ایک رات سلطان محمود غزنویؒ (متوفی 421ھ / 1030ء) آرام فرما رہے تھے کہ اچانک آنکھ کھل گئی۔ بہت کوشش کی کہ دوبارہ نیند آ جائے، مگر نیند جیسے روٹھ گئی ہو۔ کروٹیں بدلتے رہے، دل بے چین رہا۔
آخر خدا ترس بادشاہ کے دل میں خیال آیا:
“شاید کوئی مظلوم فریاد لے کر آیا ہو، یا کوئی بھوکا فقیر دروازے پر کھڑا ہو — اسی لیے نیند چھن گئی ہے۔”
غلام کو حکم دیا کہ باہر جا کر دیکھو۔
غلام لوٹا اور عرض کیا:
“جہاں پناہ! کوئی نہیں ہے۔”
سلطان نے پھر سونے کی کوشش کی، مگر بے چینی بڑھتی گئی۔ دوبارہ حکم دیا کہ اچھی طرح تلاش کرو۔ غلاموں نے چھان مارا، مگر کوئی نہ ملا۔
اب سلطان کو شبہ ہوا کہ شاید تلاش میں کوتاہی ہو رہی ہے۔ خود تلوار لے کر نکلے۔ تلاش کرتے کرتے ایک مسجد کے دروازے پر پہنچے۔ اندر سے آہستہ آہستہ سسکیوں کی آواز آرہی تھی۔
قریب جا کر دیکھا تو ایک شخص سجدے کی حالت میں رو رہا تھا اور یہ اشعار پڑھ رہا تھا:
اے کہ از غم ندیده خواری
از غمِ ما کجا خبر داری
خُفتہ ماندی چو بختِ ما ہر شب
تو چه دانی ز رنجِ بیداری
پھر کہنے لگا:
“سلطان کا دروازہ بند ہو تو کیا، سبحان کا دروازہ تو کھلا ہے۔ اگر محمود سو رہا ہے تو کوئی حرج نہیں، میرا رب تو جاگ رہا ہے۔”
یہ سن کر سلطان آگے بڑھے اور فرمایا:
“محمود کی شکایت کیوں؟ وہ تو ساری رات تیری تلاش میں بے چین ہے۔ بتا! کس نے ظلم کیا ہے؟”
وہ شخص روتے ہوئے بولا:
“ایک درباری نے میری عزت پامال کر دی ہے۔ نشے کی حالت میں آدھی رات کو میرے گھر آتا ہے اور میری شریکِ حیات کی عصمت پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر آپ نے انصاف نہ کیا تو قیامت کے دن میرا ہاتھ ہوگا اور آپ کا گریبان!”
یہ سن کر سلطان پر غیرتِ ایمانی اور شاہی حمیت طاری ہو گئی۔ پسینہ چھوٹ گیا۔ فرمایا:
“جس وقت وہ آئے، فوراً اطلاع دینا۔ چاہے میں سو رہا ہوں یا جاگ رہا ہوں، تمہیں مجھ تک پہنچایا جائے گا۔”
اگلی رات وہ مظلوم دربار پہنچا۔ سلطان فوراً ہتھیار لے کر اٹھے اور فرمایا:
“چلو! اس رات کے شکاری کو تلاش کریں۔”
گھر پہنچ کر اس نے جگہ بتائی۔ سلطان نے تلوار کا ایسا وار کیا کہ ظلم کی داستان وہیں ختم ہو گئی۔
پھر مظلوم کو بلایا اور فرمایا:
“اب محمود سے راضی ہو؟”
اس کے بعد دو رکعت شکرانہ ادا کی۔
فرمایا:
“گھر میں کچھ ہو تو لے آؤ۔”
وہ سوکھی روٹی لے آیا۔ سلطان نے رغبت سے کھائی اور فرمایا:
“میں نے قسم کھائی تھی کہ جب تک اس ظالم کو انجام تک نہ پہنچا دوں، رزق اپنے اوپر حرام رکھوں گا۔”
پھر فرمایا:
“میں اس خوف کے ساتھ آیا تھا کہ کہیں وہ میرا اپنا بیٹا نہ ہو۔ غرور اکثر بادشاہوں کی اولاد میں زیادہ ہوتا ہے۔ جب دیکھا کہ وہ غیر ہے تو اللہ کا شکر ادا کیا۔”
(بحوالہ: بزمِ رفتہ کی سچی کہانیاں)
✨ حاصلِ کلام:
حکمران وہی ہے جو مظلوم کی آہ سن کر بستر چھوڑ دے، جو اپنے بیٹے کو بھی انصاف کے ترازو میں تولنے سے نہ ڈرے، اور جو عدل کے لیے اپنی نیند اور آرام قربان کر دے۔
اللہ کرے ہمارے حکمران بھی ایسے عدل و انصاف کا نمونہ بنیں۔
آمین یا رب العالمین 🤲
🌸 ری ایکٹ ضرور کریں 🌸
ری ایکٹ صرف ایک کلک نہیں —
یہ احساس کی علامت ہے…
شعور کی نشانی ہے…
جذبے، اخلاق، حوصلہ افزائی، قدردانی، شکرگزاری، باہمی تعلق اور وفاداری کا اظہار ہے۔
اسے معمولی مت سمجھیں۔ سلامت رہیں۔
بارك الله بكم جميعا
اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں۔ 🌹
