ایک دور دراز گاؤں میں ایک محنتی کسان رہتا تھا جو اپنی زمین کو سرسبز بنانے کے لیے دن رات محنت کرتا تھا۔ لیکن اس کی سب سے بڑی مشکل پانی کی کمی تھی۔ ایک دن اسے معلوم ہوا کہ اس کے پڑوسی کے پاس ایک گہرا اور پانی سے بھرا کنواں ہے۔ کسان نے اپنی جمع پونجی اکٹھی کی اور امید کے ساتھ پڑوسی کے پاس جا کر کنواں خرید لیا۔
شروع میں وہ بہت خوش تھا کہ اب اس کے کھیت ہرے بھرے ہو جائیں گے۔ مگر اس کی خوشی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ جب وہ پانی نکالنے کے لیے کنویں پر گیا تو پڑوسی نے اسے روک دیا اور سخت لہجے میں کہا،
“میں نے تمہیں صرف کنواں بیچا ہے، اس کے اندر کا پانی نہیں!”
یہ سن کر کسان کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ وہ پریشان اور دکھی ہو کر انصاف کی تلاش میں بادشاہ کے دربار پہنچا۔ دربار شاندار تھا، اور وہاں ایک دانا وزیر موجود تھا جو اپنی عقل و فہم کے لیے مشہور تھا۔
وزیر نے پڑوسی کو بلوایا اور نہایت سنجیدگی سے اس کا مؤقف سنا۔ پڑوسی بڑے فخر سے بولا،
“میں نے کنواں بیچا ہے، پانی نہیں۔ پانی اب بھی میرا ہے!”
دربار میں خاموشی چھا گئی۔ پھر وزیر نے نہایت حکمت سے جواب دیا،
“اگر پانی تمہارا ہے تو پھر تم اسے اس کنویں میں کیوں رکھے ہوئے ہو جو اب کسان کی ملکیت ہے؟ تمہیں یا تو اس پانی کا کرایہ ادا کرنا ہوگا، یا فوراً سارا پانی نکال کر لے جانا ہوگا۔”
یہ سن کر پڑوسی کا چہرہ زرد پڑ گیا۔ اسے اپنی چالاکی کی ناکامی کا احساس ہو گیا۔ اس کی زبان گنگ ہو گئی، اور آخرکار وہ شرمندہ ہو کر بولا،
“مجھے معاف کر دیں، میں نے غلطی کی۔”
وہ سر جھکائے دربار سے چلا گیا، اور کسان کو اس کا پورا حق مل گیا۔ کسان خوشی خوشی واپس اپنے کھیتوں کی طرف لوٹا، جہاں اب پانی کی روانی کے ساتھ امید اور خوشحالی بھی بہنے لگی۔
دھوکہ اور فریب وقتی فائدہ دے سکتا ہے، مگر آخرکار سچائی اور انصاف ہی کامیاب ہوتے ہیں۔
