاؤں میں ایک شخص رہتا تھا جسے لوگ خواجہ کہہ کر پکارتے تھے۔ خواجہ صاحب اپنی چالاکیوں اور لمبی لمبی چھوڑنے کی عادت کی وجہ سے پورے علاقے میں مشہور تھے۔ ایک بار خواجہ کا اپنے ایک پڑوسی کے ساتھ پیسوں کے لین دین پر جھگڑا ہو گیا۔ معاملہ اتنا بڑھا کہ پنچایت بلانی پڑ گئی۔
پنچایت کا منظر
گاؤں کے چوپال میں پنچایت لگی، بڑے بوڑھے حقے پی رہے تھے اور سب اس انتظار میں تھے کہ دیکھیں خواجہ اپنے دعوے کو کیسے سچ ثابت کرتا ہے۔ پنچایت کے مکھیا نے خواجہ سے پوچھا:
“خواجہ جی! آپ کہہ رہے ہیں کہ آپ نے پڑوسی کو رقم دی تھی، لیکن اس کے پاس کوئی تحریر نہیں ہے۔ کیا آپ کے پاس کوئی گواہ ہے جس نے رقم دیتے ہوئے دیکھا ہو؟”
خواجہ نے ادھر ادھر دیکھا۔ اس کے پاس کوئی سچا گواہ تو تھا نہیں، لیکن وہ ہار ماننے والوں میں سے بھی نہیں تھا۔ اسے سامنے ایک پرانا تالاب نظر آیا جس کے کنارے بہت سے مینڈک بیٹھے دھوپ سینک رہے تھے۔
خواجہ کی منطق
خواجہ نے بڑے اعتماد سے تالاب کی طرف انگلی اٹھائی اور بولا:
“مکھیا جی! اس وقت وہاں کوئی انسان تو نہیں تھا، لیکن یہ جو تالاب میں ڈڈو (مینڈک) بیٹھے ہیں، یہ سب اس بات کے گواہ ہیں۔ آپ ان سے پوچھ لیں۔”
پنچایت میں بیٹھے لوگ ہکا بکا رہ گئے۔ مکھیا نے حیرت سے پوچھا:
“خواجہ، ہوش کے ناخن لو! مینڈک کیسے گواہی دے سکتے ہیں؟ وہ تو صرف ٹرّرا سکتے ہیں۔”
خواجہ نے بڑی معصومیت سے جواب دیا:
“حضور! یہی تو بات ہے۔ جب میں نے اسے پیسے دیے تھے تو یہ سارے مینڈک زور زور سے ‘ٹرّ ٹرّ’ کر رہے تھے، جس کا مطلب تھا ‘درست ہے، درست ہے’۔ اب بھی اگر یہ ٹرّرا رہے ہیں تو سمجھ لیں کہ یہ میری گواہی دے رہے ہیں۔”
نتیجہ
خواجہ کی اس مضحکہ خیز بات پر پوری پنچایت قہقہوں سے گونج اٹھی۔ مکھیا نے مسکراتے ہوئے کہا:
“بھئی واہ! خواجے دے گواہ ڈڈو!”
یعنی جیسے خواجہ صاحب خود غیر معتبر ہیں، ویسے ہی ان کے گواہ بھی ایسے ہیں جن کی زبان کسی کو سمجھ نہیں آتی اور نہ ہی ان کی کوئی اہمیت ہے۔
تب سے یہ بات مشہور ہوگئی کہ جب کوئی شخص اپنی بات ثابت کرنے کے لیے کسی ایسی چیز یا شخص کا سہارا لے جو خود بے
وقعت ہو، تو لوگ طنزاً کہتے ہیں: “خواجے دے گواہ ڈڈو”۔
